زیادہ مسافر گنجائش والی گاڑیوں کی پابندی قانونی :ہائیکورٹ
مخصوص روٹس پر خاص معیار کی گاڑیوں کی شرط کاروبار کے حق سے انکار نہیں:فیصلہ درخواست گزاروں کا کم مسافر گنجائش والی گاڑیاں چلانے پر اصرار پالیسی کے مطابق نہیں
لاہور (محمد اشفاق )لاہور ہائیکورٹ نے مخصوص روٹس پر زیادہ مسافر گنجائش والی گاڑیوں کی پابندی کو قانونی قراردے دیا۔ لاہور ہائیکورٹ نے لاہور ریلوے سٹیشن سے کامونکی، مریدکے اور شرقپور شریف تک مخصوص ٹرانسپورٹ روٹس سے متعلق درخواست خارج کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ حکومت کی جانب سے ان روٹس پر زیادہ مسافر گنجائش والی گاڑیوں (ہائی آکوپینسی وہیکلز ،ایچ او ویز)چلانے کے لیے مقرر کردہ شرائط قانون کے مطابق ہیں، کاروبار کو ریگولیٹ کرنا بنیادی حق کی خلاف ورزی نہیں۔ جسٹس احمد ندیم ارشد نے شاہین ٹریول سروس وغیرہ کی جانب سے دائر درخواست پر فیصلہ سنایا۔ درخواست گزاروں نے 2 جنوری 2006ء اور 20 مارچ 2010ء کے نوٹیفکیشنز اور 7 اپریل 2021ء کے اس حکم کو چیلنج کیا تھا جس کے ذریعے مذکورہ روٹس کو ڈی نوٹیفائی کرنے کی درخواست مسترد کی گئی تھی۔
جسٹس احمد ندیم ارشد نے فیصلے میں لکھا کہ آئین کا آرٹیکل 18 شہریوں کو جائز تجارت اور کاروبار کا حق دیتا ہے ، تاہم یہ حق غیر مشروط نہیں۔ ریاست کو لائسنسنگ، روٹ پرمٹ اور ٹرانسپورٹ سروسز کو عوامی مفاد میں منظم کرنے کا اختیار حاصل ہے ۔ مخصوص معیار کی گاڑیوں کو مخصوص روٹس پر چلانے کی شرط عائد کرنا کاروبار کے بنیادی حق سے انکار نہیں بلکہ کاروباری سرگرمی کو قانون کے مطابق ریگولیٹ کرنا ہے ۔عدالت نے قرار دیا کہ پنجاب حکومت نے موٹر وہیکلز آرڈیننس 1965ء کی دفعہ 45-A کے تحت لاہور ریلوے سٹیشن سے کامونکی، مریدکے اور شرقپور شریف تک روٹس کو مخصوص قرار دیا۔ ان روٹس پر مقررہ معیار پر پورا اترنے والی زیادہ مسافر گنجائش والی گاڑیاں چلانے کی اجازت دی گئی۔ درخواست گزاروں نے مقررہ روٹس پر زیادہ مسافر گنجائش والی گاڑیوں کے روٹ پرمٹ کیلئے درخواست دینے کے بجائے کم مسافر گنجائش والی گاڑیوں (لو آکوپینسی وہیکلز،ایل او ویز ) چلانے پر اصرار کیا، جو متعلقہ پالیسی کے مطابق نہیں۔
لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی، جو اب پنجاب ٹرانسپورٹ کمپنی کے نام سے کام کر رہی ہے ، کے اختیارات سے متعلق عدالت نے قرار دیا کہ موٹر وہیکلز آرڈیننس کی دفعات 72-A اور 72-B کے تحت کمپنی کو شہری ٹرانسپورٹ روٹس کی منصوبہ بندی، درجہ بندی اور نگرانی کے اختیارات حاصل ہیں۔ 26 دسمبر 2022ء کے نوٹیفکیشن کے ذریعے کمپنی کے اختیارات پنجاب بھر تک بڑھائے گئے ، جس سے متعلقہ روٹس پر اس کے اختیار کی بھی توثیق ہوتی ہے ۔عدالت نے درخواست گزاروں کے اس مؤقف کو بھی ریکارڈ سے ثابت شدہ نہیں مانا کہ مذکورہ روٹس پر کوئی ٹرانسپورٹ سروس دستیاب نہیں۔ پنجاب ٹرانسپورٹ کمپنی نے مختلف روٹس پر بسوں کے آپریشن کا ریکارڈ پیش کیا جبکہ پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کی جانب سے بھی سبسڈی والے کرایوں پر ایئرکنڈیشنڈ بسیں چلانے کا ریکارڈ عدالت کے سامنے رکھا گیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ درخواست گزار 7 اپریل 2021ئکے حکم میں کسی قانونی خامی، دائرہ اختیار سے تجاوز یا قانون کی خلاف ورزی ثابت کرنے میں ناکام رہے ۔ متعلقہ نوٹیفکیشنز اور حکومتی حکم قانون اور آئین کے دائرہ کار میں ہیں، عدالت نے درخواست خارج کردی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments