مذاکرات کیلئے تیار،مگر طاقت کی زبان قبول نہیں،جارحیت کرنیوالے پچھتانے پر مجبور ہونگے:ایرانی صدر

مذاکرات کیلئے تیار،مگر طاقت کی زبان قبول نہیں،جارحیت کرنیوالے پچھتانے  پر مجبور ہونگے:ایرانی صدر

ہم دہشتگرد نہیں ،دفاع کررہے ،ایٹم بم اسرائیل کے پاس وہاں کبھی معائنہ نہیں کیا، ایران کو جوہری توانائی چاہیے ، بم نہیں،جنرل اسمبلی سے خطاب، امریکی نمائندوں کا واک آؤٹ کینیڈا، امارات کی ایران پر پابندیاں،تہران کی فضائی پابندیوں پر ہوائی اڈے ناکارہ بنانے کی دھمکی،ہرمز میں جہاز نشانہ، بھارتی ملاح ہلاک، یمن میں 10افراد مارے گئے ، تیل مہنگا

نیویارک(نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک) ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ٹرمپ کی ایران کو تباہ کرنے کی دھمکی کے جواب میں کہا تہران کبھی بھی امریکا کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے گا، ایران اب بھی مذاکرات کیلئے تیار ہے ، مگر طاقت کی زبان قبول نہیں،جارحیت کرنے والے پچھتانے پر مجبور ہو جائیں گے ۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے آغاز پر ایرانی صدر نے شہید آیت اللہ خامنہ ای اور امریکی حملے میں شہید ہونے والے میناب سکول کے بچوں کی تصاویر دکھائیں، ایرانی صدر کی تقریر کے دوران امریکی نمائندوں نے جنرل اسمبلی سے واک آؤٹ کیا۔مسعود پزشکیان نے اپنے خطاب میں کہا کہ امریکا نے جنگ کے دوران معصوم خواتین اور بچوں کو نشانہ بنایا، جبکہ سکولوں، ہسپتالوں اور شہری انفراسٹرکچر پر بھی حملے کیے گئے ، ایرانی صوبے لامرد میں بچوں پر کلسٹر بم بھی برسائے گئے ، ٹرمپ نے ایران کو دہشت گرد قرار دیا، حالانکہ ایران خود دہشت گردی کا نشانہ بنا ہے ، امریکا نے کسی بھی بین الاقوامی قانون کی پاسداری نہیں کی۔انہوں نے کہا ہم دہشت گرد نہیں، جارحیت کے خلاف اپنا دفاع کر رہے ہیں،ایران نے اپنے دفاع کا حق استعمال کیا ہے اور جوابی کارروائی میں صرف امریکی اہداف کو نشانہ بنایا، عام شہریوں کو نہیں۔انہوں نے کہا ایران نے اپنا سر نہیں جھکایا، تاہم شہری آبادیوں کو بھی نشانہ نہیں بنایا، ان کے مطابق ملک کے دفاع کیلئے کسی کی اجازت یا منظوری کی ضرورت نہیں۔

انہوں نے کہا ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کر رہا، ایران کو جوہری توانائی چاہیے ، جوہری بم نہیں، پرامن جوہری ٹیکنالوجی ایران کی ترقی کا حصہ ہے ، تاہم جوہری طاقت کے حق پر کوئی پابندی قبول نہیں کی جائے گی۔مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اپنا حق چھوڑ کر سر نہیں جھکائے گا اور ملک کو اپنے دفاع کے لیے ضروری طاقت حاصل کرنے کا حق ہے ،ایران یہ تسلیم نہیں کرتا کہ جوہری علم چند ممالک کی اجارہ داری ہو۔انہوں نے کہا آبنائے ہرمز کو ایران کے خلاف استعمال ہونے والے ہتھیاروں کی ترسیل کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا، ایران کی آبنائے ہرمز تک رسائی محدود کی گئی، جبکہ دوسری جانب اسی راستے کے اطراف میزائل اور ٹیکنالوجی فراہم کی جارہی ہے ،ایران آبنائے ہرمز سے اپنے خلاف حملوں کی اجازت نہیں دے سکتا،ایران یہ اجازت نہیں دے گا کہ ہم سے جہاز رانی کا حق چھین لیا جائے ، حتیٰ کہ ہمارے اپنے پانیوں میں بھی،ساحلی ریاستوں کی سلامتی کو نقصان پہنچا کر جہاز رانی کی سلامتی حاصل نہیں کی جا سکتی۔اس خطے میں کوئی بھی تنہا محفوظ نہیں رہ سکتا۔ یا تو ہم مل کر سلامتی قائم کریں گے یا پھر ہم سب مل کر عدم تحفظ کا سامنا کریں گے ۔ ایرانی صدر نے مزید کہا کہ ایران مضبوط ہمسایہ ممالک چاہتا ہے اور ہمسایہ ممالک کو سکیورٹی کا حریف نہیں سمجھتا۔

مسعود پزشکیان نے غزہ کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے اسرائیل پر غزہ میں نسل کشی کا الزام بھی عائد کیا۔ انہوں نے کہا ایٹم بم اسرائیل کے پاس ہے لیکن وہاں کبھی معائنہ نہیں کیا گیا جبکہ ایران کا معائنہ کیا جا رہا ہے ،اسرائیل ہلاکتیں کرتا ہے مگر پابندیاں ایران پر عائد کی جاتی ہیں۔انہوں نے کہا ‘ہم بات چیت، سفارت کاری اور مذاکرات کیلئے تیار ہیں لیکن طاقت کی زبان قبول نہیں کریں گے ،ایران جارحیت کرنے والوں کو پچھتانے پر مجبور کرے گا۔ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی نے خطے کے ممالک کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ امریکا کی فضائی پابندیوں میں شامل ہوتے ہیں تو ان کے ہوائی اڈے بھی پروازیں چلانے کے قابل نہیں رہیں گے ۔انہوں نے کہا آپ ہمارے تاجروں کے سفر پر پابندیاں نہیں لگا سکتے ، ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہماری پروازیں نہ چلیں، ہمارا سامان فضائی راستے سے نہ آ سکے جبکہ آپ امریکیوں کے ساتھ تعاون کریں اور ہم خاموش کھڑے دیکھتے رہیں۔خیال رہے کہ ایرانی ایئرلائنز پر امریکی فضائی پابندیاں آج سے نافذ ہو گئی ہیں،متعدد ممالک کیلئے ایرانی پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں تاہم بعض ممالک اب بھی ایرانی طیاروں کو اپنے ہوائی اڈوں پر اترنے کی اجازت دے رہے ہیں۔

تہران کے ایک ٹریول ایجنٹ کے مطابق بغداد، مسقط، قطر، جارجیا اور آذربائیجان کیلئے پروازیں معطل کی گئی ہیں، تاہم چین سمیت بعض ممالک کیلئے فضائی رابطے برقرار ہیں۔ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق ایرانی ایئرلائن ماہان ایئر کی تہران سے گوانگ ژو پرواز چین پہنچ گئی۔ چین نے امریکی پابندیوں کی مخالفت کرتے ہوئے انہیں غیر قانونی قرار دیا ہے ۔ کینیڈا نے ایران کے 5 اعلیٰ سکیورٹی و حکومتی عہدیداروں اور 5 سرکاری اداروں پر نئی پابندیاں عائد کردیں،کینیڈا کے مطابق 2002 سے اب تک ایران پر 24 مرتبہ پابندیاں عائد کی جاچکی ہیں۔متحدہ عرب امارات کے مرکزی بینک نے منی لانڈرنگ، دہشت گردی کی مالی معاونت اور ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی پر ایران کے بینک ملی کی امارات میں قائم شاخوں پر پابندیاں عائد کرتے ہوئے انہیں ایران کے ساتھ مالی لین دین، تجارتی فنانسنگ اور رقوم کی منتقلی سے روک دیا ۔

ادھر آبنائے ہرمز میں ایک کارگو جہاز کو نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنائے جانے کے بعد آگ لگ گئی، واقعے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک ہوگیا جبکہ 27 دیگر افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا۔ یمن کے صوبوں تعز اور الجوف میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سعودی فضائی حملوں میں 10 افراد ہلاک اور 14 زخمی ہوگئے ۔ یمن کے حوثی باغیوں کے فوجی مشیر عبدالمحمد الثور نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے یمن کے تنازعے میں سعودی عرب کی حمایت کیلئے مداخلت کی یا آبنائے باب المندب کو کھولنے کی کوشش کی تو مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اثاثوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔اگر امریکا اپنے بحری بیڑے کے ذریعے فوجی مداخلت کی جرات کرتا ہے یا باب المندب پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ ان کے اور کسی بھی دوسرے فریق کے لیے ایک سرخ لکیر ہے ، ہم اس پر لڑیں گے ۔مشرق وسطیٰ جنگ کے خاتمے کیلئے سفارتی کوششوں کے امکانات کے باوجود بدھ کو عالمی سٹاک مارکیٹس میں مندی رہی جبکہ خام تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہوا۔ برینٹ خام تیل کی قیمت 5.20 فیصد اضافے سے 103.64 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ امریکی ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت بھی 2.4 فیصد بڑھ کر 92.68 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی۔ وال سٹریٹ میں ڈاؤ جونز اور ایس اینڈ پی 500 میں 0.6 فیصد جبکہ نیس ڈیک میں ایک فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...