ایف آئی اے درست کام کرے تو شہری عدالت نہ آئیں،ہائیکورٹ

ایف آئی اے درست کام کرے تو شہری عدالت نہ آئیں،ہائیکورٹ

عدالتیں بھی نہیں سنیں گی تو شہریوںکو انصاف کون دیگا، چیف جسٹس کے ریمارکس ڈی جی ایف آئی اے عدالت پیش، پنجاب بھر میں زیر التوا درخواستوں کا ریکارڈ طلب

لاہور( کورٹ رپورٹر)لاہور ہائیکورٹ نے عدالتی حکم پر تیس دن میں ایف آئی اے میں درخواست پر فیصلہ نہ کرنے کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت ہوئی ، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے پنجاب بھر میں زیرالتوا درخواستوں کی رپورٹ22 اکتوبر تک طلب کرلی ،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مس عالیہ نیلم نے شہری اسماعیل کی درخواست پر سماعت کی، درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ 2024 میں ایف آئی اے کو درخواست پر فیصلہ کرنے کی ہدایت کی تھی جس پر تاحال فیصلہ نہیں کیا ،درخواست گزار نے استدعا کی کہ عدالت ڈی جی ایف آئی اے کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی شروع کرے ، عدالتی حکم پر ڈی جی  ایف آئی اے عثمان انور عدالت میں پیش ہوئے ، چیف جسٹس نے ڈی جی ایف آئی اے سے استفسار کیا کہ این سی سی آئی اے کا قیام کب ہوا ،ڈاکٹر عثمان انور نے جواب دیا کہ پیکا ایکٹ پاس ہونے کے بعد ایف آئی اے سے این سی سی آئی اے میں تبدیل ہوا، چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیے کہ اگر ایف آئی اے درست کام کرے تو شہریوں کو عدالت کے پاس نہ آنا پڑے اگر عدالتیں بھی نہیں سنیں گی تو انصاف کون دے گا، عدالت نے پنجاب بھر میں زیر التوا درخواستوں کا ریکارڈ آئندہ سماعت پر طلب کرلیا عدالت نے ڈی جی ایف آئی اے کو 22 اکتوبر تک تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی عدالتی کاروائی کے بعد ڈی جی ایف آئی اے نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس درخواستیں زیادہ تھی اور ریسورسز کم تھے اس کا ایشو ایف آئی اے اور این سی سی آئی اے میں بھی ہے ہم نے ایف آئی اے میں 70 سے زائد تفتیشی افسر بھرتی کئے ہیں، مزید کہاکہ آنے والے دنوں میں زیر التوا درخواستوں میں کمی آئے گی۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...