ہم حقوق کیلئے نکل رہے : بیرسٹر گوہر، گورنر راج لگا تو اینٹ سے اینٹ بجا دینگے : سہیل آفریدی
یہ سیاسی لوگوں کیخلاف نیٹ لانچر استعمال کر نے کا وقت نہیں، بات سنی جائے ، شکایات حل کی جائیں:چیئرمین پی ٹی آئی عمران کا سپاہی ، ٹیپو سلطان بننے کیلئے تیار ہوں،فکس میچ نہیں کھیلتا،یہ جنگ جیت کر دکھائوں گا:وزیر اعلیٰ کے پی کا خطاب
اسلام آباد ،پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک)پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹرگوہر نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں غیراعلانیہ گورنر راج ہے ، ایسا بالکل نہیں ہونا چاہیے صوبے کے عوام ، مینڈیٹ، وزیراعلیٰ اور ارکان اسمبلی کا احترام ہونا چاہیے ،جبکہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ وفاق اگر پولیس کو سیاسی انتقام کیلئے استعمال کریگا تو صوبائی حکومت اقدامات تو کرے گی، دہشت گردی کی جنگ سے پولیس کا دھیان ہٹا کر کسی سیاسی جماعت کی طرف موڑنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، پولیس غلط احکامات کی مزاحمت کرے۔ پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو میں چیئرمین بیرسٹرگوہر نے کہا ہے کہ بات چیت کا راستہ کھلا رہنا چاہیے ، محمود اچکزئی اور راجا ناصر عباس راستہ نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ پارٹی نے پروگرام کابہت پہلے اعلان کیا ہوا ہے ، اس میں کوئی تبدیلی نہیں، سہیل آفریدی ہمارے وزیراعلیٰ ہیں، بانی پی ٹی آئی کو سہیل آفریدی پر اعتماد ہے ، وہی وزیراعلیٰ رہیں گے ، یہ بانی پی ٹی آئی کی ہدایات ہیں۔
بیرسٹرگوہر نے کہا کہ اتنے سنجیدہ حالات میں جب لانگ مارچ ہونے جا رہا ہو تو بات چیت ضرورہونی چاہئے ، لانگ مارچ میں آنے والے سیاسی لوگوں کے خلاف نیٹ لانچر استعمال کرنے کا وقت نہیں، سیاسی لوگوں پر نیٹ لانچر استعمال نہیں کیے جاتے ، ان کی بات سنی جاتی ہے اور شکایات حل کی جاتی ہیں، ہم کہہ رہے ہیں ہماری بات سنی جائے ، ہم پرامن ہیں اور اپنے حقوق کیلئے نکل رہے ہیں ،بارہا کہا ہمیں سنا نہیں گیا اور انصاف نہیں ملا۔چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ مذاکرات سے متعلق پی ٹی آئی کی کوئی چار رکنی کمیٹی نہیں بنائی، مذاکرات کیلئے علامہ راجہ ناصر عباس اور محمود اچکزئی جیسا چاہیں کریں ، ہم پُرامن تھے ، پُرامن ہیں اور پُرامن رہیں گے ، اداروں یا اسلام آباد پر حملہ نہیں کریں گے ، حکومت کو اس بیانیے اور تاثر کا بندوبست کرنا ہوگا، اگرحکومت ایسا تاثرپیدا کرے گی تو بڑی تعداد رکھنے والی سیاسی جماعت کو سیاسی میدان سے نکال دیا جائے گا،سیاسی جماعتوں کو سیاسی میدان سے نکالنے کے بڑے خطرناک نتائج ہوتے ہیں۔
ادھر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان ہمیشہ کہتے تھے کہ یا تو ٹیپو سلطان بننا ہے یا بہادر شاہ ظفر بننا ہے ، میں عمران خان کا سپاہی ہوں اور ٹیپو سلطان بننے کے لیے تیار ہوں، ٹیپو سلطان کہتے تھے کہ شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ سب ڈرے ہوئے ہیں کیونکہ آپ کا وزیراعلیٰ کوئی فکس میچ نہیں کھیلتا، اسی لیے یہ لوگ ڈرے ہوئے ہیں، میں آپ کو یہ جنگ جیت کر دکھاؤں گا،عمران خان نے ہمیں ہمیشہ پُرامن رہنے کا کہا ہے ، ہم آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر جدوجہد کریں گے اور جیت کر دکھائیں گے ، انہوں نے گورنر راج کے ممکنہ نفاذ کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ گورنر راج لگا کر دکھائیں، خیبر پختونخوا کے نوجوان آپ کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے۔
صوبے میں امن و امان کے حوالے سے اجلاس سے خطاب میں کہا ہے کہ 22 سال سے پختونخوا پولیس اور عوام مسلسل دہشت گردی کا مقابلہ کر رہے ہیں، وزیراعلیٰ نے کہا کہ جب تک امن نہیں ہوگا تب تک ترقی اور خوشحالی نہیں آسکتی، 15 اکتوبر 2025ء کو حکومت سنبھالنے کے بعد پولیس کیلئے بے مثال فنڈز فراہم کیے ، پولیس فرنٹ فٹ پر دہشت گردی کا مقابلہ کر رہی ہے ، ان کی قربانیوں کا احساس ہے ،پختونخوا کے عوام اور پولیس کی قربانیوں کی وجہ سے اسلام آباد، راولپنڈی اور ملک کے دیگر حصوں میں بھی امن ہے ، ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا فوج کے ماتحت ہے ، گزشتہ سال سے ادائیگی کے باوجود پختونخوا کی اے پی سیز اب تک نہیں آئیں، اسلام آباد کیلئے جدید اے پی سیز تیار کرکے دے دی گئیں ، میں نے ان سے کہا کہ اسلام آباد کو دی جانے والی اے پی سیز صرف پی ٹی آئی کے خلاف استعمال ہوں گی، یہ پختونخوا پولیس کو دی جائیں،وزیراعلیٰ نے کہا کہ NRTC کو جیمرز اور اینٹی ڈرونز کی ادائیگیاں بھی پختونخوا حکومت کر چکی ، آلات جلد از جلد فراہم کیے جائیں۔
دہشت گردی کے خاتمے کے بجائے پی ٹی آئی کو ختم کرنا اور عمران خان کو جھکانا ترجیح بن گیا ، جب میں بطور چیف ایگزیکٹو پولیس کو غلط احکامات نہیں دیتا تو کسی اور کو بھی غلط احکامات دینے کا حق نہیں ، ہماری ترجیح دہشت گردی سے نمٹنا ہے ،پولیس کو سیاسی مداخلت سے آزاد رکھا ۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ گزشتہ چار پانچ دنوں سے جو کچھ ہو رہا ہے انتہائی افسوس ناک ہے ، جب تک آئین میں رائٹ ٹو اسمبلی موجود ہے ہم احتجاج کریں گے ۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ کابینہ سے پولیس ایکٹ منظور کیا، اسمبلی میں اس میں مزید ترامیم کی جا سکتی ہیں، اگر کوئی وفاقی ادارہ پولیس کو سیاسی انتقام کیلئے استعمال کرے گا تو صوبائی حکومت اس معاملے پر اقدامات کرے گی ، تحریک انصاف کے رہنما علی محمد خان نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ پاکستان اس وقت قومی سیاسی بحران سے گزر رہا ہے ، مسئلہ سیاسی ہے تو اس کا حل بھی سیاسی ہونا چاہیے ، قانونی یا آئینی نہیں۔ موجودہ سیاسی بحران سے نکلنے اور ملک کو مزید انتشار سے بچانے کا واحد راستہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بامعنی مذاکرات ہیں،حکومت کو مزید وقت ضائع کیے بغیر بانی پی ٹی آئی سے براہِ راست رابطہ کرکے مذاکرات کرنے چاہئیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments