افغان دراندازی،پاکستان زیرو ٹالرنس پالیسی پر گامزن

 افغان دراندازی،پاکستان زیرو ٹالرنس پالیسی پر گامزن

صرف فضائی کارروائی نہیں ،سرحدی نگرانی اور سفارتی مذاکرات بھی اہم

(تجزیہ:سلمان غنی )

افغانستان سے ہونے والی دراندازی اور ڈرونز حملوں کے بعد پاکستان کے ردعمل سے ظاہر ہو رہا ہے کہ پاکستان اب یہ سلسلہ برداشت نہیں کرے گا اور پاکستان اپنی دفاعی پالیسی کے تحت اب اس حوالہ سے زیروٹالرنس پالیسی پر گامزن ہے اوردراندازی کا منہ توڑ جواب دیا جا رہا ۔ دوسری جانب افغان طالبان ترجمان نے افغان صوبوں قندھار، پکتیا اور خوست میں فضائی حملوں کا الزام لگاتے دعویٰ کیا ہے کہ ان حملوں کے نتیجہ میں 4افراد جاں بحق ہوئے ہیں اور افغان ترجمان نے حملوں کو اپنے خلاف جارحیت قرار دیتے ہوئے ردعمل کا عندیہ دیا ہے ،لہٰذا اس امر کا تجزیہ ضروری ہے کہ افغان سرزمین سے دراندازی کیونکر بند نہیں ہو ر ہی اور آخر کب تک افغان بارڈر کے اردگرد دہشت گردوں کی سرگرمیاں جاری رہیں گی،جہاں تک کابل سے پاکستان کے خلاف ردعمل کے عندیہ کا سوال ہے تو یہ اس پر آنے والے دباؤ کی علامت ہے کیونکہ ایک طرف تو وہ اپنی سرزمین سے دہشت گردی کا سدباب نہیں کر پا رہے اور کھلے طور پر دہشت گردی کے مراکز سے دہشت گردی کے عمل کو منظم کیا جا رہا ہے ،تو دوسری جانب جب پاکستان دہشت گردی کے مراکز کو ہدف بناتا ہے تو الٹا وہ اپنی مجرمانہ غفلت کا الزام پاکستان پر لگاتا نظر آتا ہے اور خود افغان انتظامیہ کو معلوم ہے کہ ان کے ردعمل کا نتیجہ کیا ہوگا اس لئے کہ اس سے پہلے اس کا پشتیبان بھارت اپنی دہشت گردی ا ور جارحیت کا خمیازہ دس مئی 2025 کو بھگت چکا ہے ، اب وہ پاکستان پر جارحیت کی پوزیشن میں تو نہیں رہا مگر وہ اپنی پراکیسز کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے اور افغان سرزمین ان کی سرگرمیوں کا مرکز ہے ،پاکستان نے اس حوالہ سے بڑے صبر و تحمل سے کام لیا لیکن افغان انتظامیہ نے دہشت گردی کے خاتمہ میں دلچسپی اور سنجیدگی کیونکر ظاہر نہیں کی الٹا پاکستان پر الزام تراشی شروع کردی۔

لہٰذا اگر افغان انتظامیہ پاکستان کے خلاف کسی جوابی اقدام کا دعویٰ کرتی ہے تو اس سے کشیدگی کے ایک نئے خطرے کا خدشہ ہے ،مسلسل کشیدگی سے پاک افغان تجارت سرحدی آمد و رفت اور افغانستان میں انسانی صورتحال بھی متاثر ہو سکتی ،پاکستان کی فضائی کاررروائیوں کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ پاکستان افغان سرزمین سے ہونے والے ایسے دہشت گرد حملوں کو محض سفارتی احتجاج تک محدود رکھنے کی بجائے اپنی قومی سلامتی کا براہ راست مسئلہ سمجھ رہا ہے ،سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کابل انتظامیہ عملاً ٹی ٹی پی سمیت دہشت گرد گروپوں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کرتی،پاکستان کابل کو اپنی ذمہ داری کا احساس دلانے کیلئے سفارتی محاذ بھی گرم رکھے ہوئے ہے لہٰذا اب افغانستان کی جانب سے کسی ردعمل کی دھمکی کے بعد دہشت گردی کی منصوبہ بندی یا کارروائی میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی اور زیادہ موثر کی جائے ، اس وقت اصل امتحان یہی ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف اپنی سلامتی کی ضروریات پوری کرے لیکن افغانستان کے ساتھ ایسا تصادم نہ پیدا ہو جس سے دہشت گردی کا مسئلہ مزید پیچیدہ ہو جائے ،خاص طور پر دہشت گردوں کو بھارت کی پشت پناہی کو بے نقاب کیا جائے ۔ جہاں تک پاکستان کی جانب سے جاری آپریشن کا تعلق ہے تو پاکستان کیلئے بھی مؤثر راستہ صرف فضائی کارروائی نہیں عسکری دباؤ ،سرحدی نگرانی اور سفارتی مذاکرات کو ایک مربوط حکمت عملی میں رکھنا زیادہ اہم ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...