حکومتی رابطے پر مثبت جواب، پہلی شرط عمران سے ملاقات : اپوزیشن لیڈر، لانگ مارچ پشاور سے پہلے خیبر جائیگا : وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

 حکومتی رابطے پر مثبت جواب، پہلی شرط عمران سے ملاقات : اپوزیشن لیڈر، لانگ مارچ پشاور سے پہلے خیبر جائیگا :  وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

ایک بھی مطالبہ غیرآئینی ہوا تولانگ مارچ منسوخ ،پشتون کے سر کا سودا قبول نہیں،پورا ملک نکلے گا تو سر چھپانے کی جگہ نہ ملے گی:سہیل آفریدی ،مارچ کے شرکا سے خطاب اپوزیشن وفد کی فضل الرحمن سے ملاقات، پی ٹی آئی احتجاج ریکارڈ کرانا چاہتی ہے تو رکاوٹ نہیں ڈالنی چاہیے :سربراہ جے یو آئی،گرفتاریوں کا سلسلہ بند ہونا چاہیے :بیرسٹرگوہر

کوہاٹ،اسلام آباد(اپنے رپورٹر سے ،دنیا نیوز،نیوز ایجنسیاں ، مانیٹرنگ ڈیسک)قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی نے ساتھی رہنماؤں کو ہدایت کی ہے کہ حکومتی رابطے پر مثبت جواب دیا جائے جبکہ مذاکرات کیلئے پہلی شرط عمران سے ملاقات ہونی چاہیے ، وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ لانگ مارچ پشاور سے پہلے خیبر جائے گا، مطالبات کا ڈرافٹ سوشل میڈیا پر جاری کر دیا ہے ، اگر ایک بھی نکتہ غیر آئینی ہوا تو لانگ مارچ منسوخ کر دوں گا۔ کوہاٹ سے روانگی پر یونیورسٹی چوک میں لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ کوہاٹ کے غیرت مند لوگوں کا مشکور ہوں اور جوش و جذبے کو سلام پیش کرتا ہوں، یہ وہ جذبہ اور حب الوطنی ہے جو ہمیشہ ٹارگٹ کی جاتی ہے ،  میرے جوانو! آپ کا وزیر اعلیٰ کسی سے نہیں ڈرتا اور میرے پختونخوا کے جوان بھی کسی سے نہیں ڈرتے ۔انہوں نے کہا سب کو معلوم ہے کہ ہم لانگ مارچ کرنے پر کیوں مجبور ہوئے ؟ جب سے وزیر اعلیٰ بنا تب سے اب تک ہر دروازہ کھٹکھٹایا، جتنے جمہوری، آئینی و قانونی راستے تھے وہ سب اپنائے ، بار بار کہتا رہا کہ آپ مجھے بتائیں کہ میرے پاس کون سا راستہ بچتا ہے ؟جعلی وزیر اعظم سے فون پر کہا میری عمران خان سے ملاقات کرائیں انہوں نے کہا پوچھ کر بتاتا ہوں، پھر صوبائی اسمبلی سے قرارداد منظور ہوئی کہ میری ملاقات ہونی چاہیے۔

چیف جسٹس پاکستان کو کہا مگر ملاقات نہیں ہوئی، اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے میرا سلام لینا بھی گوارہ نہیں کیا ، سپریم کورٹ کے تین ججز حکم کرتے ہیں کہ عمران خان کا شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں علاج کرایا جائے اس پر عمل نہیں ہوتا۔ جہاں سے انصاف کی توقع ہو مگر انصاف نہ ملے تو یہ آئین ہمیں اجازت دیتا ہے کہ ہم پُرامن احتجاج کریں، ہم نے پُرامن احتجاج کا آغاز جنوبی ریجن سے کر دیا ہے ، ہم نہتے اور پر امن طریقے سے اپنا احتجاج ریکارڈ کرائیں گے ، عمران خان کا علاج، ملاقات غیر آئینی نہیں ہے ، انصاف پر رہائی غیر آئینی نہیں ہے ، ججز کیوں ڈرتے ہیں؟ ججز کیسز کیوں نہیں سن رہے ؟ کیسز سنیں تو عمران خان ایک گھنٹے میں باہر ہوں گے ،عمران خان نے کوئی جرم نہیں کیا، اگر جیل میں ہیں تو اس کی وجہ ہے کہ پاکستان اور دنیا کے طاقتور ترین کو ایبسلوٹلی ناٹ بولا تھا، یہ عمران خان کی مقبولیت سے ڈرتے ہیں، یہ اتنے بزدل ڈرپوک اور مکار ہیں کہ کبھی بھی ہمارے لیڈر کو باہر نہیں آنے دیں گے ، اگر وہ عدالتیں جو آپ کے ٹیکس کے پیسے سے چلتی ہیں، اسمبلیاں، ادارے آپ کے ٹیکس کے پیسے سے چلتے ہیں تو راج بھی عوام کا چلنا ہوگا ، اگر عدالتیں انصاف نہیں کریں گی تو عوام سڑکوں پر انصاف کریں گے ، عوام نے فیصلہ کیا ہے کہ انہوں نے سڑکوں پر نکلنا ہے ، جب پورا صوبہ اور ملک نکلے گا تو کسی کو سر چھپانے کی جگہ نہیں ملے گی۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ کہا کہ مذاکرات اور بات چیت سے مسائل حل ہوں، سیاسی مذاکرات ہو رہے تھے اور وہاں یہ سوچا جا رہا تھا کہ اپنی کرسی بچانے کے لیے پشتون کے سر کا سودا کیا جائے ، میں ایسی کرسی پر لعنت بھیجتا ہوں، پختونوں کے سر کا سودا نہ پہلے قبول تھا، نہ اب ہے اور نہ کبھی ہوگا، عوام چاہتے ہیں کہ مسائل صوبائی حکومت کی پالیسی سے حل ہوں، میں پالیسی دے رہا ہوں، 22 سال سے آپریشن پر آپریشن اور ڈرون پر ڈرون کارروائیاں ہورہی ہیں مگر دہشت گردی ختم نہیں ہوئی، آپ کی ناکام پالیسی سے دہشت گردی ختم نہیں ہوسکی ،میں پالیسی دیتا ہوں، 100 دن میں امن قائم ہو سکتا ہے ۔انہوں نے کہا ہمارا پلان پشاور کا تھا مگر اب پہلے خیبر جائیں گے ، اس کے بعد پشاور جائیں گے ، ہم نے لانگ مارچ کی تاریخ 27 ستمبر سے 4 اکتوبر کی تو آپ نے دیکھا کہ پریس کانفرنسیں کہاں ہوئیں؟ جب ہم کہیں گے کہ اسلام آباد جائیں گے تو آپ کا باپ بھی ہمیں نہیں روک پائے گا۔ انہیں تکلیف 27 ستمبر سے 4 اکتوبر کی تاریخ تبدیل کرنے پر ہوئی اور اب ٹیسٹ میچ پر ہو رہی ہے ، 2018ء سے 2022ء تک یہاں امن تھا، عمران خان کسی کی غلامی نہیں کر رہے تھے ، عمران خان کو باہر لانا ہے ، وزیراعظم بنانا ہے ، عمران خان وزیراعظم ہوں گے تو ترقی اور خوشحالی بھی آئے گی، اس حکومت کا دور ختم ہونے والا ہے اور ہمارا زمانہ شروع ہونے والا ہے۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ اب بتایا جا رہا ہے کہ عمران خان کی صحت ایک بار پھر خراب ہوئی ہے ، عمران خان کی صحت کے ساتھ کھیلا جا رہا ہے ، اگر انہیں کوئی نقصان پہنچا تو جیل انتظامیہ، وزیراعظم اور دیگر متعلقہ ذمہ دار براہ راست ذمہ دار ہوں گے ۔دریں اثنا اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے اپوزیشن رہنماؤں کو مذاکرات کے حوالے سے ہدایات جاری کردیں، ذرائع کے مطابق محمود اچکزئی نے اپوزیشن رہنماؤں کو پیغام بھجوا دیا۔ذرائع کے مطابق محمود اچکزئی نے کہا کہ اگر حکومت مذاکرات کیلئے رابطہ کرے تو مثبت جواب دیا جائے ، حکومت کے رابطے پر پہلی شرط عمران خان سے ملاقات ہونی چاہیے ۔محمود اچکزئی نے کہا کہ عمران کی بہنوں کی رہائی سے حکومت مثبت پیشرفت کا آغاز کرسکتی ہے ، اگر بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہیں ہوتی تو وزیراعظم سے ملاقات بے معنی ہوگی۔ذرائع کے مطابق محمود اچکزئی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ ہوئی تو وزیراعظم سے ملاقات سے انکار کا سوچا جاسکتا ہے ۔دریں اثنا اپوزیشن کے وفد کی سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمن سے ملاقات ہوئی، اپوزیشن کے وفد میں علامہ راجا ناصر عباس، اسد قیصر، اخونزادہ حسین یوسف زئی اور دیگر رہنما شریک ہوئے ،جے یو آئی کی جانب سے سینیٹر کامران مرتضیٰ اور دیگر قائدین بھی شریک تھے۔

اس موقع پر فضل الرحمن نے کہا پی ٹی آئی اگر اسلام آباد آکر احتجاج ریکارڈ کرانا چاہتی ہے تو رکاوٹ نہیں ڈالنی چاہیے ۔ ہم مذاکرات کا حصہ نہیں تھے لیکن ہم مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں، حکومت نے مذاکرات کی گنجائش نہیں چھوڑی، جب مذاکرات ہوں تو سیاسی لب ولہجے میں ہونے چاہئیں۔ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے قومی سطح کی مشاورت ہونی چاہیے ، ہمیں اپنے علاقوں کی صورتحال کا بخوبی علم ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم آئین اور ریاست کے ساتھ کھڑے ہیں، ہم سب محب وطن ہیں۔ تجویز آئی ہے کہ ایک آل پارٹیز کانفرنس کرلی جائے ، ہم اپنی اپنی پارٹیوں سے مشاورت کے ساتھ ایک مشترکہ ایجنڈے کے تحت کانفرنس کریں گے ۔اپوزیشن لیڈر سینیٹ علامہ راجا ناصر عباس نے کہا کہ ملکی معاشی اور امن وامان کی صورتحال بہتر نہیں ، سیاستدان مسائل کا حل نکالتے ہیں، ہم نے مولانا فضل الرحمن کو آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی ہے ، مولانا صاحب کی طرح ہم بھی ایک متفقہ ایجنڈے کے متقاضی ہیں۔ ہم سب مل کر مشترکہ سیاسی جدوجہد کریں گے ، جہاں سیاسی عمل روک دیا جائے وہاں انتہا پسند رویے پروان چڑھتے ہیں۔مولانا صاحب نے کے پی میں گورنر راج اور ایمرجنسی کو مسترد کر دیا ، مولانا کے مطابق کے پی میں گورنر راج اور ایمرجنسی مسائل کا حل نہیں۔

سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی سلمان اکرم راجا نے راولپنڈی میں بیرسٹرگوہر کے ہمراہ میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کا اختیار اچکزئی اور علامہ راجاناصرکے پاس ہے ، حکومت خلوص سے مذاکرات چاہتی ہے تو ان سے رابطہ کرلے ،ہم سمجھتے ہیں کہ اس ملک میں بنیادی اصولوں پر ہمارا کوئی اختلاف نہیں ہے ، ہم نے مذاکرات میں ایک گنجائش نکالنے کی کوشش کی، یہ آخری کوشش نہیں تھی اور بھی مواقع آئیں گے ، ہم نے تمام زخموں پر مرہم رکھنا ہے ، جو اے پی سی ہم منعقد کریں گے اس میں پوری قوم کی آواز لے کر آ گے چلیں گے ، ہم حقیقی آزادی کی جنگ لڑ رہے رہیں۔انہوں نے کہا عمران خان کی ذاتی معالج تک رسائی قومی سلامتی کا معاملہ نہیں ہے ، لندن سے ڈاکٹربلائیں گے لیکن 40 سال سے ذاتی ڈاکٹر رہنے والے سے چیک اپ نہیں کرائیں گے ۔چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا مذاکرات کی پیشکش برائے نام ہے ،ہم ہمیشہ ریاست پاکستان کے ساتھ کھڑے رہے ، ہماری نیک نیتی کے باوجود ہمیں اپنے لیڈر سے ملنے نہیں دیا جارہا، بانی پی ٹی آئی کی بہنیں غیر سیاسی ہیں اور ان کو حراست میں لے لیا گیا، آج اڈیالہ آئے تو بتایا گیا کہ عمران خان کے کزن قاسم زمان کو حراست میں لے لیا، قاسم زمان غیر سیاسی ہیں کبھی کوئی سیاسی بیان نہیں دیا، ہمارے ایم این ایز، ایم پی ایز اٹھائے گئے گرفتاریوں کا سلسلہ بند ہونا چاہیے ۔انہوں نے کہا مذاکرات کی ناکامی کا ملبہ وزیراعلیٰ کے پی پر ڈالنا بالکل غلط ہے ، مذاکرات کے ایک دو اور راؤنڈ ہوتے تو معاملہ کہیں پہنچ جاتا، مذاکرات کی ناکامی کے بعد ملبہ ایک دوسرے پر نہ ڈالا جائے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...