جلد سماعت کی درخواست کیساتھ ٹھوس جوازہونا چاہیے ،چیف جسٹس
اب فیکسیشن پالیسی کے برعکس کوئی کیس مقرر نہیں ہوسکتا،بارنمائندگان سے نشست
اسلا م آباد (نیوزایجنسیاں )چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ جلد سماعت کی درخواست کیساتھ ٹھوس جواز ہونا چاہیے ،اب فیکسیشن پالیسی کےبرعکس کوئی کیس مقرر نہیں ہوسکتا۔چیف جسٹس کی پاکستان کی بار نمائندگان سے مشاورتی نشست میں سائلین کی آسانی کیلئے عدالتی اصلاحات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ چیف جسٹس نے کہا جلد سماعت کی تمام درخواستیں سماعت کے لئے مقرر کردی گئی ہیں،ان کا کہنا تھا کہ جلد سماعت کی درخواستوں پر کارروائی کی منظوری رجسٹرار دیتا ہے ۔چیف جسٹس نے بتایا کہ ٹیکس سے متعلق 400 مقدمات کا ایک ماہ میں فیصلہ کیا گیا، جبکہ سال 2024 کے صرف 23 کیسز باقی ہیں۔
سپریم کورٹ میں اب ٹیکس سے متعلق سال 2025 اور 2026 کے مقدمات زیر التوا ہیں۔ مزیدبرآں سپریم کورٹ میں 1818 لیگل کال سینٹر کا باضابطہ آغاز کر دیا گیا، چیف جسٹس یحیی آفریدی کی موجودگی میں پہلے کالر محمد سلیم کی کال سے سروس کا افتتاح ہوا۔چیف جسٹس نے کہا 1818 لیگل کال سینٹر کے ذریعے شہریوں کو مفت قانونی رہنمائی اور عدالتی معلومات فراہم کی جائیں گی، قانونی مشورے کے خواہشمند شہری گھر بیٹھے 1818 پر کال کر کے مفت رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں، مفت قانونی رہنمائی کے لیے شہریوں کو عدالت آنے یا بھاری اخراجات برداشت کرنے کی ضرورت نہیں۔ افتتاحی تقریب میں جسٹس ملک شہزاد احمد خان، جسٹس محمد شفیع صدیقی، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب، صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن، وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل اور لیگل ایڈ کمیٹی کے چیئرمین سمیت وکلا کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments