سندھ میں بدترین کرپشن،نوجوانوں سے ناانصافیاں ہورہیں،فاروق ستار
پی پی حکومت میں ایم ڈی کیٹ کیسے بدعنوانی سے محفوظ رہ سکتا ؟سوالنامہ جاری کیا جائے ٹاپ 20 میں کراچی کا طالب علم کیوں نہیں؟ پوزیشن ہولڈرز کی دوبارہ جانچ کی جائے وسائل پر وڈیرے قابض ،12 ہزار طلبہ کیلئے کراچی میں 2 امتحانی مراکز ،پریس کانفرنس
کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک، این این آئی )متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سینئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے سندھ میں بدترین کرپشن کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی کے نوجوانوں کے ساتھ ناانصافیاں کی جا رہی ہیں۔ایم ڈی کیٹ سازش نہیں تو پھر کراچی کا کوئی طالب علم ٹاپ 20 میں کیوں نہیں۔فاروق ستار نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 2020ء سے ایم ڈی کیٹ میں خرابیوں کا سلسلہ شروع ہوا، امتحانی فیس میں اضافہ کیا گیا جبکہ کراچی کے 12 ہزار طلبہ کے لیے صرف 2 امتحانی مراکز بنائے گئے ۔انہوں نے کہا کہ شدید گرمی میں طلبہ کا ایم ڈی کیٹ امتحان کھلے میدانوں میں لیا گیا، کراچی کے نوجوانوں کے ساتھ ناانصافیاں ہو رہی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ 2009 سے 2019 تک ایم ڈی کیٹ کا امتحان نیشنل ٹیسٹنگ سسٹم (این ٹی ایس)لیتا تھا اور اس عرصے میں پرچہ لیک ہونے یا بے ضابطگی کی شکایت سامنے نہیں آئی۔ طلبہ کو سوالنامہ بھی جاری کیا جاتا تھا اور امتحانی فیس 1600 روپے تھی، تاہم بعد میں ایم ڈی کیٹ کا امتحان آئی بی اے سکھر کو دے دیا گیا جس نے 9 ہزار روپے فیس وصول کی۔
فاروق ستار نے سوال اٹھایا کہ آئی بی اے سکھر اربوں روپے فیس وصول کرکے طلبہ کو کیا سہولت فراہم کر رہا ہے اور سوالنامہ کیوں جاری نہیں کیا گیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ چانڈکا میڈیکل کالج اور ڈاؤ یونیورسٹی کے معیار میں اتنا فرق کیوں ہے ؟ایم کیو ایم رہنما نے کہا کہ موجودہ نتائج میں کراچی کا کوئی طالب علم ٹاپ میرٹ میں شامل نہیں، حالانکہ 180 میں سے 170 نمبر حاصل کرنا غیرمعمولی کارکردگی ہے ۔ فاروق ستار نے کہا کہ تھرپارکر سے ٹاپ کرنے والی طالبہ باصلاحیت ہوسکتی ہے ، تاہم تمام ٹاپ پوزیشن ہولڈرز کے میرٹ کی دوبارہ جانچ ہونی چاہیے ۔ ان کا مطالبہ تھا کہ ایم ڈی کیٹ کا سوالنامہ عوام کے سامنے لایا جائے ، ٹاپ پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ کے میرٹ کی دوبارہ جانچ کی جائے ، انٹرمیڈیٹ بورڈ کے جانچ کے نظام کا فرانزک جائزہ لیا جائے اور امیدواروں کے ڈومیسائل بھی چیک کیے جائیں۔
فاروق ستار نے کہا کہ سندھ کے تمام وسائل پر وڈیروں اور جاگیرداروں کا قبضہ ہے جبکہ تعلیم اور صحت سے متعلق اداروں پر بھی پیپلز پارٹی قابض ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ کرپشن کی کہانی سب کے سامنے عیاں ہے ، سندھ کے شہری علاقوں کے طلبہ کے مستقبل کو تاریک کیا جا رہا ہے ۔فاروق ستار نے سوال اٹھایا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت میں ایم ڈی کیٹ کا نظام کیسے بدعنوانی سے محفوظ رہ سکتا ہے ؟انہوں نے کہا کہ کراچی کے نوجوانوں پر تعلیمی اداروں کے دروازے بند کیے جا رہے ہیں اور پیشہ ورانہ تعلیمی اداروں میں ان کے داخلوں کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کی جارہی ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments