سعودی عرب: 2 ایئر پورٹس پر حوثیوں کے میزائل حملے، 12 افراد جاں بحق، 300 سے زائد زخمی
ریاض میں ہنگامی صورتحال،ڈاکٹروں کو فوری ہسپتالوں میں پہنچنے کی ہدایت،کئی زخمیوں کی حالت نازک،حوثیوں کیخلاف کارروائیوں میں شمولیت پر غور کرسکتے :ٹرمپ متعدد ایئر لائنز کی ریاض کیلئے پروازیں منسوخ ،یمن میں باب المندب کے اطراف جھڑپیں،63افراد جاں بحق،سعودی اتحادکاحوثیوں کے 130اہداف تباہ کرنیکادعویٰ
ریاض،دمام ،صنعا،واشنگٹن(اے ایف پی) سعودی عرب کے2ائیرپورٹس پرحوثیوں کے میزائل حملے ،12افراد جاں بحق،300سے زائدز خمی ہو گئے ،ریاض میں ہنگامی صورتحال،ڈاکٹروں کو فوری ہسپتالوں میں پہنچنے کی ہدایت،کئی زخمیوں کی حالت نازک ہے ،متعدد ایئر لائنز نے سعودی دار الحکومت ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کیلئے پروازیں منسوخ کر دیں ۔حملوں کے بعد غیر ملکی سفارتخانوں نے اپنے شہریوں کو ہوائی اڈے سے دور رہنے کا مشورہ دیا ہے ، امریکی صدر نے کہا کہ حوثیوں کیخلاف کارروائیوں میں شمولیت پر غور کرسکتے ہیں۔تفصیلات کے مطابق سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد ایئرپورٹ پر ہفتے کی سہ پہرحوثیوں کے میزائل حملے میں 12افراد جاں بحق، 300 سے زائدز خمی ہو گئے، ایئر پورٹ پر فضائی آپریشنز عارضی طور پر بند کر دئیے گئے ،نیو یارک ٹائمز کے مطابق حکام نے جاں بحق افراد اور زخمیوں کی تصدیق کی ہے۔
یہ حملہ فروری میں امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد کسی خلیجی عرب ملک میں ہونے والا سب سے ہلاکت خیز حملہ ہے ۔ادھر سعودی فوجی اتحاد نے ہفتے کو تصدیق کی ہے کہ دمام کے کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب بھی ایک میزائل گرا ہے تاہم جانی نقصان کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ریاض میں سنگین ہنگامی صورتحال کے پیش نظر وزارت صحت نے ڈاکٹروں کو مختلف ہسپتالوں میں فوری رپورٹ کرنے کی ہدایت کی ہے ۔طبی ذرائع نے بتایا کہ شہر بھر کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی ڈاکٹروں کو طلب کیا جا رہا ہے ۔ طبی عملے کو بتایا گیا ہے کہ صورتحال سنگین نوعیت کی ہے ، زخمیوں کو ریاض کے مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے ۔ کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے ،ایک مقامی ہسپتال کے ذریعے نے بتایا کہ ہوائی اڈے پر زخمی ہونے والے پانچ افراد کو انتہائی نگہداشت کے شعبے میں رکھا گیا ہے ، جبکہ مجموعی طور پر درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔
دو ڈاکٹروں نے اے ایف پی کو بتایا کہ مکہ مکرمہ جانے والے متعدد عازمینِ عمرہ پرواز میں سوار ہونے کا انتظار کرتے ہوئے زخمی ہو گئے ۔سعودی حکام نے تاحال ہنگامی صورتحال کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کیں۔ ہسپتال کے ذرائع نے بتایا کہ زخمیوں میں زیادہ تر سعودی شہری شامل ہیں۔ بعض زخمیوں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے بھی ہسپتال منتقل کیا گیا۔ عینی شاہدین نے ہفتے کو بتایا کہ ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے پرواز میں سوار ہونے کا انتظار کرتے ہوئے اسے دھماکے کی آواز سنائی دی۔دو دیگر عینی شاہدین نے بھی تصدیق کی کہ ہوائی اڈے سے لوگوں کو نکالا جا رہا تھا،عینی شاہد نے کہامیں گیٹ 403 پر موجود تھا، میں نے دیکھا کہ گیٹ 401 کو نشانہ بنایا گیا، میں نے اپنی آنکھوں کے سامنے زخمی افراد کو دیکھا، ہر کوئی بھاگ رہا تھا۔حملے کے بعد امریکا ،کینیڈا، جرمنی اور سپین سمیت غیر ملکی سفارتخانوں نے اپنے شہریوں کو ہوائی اڈے سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملے کے بعد حوثیوں کیخلاف کارروائیوں میں شمولیت پر غور کرسکتے ہیں۔وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اس معاملے کا جائزہ لے رہا ہے اور حالیہ حملے کی اطلاع ملنے کے بعد فیصلہ کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا بہت تیزی سے اقدامات کرتا ہے ۔ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے حوثیوں کے خلاف سعودی حملوں میں شامل ہونے کے بارے میں اپنا موقف تبدیل کر لیا ہے ، تو انہوں نے جواب دیا ہو سکتا ہے ۔ ٹرمپ نے کہا ہم اس معاملے کا جائزہ لیں گے ۔ سعودی عرب کے دار الحکومت ریاض کے شاہ خالد ایئرپورٹ پر حملے کے بعد متعدد ایئر لائنز نے ریاض کے لیے اپنی پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔کویت نے ریاض آنے اور جانے والی اپنی دو پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔اتحاد ایئرویز ،ایئر انڈیا ،فلائی دبئی، ترکش ایئرلائنز، لفتھانزا اور پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز نے بھی آئندہ چند روز کے لیے ریاض جانے والی اپنی پروازیں معطل کر دی ہیں۔
دوسری جانب یمن میں حکومتی فورسز اور حوثی باغیوں کے درمیان باب المندب آبنائے کے اطراف شدید جھڑپیں جاری ہیں، تاہم حکومتی فوج تاحال اہم آبی گزرگاہ کا کنٹرول حاصل نہیں کرسکی۔ فوجی ذرائع کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران لڑائی میں 63 افراد جاں بحق ہوئے ، جن میں حکومتی فورسز کے 35اہلکار اور 28حوثی شامل ہیں۔فوجی اتحاد نے ہفتے کو دعویٰ کیا کہ ایک بڑے آپریشن میں حوثیوں کے 130سے زائد اہداف تباہ کیے گئے ۔اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے مندوب عبدالعزیز محمد الواصل نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب اپنی سرزمین اور شہریوں کی سلامتی کے دفاع کا حق رکھتا ہے اور اس مقصد کیلئے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔کسی دہشت گرد ملیشیا کی جانب سے خطے پر اپنی مرضی مسلط کرنے کی کوشش قابل قبول نہیں۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے یمنی مندوب نے کہا ہے کہ حوثیوں کا خطرہ اب صرف یمن کا اندرونی معاملہ نہیں رہا بلکہ یہ عالمی امن و سلامتی کیلئے بھی خطرہ بن چکا ہے ۔یمنی مندوب نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ حوثیوں کو اسلحے اور مالی وسائل کی فراہمی روکنے کیلئے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ انہیں عالمی امن و سلامتی کیلئے خطرہ بننے سے روکا جا سکے ۔عرب گلف سٹیٹس انسٹی ٹیوٹ کی تجزیہ کار اینا جیکب نے پیش گوئی کی کہ حالیہ حملوں کے جواب میں سعودی عرب حوثیوں کے خلاف مزید سخت اقدامات کرے گا۔انہوں نے کہا ایک بات یقینی ہے کہ ہم انتہائی خطرناک انداز میں کشیدگی کی سیڑھی پر مسلسل اوپر بڑھ رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہایمنی حکومت اور سعودی عرب نے یمن میں حوثیوں کی پیش قدمیوں کو واپس پلٹنے کیلئے بھرپور کارروائیاں شروع کر دی ہیں، اور حوثی اس کے جواب میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ کر رہے ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments