آئی ایم ایف شرائط پر ٹیکس اصلاحات، توانائی، نجکاری سمیت 174 قانونی ترامیم کا فیصلہ

آئی ایم ایف شرائط پر ٹیکس اصلاحات، توانائی، نجکاری سمیت 174 قانونی ترامیم کا فیصلہ

فنڈ کو بتا دیا ترامیم کی منظوری پارلیمنٹ کا اختیار، مشن کیساتھ پیر سے مذاکرات، چوتھے جائزہ میں 15سٹرکچرل بینچ مارکس شامل خود مختار دولت فنڈ، شوگر سیکٹر ڈی ریگولیشن، اسلامی بینکاری، صوبائی وعدوں پر عملدرآمد کا جائزہ لیا جائیگا:سیکرٹری خزانہ

اسلام آباد (مدثر علی رانا) آئی ایم ایف کے ساتھ 7ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی پروگرام کے تحت جائزہ مذاکرات کے آغاز کے موقع پر حکومت نے پارلیمنٹ سے مختلف شعبوں میں مجموعی طور پر 174 قانونی ترامیم منظور کرانے کی تیاری کرلی، یہ ترامیم ٹیکس اصلاحات، توانائی، نجکاری، خودمختار دولت فنڈ، شوگر سیکٹر ڈی ریگولیشن پالیسی، اسلامی بینکاری اور مالیاتی استحکام سمیت مختلف شعبوں سے متعلق ہیں، یہ انکشاف سیکرٹری خزانہ امداد اللہ بوسال نے چیئرمین نوید قمر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ کے اجلاس میں بریفنگ کے دوران کیا۔ اجلاس میں جاری آئی ایم ایف پروگرام اور اس سے منسلک شرائط پر تفصیلی غور کیا گیا۔

سیکرٹری خزانہ نے بتایا کہ آئی ایم ایف مجموعی طور پر 174 قانونی ترامیم پارلیمنٹ سے منظور کرانا چاہتا ہے ، حکومت نے آئی ایم ایف پر واضح کیا ہے کہ قانون سازی اور ترامیم کی منظوری پارلیمنٹ کا آئینی اختیار ہے ، آئی ایم ایف مشن پاکستان میں موجود ہے اور باضابطہ جائزہ مذاکرات پیر سے شروع ہونے ہیں، مذاکرات میں خودمختار دولت فنڈ بھی اہم موضوع ہوگا جس کے گورننس میکانزم اور حفاظتی اقدامات کی منظوری آئی ایم ایف پروگرام کے اہم سٹرکچرل بینچ مارکس میں شامل ہے ۔ شوگر سیکٹر کی ڈی ریگولیشن پالیسی اور ترسیلات زر بھی اقتصادی جائزہ مذاکرات کا حصہ ہیں، تین صوبوں نے شوگر پالیسی سے اتفاق کیا جبکہ ایک صوبے کو بعض تحفظات ہیں۔

کمیٹی ارکان کو بتایا گیا کہ صوبائی وعدوں اور نیشنل فسکل پیکٹ پر عملدرآمد بھی آئی ایم ایف پروگرام کے اہم اجزا میں شامل ہے ، وزارت خزانہ کے مطابق چوتھے جائزے کے تحت 15 سٹرکچرل بینچ مارکس موجود ہیں، اسلامی بینکاری سے متعلق ایک معاملے پر کام جاری ہے ، ٹیکس پالیسی آفس کے امور بھی زیر بحث آئیں گے ۔ موجودہ ای ایف ایف پروگرام 25 ستمبر 2024 کو منظور ہوا جس کا مجموعی حجم 7 ارب ڈالر اور تقریباً 4.5 ارب ڈالر کی رقم جاری کی جاچکی ہے ، پروگرام کا مقصد ادائیگیوں کے توازن کی ضروریات پوری کرنے اور معاشی و مالیاتی استحکام میں معاونت ہے ، بدلے میں حکومت کو محصولات میں اضافہ، قرضوں کی پائیداری، مالیاتی استحکام، ٹیکس اصلاحات، توانائی کے شعبے میں اصلاحات، سرکاری اداروں کی گورننس اور تجارتی لبرلائزیشن سمیت مختلف شعبوں میں اصلاحات کرنی ہیں، منظور شدہ بجٹ سے اضافی اخراجات پارلیمنٹ کے سامنے لانا، ٹیکس ایمنسٹی سکیموں اور ترجیحی ٹیکس سہولتوں پر پابندی، توانائی اصلاحات اور صوبوں کے ساتھ نیشنل فسکل پیکٹ پر عملدرآمد کرنا ہے۔

قائمہ کمیٹی نے پرائمری سرپلس کے اہداف، حکومتی ضمانتوں اور صوبوں کی مالی پوزیشن کا جائزہ لیا، ارکان نے سوال اٹھایا کہ صوبائی بجٹ سرپلس اور اخراجات کی ترجیحات کو مجموعی قومی مالیاتی فریم ورک کے ساتھ کس طرح ہم آہنگ کیا جارہا ہے ، حکام نے انسانی وسائل کی ترقی، سماجی تحفظ اور صحت و تعلیم کیلئے کم از کم اخراجات سے متعلق وعدوں پر بریفنگ دی۔ ریٹیلرز کی ٹیکس رجسٹریشن سکیم کے جائزہ میں ارکان نے ابتدائی طور پر کم تعداد میں رجسٹریشن پر سوالات اٹھاتے ہوئے سکیم کی کارکردگی کا قابل پیمائش جائزہ، رجسٹرڈ ریٹیلرز کی تعداد، حاصل محصولات، ٹیکس تعمیل کے نتائج اور سکیم کے ڈیزائن میں ممکنہ تبدیلیوں سے متعلق تفصیلی اعداد و شمار طلب کیے ، اس سلسلے میں ایف بی آر کے کردار پر بحث ہوئی اور مزید بریفنگ طلب کی گئی۔

بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری تجویز کے جائزہ کے دوران حکام نے بتایا کہ تین ڈسکوز کی نجکاری کا عمل پیشرفت کے مرحلے میں ہے ، بین الاقوامی سرمایہ کاروں نے دلچسپی ظاہر کی اور بعض فریق پری کوالیفائی ہوچکے ہیں، ارکان نے مجوزہ لین دین کی نوعیت اور شرائط کے بارے میں مزید وضاحت طلب کی کہ آیا یہ مکمل نجکاری ہوگی، انتظامی کنٹرول کی منتقلی ہوگی یا کنسیشن ماڈل اختیار کیا جائے گا۔ نوید قمر نے سوال اٹھایا کہ اگر منافع بخش ڈسکوز نجی شعبے کے حوالے کردی گئیں تو باقی کمپنیوں کا کیا ہو گا۔ حکام نے بتایا کہ متعلقہ کمپنیوں کی ویلیوایشن کی جاچکی ہے ۔ قائمہ کمیٹی نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی تنظیم نو اور مجوزہ لین دین پر بھی غور کیا اور ارکان نے مجوزہ ڈیل کے حوالے سے ویلیوایشن، واجبات، حاصل رقم اور حکومت کے پاس باقی حصص کی مکمل مالی تفصیلات طلب کیں اور زور دیا کہ پی آئی اے سے متعلق تمام مالی معلومات پیشہ ورانہ، شفاف اور آسان فہم انداز میں پیش کی جائیں۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ سرکاری ملکیتی اداروں کی گورننس، متعلقہ وزارتوں اور وزارت خزانہ کے درمیان رپورٹنگ کا نظام زیر غور ہے ، حکام کے مطابق رپورٹنگ لائنز کو واضح کیا گیا جبکہ مجوزہ ترامیم کا مقصد سرکاری اداروں کے بورڈز مضبوط بنانا، گورننس بہتر کرنا اور خودمختار دولت فنڈ کے تحت سرمایہ کاری کا نظم و ضبط بہتر بنانا ہے ۔ ارکان نے ان قانونی اداروں کی واضح فہرست طلب کی جنہیں ایس او ای ایکٹ سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے ، زیر غور قانون سازی کی مکمل تفصیلات بھی مانگی گئیں، توانائی کے شعبے میں اصلاحات بھی جائزہ مذاکرات کا اہم حصہ ہوں گی۔ کمیٹی ارکان نے صنعتی کیپٹو پاور صارفین کے قومی گرڈ پر منتقلی کے تفصیلی اعداد و شمار طلب کیے کہ اس سے گیس و پٹرولیم مصنوعات کی کھپت، بجلی کی طلب اور گردشی قرضے پر کیا اثرات مرتب ہوئے ۔ کمیٹی نے زور دیا کہ توانائی اصلاحات کی کامیابی صرف پالیسی یا انتظامی اقدامات سے نہیں بلکہ حقیقی آپریشنل، مالی اور معاشی نتائج سے جانچی جانی چاہیے ۔

سیکرٹری خزانہ نے آئی ایم ایف پروگرام پر بریفنگ کے دوران بتایا کہ توانائی سے متعلق گردشی قرض کے اہداف میں بڑی کامیابی نہیں ملی، تعلیمی اخراجات کے اہداف حاصل کرنے میں ناکامی ہوئی، ٹیکس وصولی بڑھائی جائے گی، سپلیمنٹری گرانٹ پر پابندی عائد کر دی، گردشی قرض مخصوص حد میں رکھا جا رہا ہے ۔ سرکاری شعبے میں کفایت شعاری اقدامات سے متعلق حکام نے بتایا کہ سرکاری گاڑیوں کیلئے ایندھن میں عارضی 50 فیصد کمی کی گئی ہے ، مخصوص آپریشنل ضروریات مستثنٰی ہیں، مالی سال 2026-27 کیلئے نان ای آر ای بجٹ میں بھی 5 فیصد کمی کی گئی جس کی مالیت تقریباً 16.1 ارب روپے ہے ، کمیٹی ارکان نے سوال کیا کہ ان اقدامات سے حقیقی کتنی بچت ہوئی، آیا کہ کفایت شعاری اقدامات سے قومی خزانے کو قابل ذکر مالی فائدہ حاصل ہوا ہے ، مالیاتی نظم و ضبط کے اقدامات قابل پیمائش بچت، اخراجات کی کارکردگی اور واضح مالی نتائج سے منسلک کیے جائیں۔ کمیٹی نے چیئرمین سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کی عدم شرکت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ایجنڈا آئٹمز پر غور مؤخر کر دیئے۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...