گورنر راج یا ایمرجنسی قبول نہیں،حکومت،اپوزیشن پھر مذاکرات کریں:حافظ نعیم

گورنر راج یا ایمرجنسی قبول نہیں،حکومت،اپوزیشن پھر مذاکرات کریں:حافظ نعیم

پی ٹی آئی کی تمام خواتین اور علیل بزرگ رہنماؤں کو فوری رہا کیا جائے ، حکومت عمران خان کو ہسپتال تک رسائیدے وزیراعظم وعدہ پورا کریں ورنہ ملتان سے دوبارہ لانگ مارچ شروع ،کل ملک بھر میں غزہ مارچ ہوگا،پریس کانفرنس

کراچی (سٹاف رپورٹر) امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ وزیراعظم وعدہ پورا کریں ورنہ ملتان سے دوبارہ لانگ مارچ شروع کردیں گے ،گورنر راج  یا ایمرجنسی قبول نہیں،حکومت، اپوزیشن پھر مذاکرات کریں، ادارہ نورحق میں موجودہ عالمی و ملکی صورتحال پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی اہل غزہ سے اظہار یکجہتی کے لیے ملک بھر میں کل غزہ مارچ منعقد کرے گی، انہوں نے کہا کہ ہم ایک دن کے لیے بھی اسلام آباد مارچ کے اپنے حق سے دستبردار نہیں ہوئے ، اگر حکومت نے پٹرولیم لیوی کے نام پر عائد بھتہ ٹیکس ختم نہ کیا تو جماعت اسلامی اپنا لانگ مارچ دوبارہ شروع کرے گی، ہمارا پورا پروگرام تیار ہے ، صرف اعلان کرنا باقی ہے ،7 اکتوبر کے بعد اپنے اگلے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے ،انہوں نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن، خصوصاً پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوتے ہوتے ناکام ہوگئے ،گورنر راج یا ایمرجنسی کسی صورت قابل قبول نہیں، اگر مذاکرات ناکام ہوگئے ہیں تو دوبارہ ہونے چاہئیں،پرامن احتجاج ہر سیاسی جماعت کا آئینی، جمہوری اور سیاسی حق ہے ، انسانی بنیادوں پر پی ٹی آئی کی تمام خواتین اور علیل بزرگ رہنماؤں کو فوری رہا کیا جائے ، جبکہ حکومت عمران خان کو ہسپتال تک رسائی، ملاقاتوں سمیت پی ٹی آئی کے آئین و قانون کے مطابق تمام جائز مطالبات تسلیم کرے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا پٹرولیم کے حوالے سے ریلیف پیکیج اونٹ کے منہ میں زیرہ ہے ، حکومت نے یہ پیکیج دے کر عوام پر کوئی احسان نہیں کیا، افسوس عوام کے اس اہم مسئلے پر جماعت اسلامی کے سوا کوئی سیاسی جماعت بات نہیں کررہی، جماعت اسلامی کی مسلسل جدوجہد اور دباؤ کے نتیجے میں حکومت کو یہ ریلیف پیکیج دینا پڑا۔انہوں نے کہا اگر حکومت کو یہ خدشہ ہے کہ سستا پٹرول امیر لوگوں کو بھی مل جائے گا تو اس کا حل یہ ہے کہ حکومت امیر طبقے کے لیے الگ نظام بنائے اور بڑی گاڑیوں کے لیے پٹرول کی قیمت دگنی کردی جائے ۔ حکومت کو پیکیجز کا اعلان کرنے کے بجائے اپنی پالیسیوں کو درست اور پٹرولیم لیوی کو یکسر ختم کرنا ہوگا ، انہوں نے کہا کہ آئی پی پیز کے حوالے سے تمام حقائق قوم کے سامنے لائے جائیں اور بتایا جائے کہ باقی 73 آئی پی پیز کے ساتھ مذاکرات کیوں نہیں ہورہے ۔ 

 

 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...