پی ٹی آئی کا لانگ مارچ منسوخ کرانیکی کوششیں،مذاکرات کا پہلا دور مکمل،آج دوبارہ بات چیت

پی ٹی  آئی  کا  لانگ  مارچ  منسوخ کرانیکی  کوششیں،مذاکرات  کا  پہلا  دور  مکمل،آج  دوبارہ  بات  چیت

خوشگوار ماحول میں ملاقات ، سیاسی،قومی معاملات پر تحمل،سنجیدگی کیساتھ تفصیلی گفتگو :متفقہ اعلامیہ،میں صرف سہولت کار، دعا ہے مذاکرات کامیاب ہوں:ایاز صادق عمران سے ملاقات کروائیں،بہنوں کی نظربندی ختم کریں:اپوزیشن،ملک دھرنوں، انتشار کا متحمل نہیں ہوسکتا،دہشتگردی کیخلاف فورسز کے ساتھ کھڑے ہوں:حکومت رانا ثنا،محسن نقوی کا وزیر اعظم سے رابطہ،امید ہے اپوزیشن موقع نہیں گنوائے گی:طلال ، مذاکرات کی باتیں راز :ناصر عباس،اچھی گفتگوہوئی :گوہر،اچکزئی سے مشاورت

اسلام آباد(نامہ نگار،دنیا نیوز)حکومت، پیپلز پارٹی اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے پہلے دور میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال، قومی امور اور درپیش مختلف مسائل پر تفصیلی تباد لہ خیال کیا گیا،محسن نقوی نے وفود کو خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کی صورتحال پر بریفنگ دی،4گھنٹے جاری رہنے والے مذاکرات میں دونوں اطراف سے اپنے اپنے مطالبات سامنے رکھے گئے ۔اجلاس کے بعد جاری متفقہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ملاقات خوشگوار  ماحول میں ہوئی، جس کے دوران مختلف سیاسی اور قومی معاملات پر تحمل اور سنجیدگی کے ساتھ تفصیلی گفتگو کی گئی، فریقین نے مذاکراتی عمل جاری رکھنے پر اتفاق کیا، جبکہ مذاکرات کا دوسرا دور آج دوپہر دو بجے سپیکر چیمبر میں منعقد ہوگا۔اعلامیے کے مطابق حکومت اور پی پی پی کے نمائندوں نے اس بات پر زور دیا کہ قومی مسائل اور سیاسی اختلافات کا حل مذاکرات کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے ۔ ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی نے حکومت سے اعتماد کی بحالی کیلئے اقدامات کا مطالبہ کیا، پی ٹی آئی کی جانب سے مطالبہ کیا گیا کہ حکومت بانی کی بہنوں کی نظر بندی اور عمران خان سے ملاقاتوں پر عائد پابندی فوری ختم کرے ،عمران خان کے نجی ہسپتال میں علاج سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کیا جائے ،حکومت نے پی ٹی آئی کے مطالبات کا کوئی فوری مثبت جواب نہیں دیا۔

مشیر سیاسی امور رانا ثنائاللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی لانگ مارچ کا فیصلہ غیر مشروط طور پر واپس لے ، ملک احتجاجی دھرنوں، انتشار اور افراتفری کا متحمل نہیں ہوسکتا اور دہشت گردی کیخلاف جنگ میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑے ہوں،انہوں نے کہا کہ حکومت کسی قیمت پر اسلام آباد پر چڑھائی کی اجازت نہیں دے گی۔ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے ترجمان کے مطابق اجلاس میں حکومت، پاکستان پیپلز پارٹی اور اپوزیشن کے وفود نے اپنے اپنے مؤقف ایک دوسرے کے سامنے رکھے اور مختلف سیاسی و قومی معاملات پر بات چیت خوشگوار ماحول میں ہوئی اور مختلف معاملات پر تحمل، سنجیدگی اور باہمی احترام کے ساتھ تفصیلی گفتگو کی گئی،اجلاس میں حکومت کی طرف سے وفاقی وزراء امیر مقام، رانا ثناء اللہ، محسن نقوی، طلال چو دھری ، طارق فضل چودھری ،پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے سینیٹر شیری رحمن، نوید قمر اور اعجاز حسین جاکھرانی شریک ہوئے ،اپوزیشن کی نمائندگی بیرسٹر گوہر خان، راجہ ناصر عباس، ملک عامر ڈوگر، اسد قیصر، سلمان اکرم راجہ،حلیم عادل شیخ نے کی ،سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیر صدارت اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ قومی مسائل کو مذاکرات اور باہمی مشاورت کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت ہے ، تمام فریقین نے سیاسی معاملات کو افہام و تفہیم اور پارلیمانی مکالمے کے ذریعے آگے بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا،سپیکر قومی اسمبلی نے تمام فریقین پر پارلیمانی فورم پر قومی معاملات کے حل کی ضرورت پر زور دیا، اجلاس کے دوران حکومت اور پیپلز پارٹی نے اس بات پر زور دیا کہ قومی مسائل اور سیاسی اختلافات کا حل مذاکرات اور سیاسی مکالمے کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے ۔

فریقین نے بات چیت جاری رکھنے کی ضرورت پر اتفاق کیا، مذاکرات میں نمازجمعہ کیلئے 15 منٹ کا وقفہ بھی گیا، ایاز صادق ،ن لیگ،پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی کی قیادت نے نماز جمعہ پارلیمنٹ کی مسجد میں ادا کی ،مذاکرات کا دوسرا دور آج دوپہر 2بجے سپیکر چیمبر میں ہوگا۔ ذرائع کے مطابق محسن نقوی اور رانا ثنا اللہ نے وزیراعظم شہباز شریف سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور انہیں مذاکرات سے آگاہ کیا اور پیشرفت بارے اعتماد میں لیا،بتایا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے وزیراعظم کو اپوزیشن کے مطالبات سے بھی آگاہ کیا ہے ۔ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ میں صرف ایک سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہوں، اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ مذاکرات کامیابی سے ہمکنار ہوں، میرا دفتر مسائل کے حل ،مذاکرات کیلئے ہمیشہ کھلا ہے ،اختلافِ رائے اور مسائل کے حل کا واحد راستہ مذاکرات ہیں، عہدے اور دفاتر عارضی ہوتے ہیں، پارلیمان ہی وہ واحد فورم ہے جہاں مسائل کا حل نکالا جاسکتا ہے ،علامہ راجہ ناصر عباس نے مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کے دوران کی گئی باتیں راز ہیں، بڑے بڑے بحرانوں کا حل مذاکرات سے نکل آتا ہے ، بحران حل کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے ، حکومت نیک نیتی سے ان مسائل کا حل کرے ،بیرسٹر گوہر نے کہا کہ مذاکرات اچھے ماحول میں ہوئے ہیں اور یہ ماضی سے مختلف رہے ، ہم ہمیشہ بانی پی ٹی آئی کے احکامات پر عملدرآمد کرتے ہیں،سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ہم اپنے مطالبات پر کھڑے ہیں، اس سے قبل چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹرگوہر مذاکرات کیلئے پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے تو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گورنرراج اورایمرجنسی کسی مسئلے کا حل نہیں، ہم نے ہمیشہ ہرجگہ انصاف مانگا ہے۔

مذاکرات کامیاب ہونے چاہئیں، یہ صرف فوٹوسیشن یا آنے جانے تک محدود نہیں ہونے چاہئیں، مذاکرات کی کامیابی قوم کی ضرورت ہے ،پورے خلوص سے حکومت سے مذاکرات کر یں گے ،اگر حکومت سنجیدہ ہے اور اگر انصاف ہمارے لیے چھٹی پر نہیں ہے تو ہر مسئلہ کا حل موجود ہے ،وزیر مملکت داخلہ طلال چودھری نے کہا کہ بات چیت میں ہمیں کبھی جھجک ہوئی نہ انا آڑے آئی،ن لیگ اورپیپلزپارٹی نے ہمیشہ مسائل مذاکرات سے حل کئے ،امید ہے اپوزیشن بات چیت کا موقع نہیں گنوائے گی،انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتیں ایسی خواہش کے تابع نہ ہوں جس سے مسائل بڑھیں،وزیر اعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ عدالتوں کے معاملات عدالتوں کے ذریعے ہی حل ہونگے ،سیاسی معاملات ٹیبل پربیٹھ کرحل ہوسکتے ہیں ،بیٹھ کرجوبھی بات کرنا چاہیں وہ کریں۔انہوں نے کہا کہ ہم سیاسی اصولوں اورقانون کے مطابق جواب دیں گے ، یہ طریقہ نہیں کہ وزیراعظم کوخط لکھ سکتے ہیں مگر مل نہیں سکتے ،اس قسم کی سوچ سیاسی رواداری کا نقصان کرتی ہے ، علاوہ ازیں ایک بیان میں رانا ثناء اللہ نے کہاہے کہ سیاسی و عسکری قیادت نے طے کیا کہ دھرنے اور لانگ مارچ اسلام آباد سے دور ہونے چاہئیں،اپوزیشن کے ساتھ ملاقات کا ماحول خوشگوار تھا، طے ہوا ہے کہ ایسی کوئی بات نہ کی جائے جو آج کی ملاقات پر اثر انداز ہو ۔وفاقی وزیر طارق فضل چودھری نے کہا ہے کہ مذاکرات کی دعوت وزیراعظم نے خود قائد حزب اختلاف کو دی،حکومت کی جانب سے مذاکرات کے دروازے ہمیشہ کھلے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے ساتھ اچھی امید کے ساتھ بیٹھیں گے ،بات چیت سے مسائل کا حل ملک اور سیاسی صورتحال کے لیے بہتر ہے ،مذاکرات میں کئی موضوعات زیر بحث آئیں گے ،ممکنہ حل حکومت کے پاس ہوا تو پیش کریں گے ۔پیپلزپارٹی کی رہنما شیری رحمن نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کو لانگ مارچ ملتوی نہیں بلکہ اسے غیرمشروط طورپر ختم کرنا ہوگا،اس طرح کے اقدامات سے تشدد بڑھتا ہے ،کم نہیں ہوتا، پیپلزپارٹی کا موقف ہے کہ دہشتگردی ہمارے لیے ریڈ لائن ہے ، انہوں نے کہا کہ فرد واحد کیلئے ہم کبھی لانگ مارچ نہیں کرتے ، بانی پی ٹی آئی عمران خان کی جیل سے رہائی کے متعلق آف دی ریکارڈ مطالبات کے حوالے سے سوالات کے جواب میں شیری رحمن نے کہا کہ پی ٹی آئی کے مطالبات پر ابھی میں کوئی بات نہیں کرسکتی، ہم نے ایک دوسرے کے اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچانی، ابھی جو بات ہورہی ہے اس کو وقت دینا ہوگا، شیری رحمن نے کہا کہ ہماری کوشش ہوگی آج مذاکرات مکمل ہوجائیں اور کسی نتیجے پرپہنچیں۔دریں اثنا اپوزیشن مذاکراتی وفد نے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی سے ان کی رہائشگاہ پر ملاقات کی اور ان کو مذاکرات کے پہلے روز کی پیش رفت اور تفصیلات سے آگاہ کیا ۔اس موقع پر آئندہ کے لائحہ عمل پر بھی تفصیلی مشاورت کی گئی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...