ایم کیو ایم دور میں 35 ایس ایچ اوز کو قتل کیا گیا : شرجیل
دیگرشہروں میں تحفظ لینے والے افسروں کوکراچی لا کر نشانہ بنایا گیا:سینئروزیرسندھ لسانی فساد کو ہوا نہ دیں،صوبوں کی تقسیم قبول نہیں:عمران کی بہنوں کی گرفتاری کی مذمت
کراچی(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک) سینئر وزیر سندھ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے جس کی مذمت کرتے ہیں، پاکستان کی افواج جرأت اور بہادری کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہی ہیں، ہم اپنی افواج کو سلام پیش کرتے ہیں۔ڈائریکٹوریٹ آف الیکٹرانک اینڈ سوشل میڈیا میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم ایک بار پھر لسانی فساد کو ہوا دینے کی کوشش نہ کرے ، اس صوبے اور شہر پر اردو، سندھی اور پشتو بولنے والوں کا برابر حق ہے ، اردو کی آڑ میں لسانی سیاست نہیں ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے دور میں صرف کراچی ہی نہیں بلکہ پاکستان کو بھی نقصان پہنچا، اس وقت ایم کیو ایم کے پاس طاقت اور اثر و رسوخ موجود تھا، آپریشن میں حصہ لینے والے پولیس افسران کے حوالے سے بھی سنگین واقعات پیش آئے اور 35 ایس ایچ اوز کو چن چن کر قتل کیا گیا، جن افسران نے دیگر شہروں میں تعینات ہوکر تحفظ حاصل کرنے کی کوشش کی، انہیں واپس کراچی لا کر نشانہ بنایا گیا،سینئروزیرنے کہا کہ ہمیں صوبوں کی تقسیم قبول نہیں، ٹی وی چینلز کے سرویز سے کیا فرق پڑتا ہے ؟،سندھ کی تقسیم کسی صورت قبول نہیں، سندھ اسمبلی اس حوالے سے قرارداد منظور کرچکی ہے ۔ ان کاکہناتھا کہ عمران خان کی بہنوں کی گرفتاری کی حمایت نہیں کرتے اور ذاتی طور پر ان کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments