کنٹینرز کی پکڑ دھکڑ، ملک کا تجارتی پہیہ سست پڑ گیا
ٹرک ڈرائیورز کاپنجاب آنے سے گریز،کراچی بندرگاہ پر لدے کنٹینرز کی بھرمار پنجاب جانا خودکشی کے مترادف ،کنٹینرز اتار لئے جاتے ،مالی نقصان میں اضافہ گوجرانوالہ سے آگے سفر بند کر دیا گیا ،کچھ ڈرائیورزنے متبادل راستے اختیار کر لئے پولیس گاڑیاں پکڑ کر رکاوٹیں کھڑی کرنے کیلئے استعمال کرسکتی ہے :ٹرانسپورٹرز
کراچی (رائٹرز )اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے 4 اکتوبر کے لانگ مارچ کو روکنے کیلئے کنٹینرز کے بڑے پیمانے پر استعمال نے ملک کے مال بردار اور ٹرانسپورٹ نظام کو بھی متاثر کرنا شروع کردیا، کراچی بندرگاہ پر درآمدی و برآمدی سامان سے لدے کنٹینرز کی بہتات ہوتی جارہی ہے کیونکہ ٹرک ڈرائیور پنجاب کی جانب جانے سے گریز کر رہے ہیں۔ ٹرانسپورٹرز کو خدشہ ہے کہ پنجاب جاتے ہوئے ان کی گاڑیاں پولیس قبضے میں لے کر اسلام آباد کے داخلی راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کرنے کیلئے استعمال کر سکتی ہے ۔ اس صورتحال کے باعث ملک کے بڑے تجارتی مرکز کراچی سے اسلام آباد، راولپنڈی، جہلم، اٹک اور پشاور سمیت کئی شہروں کیلئے مال برداری متاثر ہوئی ہے ۔
کراچی گڈز کیریئرز ایسوسی ایشن کے صدر رانا محمد اسلم کے مطابق حکام نے تقریباً 5 ستمبر سے مال بردار گاڑیوں کو روکنا شروع کیا تھا، جبکہ ستمبر میں احتجاج کی تیاریوں کے دوران پولیس نے 2 ہزار سے زیادہ گاڑیاں اپنی تحویل میں لیں، ان میں متعدد گاڑیاں سامان سے لدی ہوئی تھیں اور متعدد کو کئی روز تک روکے رکھا گیا۔ ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ اس صورتحال میں گاڑیاں اور کنٹینرز روک لیے جانے کے خدشے کے باعث بعض آپریٹرز نے پنجاب میں گوجرانوالہ سے آگے سفر بھی بند کردیا ہے ، جبکہ کچھ نے متبادل راستے اختیار کیے ہیں،ٹرک ڈرائیوروں کے شمال کی جانب سفر سے گریز کے باعث کراچی بندرگاہ پر کنٹینرز جمع ہوتے جا رہے ہیں، یہ بندرگاہ پاکستان کا اہم تجارتی دروازہ ہے اور یہاں سے ملک کے مختلف حصوں تک سامان سڑک کے ذریعے پہنچایا جاتا ہے ،کراچی سے پنجاب اور دیگر علاقوں تک سامان لے جانے والے ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ انہیں ایک طرف گاڑیوں کی ضبطی کا خطرہ ہے تو دوسری جانب سامان کی ترسیل میں تاخیر سے مالی نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے ۔
ایک ٹرانسپورٹر نے رائٹرز کو بتایا کہ پنجاب جانا اس وقت خودکشی کے مترادف ہے ، کیونکہ پولیس گاڑیاں قبضے میں لے لیتی ہے اور کنٹینرز بھی اتار لیے جاتے ہیں۔کنٹینرز روکے جانے کے باعث ٹرانسپورٹرز کے مالی نقصانات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے ۔ کراچی گڈز کیریئرز ایسوسی ایشن کے صدر کے مطابق ایک کنٹینر پر روزانہ 30 ہزار سے 40 ہزار روپے تک ڈیمریج چارجز عائد ہو سکتے ہیں۔اس کے علاوہ سامان کی بروقت ترسیل نہ ہونے ، ٹرکوں کے کھڑے رہنے ، ڈرائیوروں کی اجرت اور گاڑیوں کی دیکھ بھال کے اخراجات بھی ٹرانسپورٹرز کیلئے اضافی بوجھ بن رہے ہیں۔ایسوسی ایشن کے مطابق بین الاقوامی شپنگ کمپنیاں سامان کی تاخیر کی وجہ کچھ بھی ہو، اپنے واجبات کا تقاضا کرتی ہیں، جس سے مقامی ٹرانسپورٹرز پر مزید دباؤ بڑھ رہا ہے ۔ ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ پہلے ہی بڑھتی ہوئی لاگت کے باعث کاروبار دباؤ کا شکار ہے اور موجودہ رکاوٹوں سے صورتحال مزید خراب ہو رہی ہے ۔کراچی گڈز کیریئرز ایسوسی ایشن کے صدر نے بتایا کہ ٹرانسپورٹرز مسائل کے حل کے لیے حکام سے مذاکرات کر رہے ہیں، تاہم مطالبات پر پیش رفت نہ ہوئی تو ٹرانسپورٹرز خود احتجاج کا راستہ اختیار کر سکتے ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments