آف لوڈ کیس، FIA خود قانون تبدیل کرکے بنیادی حقوق ختم نہیں کرسکتی : اسلام آباد ہائیکورٹ
ایس اوپی قانون نہیں ہوتا،اگر ایف آئی اے ایس او پیز پر کام کرے گی تو سب ادارے ایسے ہی کرینگے :جسٹس انعام امین منہاس آپ یونیفارم پہنے ایجنسی ہیں لیکن خلاف قانون کام کر رہے :از خود ایس او پیز بنانے پر برہمی، آف لوڈ کرنے پر معاونت طلب
اسلام آباد (اپنے نامہ نگار سے )اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس انعام امین منہاس نے بیرون ملک جانے والے شہریوں کو آف لوڈ کرنے کے کیس میں ایف آئی اے کے ازخود ایس او پیز بنانے پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور آئندہ سماعت پر ایف آئی اے سے شہریوں کو آف لوڈ کرنے اور روکنے سے متعلق قانون پر معاونت طلب کرلی اور ریمارکس دیئے کہ ایس او پی قانون نہیں ہوتا، ہمیں قانون پر عملدرآمد کرنا ہوتا ہے ، ایف آئی اے اگر ایس او پیز پر کام کرنا شروع کردے گی تو پھر ہر ادارہ قانون کے بجائے ایس او پی پر کام شروع کر دے گا،بنیادی حقوق کا کیا کریں گے، آپ اور عدالتوں کا کام کیا رہ جائے گا؟ آپ یونیفارم پہنے ہوئے پاکستان کی ایک ایجنسی ہیں لیکن قانون کے خلاف کام کر رہے ہیں۔
شہری محمد ساجد کی درخواست پر سماعت کے دوران عدالتی طلبی پر ایف آئی اے کی ایڈیشنل ڈائریکٹر زنیرہ اور ڈپٹی ڈائریکٹر افضل نیازی عدالت پیش ہوئے اور 1975 کا ایک لیٹر پیش کیا، جسٹس انعام امین نے کہا اس لیٹر میں ایسا کچھ نہیں کہ آپ آف لوڈ کرسکیں۔ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ ایس او پیز کے تحت ایسے اقدامات کیے جاتے ہیں، 45,850 افراد ڈی پورٹ ہوکر آئے ہیں، وزٹ ویزا پر 39,095 افراد گئے اور واپس نہیں آئے ، 1,100 سے زائد بیرون ملک گداگری میں شامل ہیں،جسٹس انعام امین نے استفسار کیا کہ کیا آپ کے کلیئر کرنے پر ہی یہ افراد گئے تھے ؟ آپ کے پاس قانونی اختیار نہیں تو قانون بنانے کی سفارش کر سکتے تھے ، خود ہی قانون تبدیل کرکے بنیادی حقوق ختم نہیں کیے جاسکتے ۔ اگر یہ ایس او پیز اتنے اہم ہیں تو ترمیم کرا لیں۔ آئندہ سماعت پر قانون سے متعلق بتائیں، تیاری کے ساتھ آئیں، عدالت نے سماعت ملتوی کردی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments