معاملات طے ہوگئے تو وزیراعلیٰ نے مسودہ مراد سعیدکو بھیج دیا: محسن نقوی ، فضل الرحمٰن سے کہا تھا سہیل آفریدی کو بدل دیا جائے : ڈار، آئین کے تحت اقدامات کیے : عطاتارڑ، پختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت دہشتگردوں کو لائی : شہباز شریف

  معاملات طے ہوگئے تو وزیراعلیٰ نے مسودہ مراد سعیدکو بھیج دیا: محسن نقوی ، فضل الرحمٰن سے کہا تھا سہیل آفریدی کو بدل دیا جائے : ڈار، آئین کے تحت اقدامات کیے : عطاتارڑ، پختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت دہشتگردوں کو لائی : شہباز شریف

وزیراعظم نے اتحادیوں کو اعتماد میں لیا، سب کی حمایت کی یقین دہانی،صوبائی اسمبلی 6ماہ بعد بحال ہوگی،حکومت کی واپسی میں سال یا دو سال لگیں، انتظار کرنا ہوگا:نائب وزیراعظم صوبے کو وفاق سے چلانے کی پہلے سے تیاری،مذاکرات ڈھونگ تھے :ناصرعباس،دہشتگردی کا کوئی حامی نہیں،گورنر راج واپس لیں:علی ظفر، اپوزیشن ارکان کا سینیٹ میں احتجاج

 اسلام آباد(نامہ نگار،دنیا نیوز)وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت دہشتگردوں کو لائی ، انہیں کھلی چھوٹ دی گئی،جب دہشت گردی پھیل رہی ہو، روزانہ قربانیاں دی جا رہی ہوں اور ایک سیاسی جماعت اپنا وقت اور وسائل ملک میں  عدم استحکام پیدا کرنے پر صرف کر رہی ہو تو ترقی اور خوشحالی کا سفر کیسے آگے بڑھ سکتا ہے ؟ مجبوراً گورنر راج کا فیصلہ کیا گیا ،یہ لوگ دہشتگرد وں کے خلاف بولنے کو تیار نہیں ، مذاکرات میں سب کچھ طے ہونے والا تھا ، پی ٹی آئی وفد نے کہا اپنی حکومت سے بات کرنی ہے ،وہاں شاید دوسرا 9 مئی کرنے کا حکم تھا ،سب کچھ خراب کیا گیا ۔مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ خیبر پختونخوا پاکستان کا انتہائی خوبصورت صوبہ ہے اور وہاں کے عوام غیرت مند اور بہادر ہیں جنہوں نے ہمیشہ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کیلئے بھرپور ساتھ دیا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عظیم قربانیاں پیش کیں۔ انہوں نے کہا کہ 2017-18 تک پاکستان میں دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کر دیا گیا تھا ،تاہم تحریک انصاف کی حکومت آنے پر سوات میں دہشت گرد دوبارہ آنا شروع ہوگئے اور انہیں کھلی چھوٹ دی گئی،2024ء میں خیبر پختونخوا میں دوبارہ حکومت بننے کے بعد گزشتہ اڑھائی سال کے دوران وفاقی حکومت نے صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر چلنے کی حتی الامکان کوششیں کیں۔

سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور سے متعدد ملاقاتیں ہوئیں اور انہیں یقین دلایا گیا کہ ملک کی ترقی اور خوشحالی کا سفر مشترکہ ہے اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنا بھی مشترکہ ذمہ داری ہے ، نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے بعد بھی صوبائی حکومت کے ساتھ تعاون کی کوششیں جاری رکھی گئیں۔انہوں نے کہا کہ آج خیبر پختونخوا میں عوام، پولیس اہلکار اور افسران شہید اور اغواء ہو رہے ہیں، جبکہ فوج کے افسر اور جوان بھی اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں، اگر دہشت گردی اور خون خرابے کا مکمل طور پر خاتمہ نہ کیا گیا تو گزشتہ اڑھائی سال کے دوران ملک نے ترقی کا جو سفر طے کیا ہے اسے جاری رکھنا مشکل ہوگا۔ وزیراعظم نے کہا کہ اگر کوئی صوبائی حکومت ملک کی ترقی کے سفر کو آگے بڑھانے کے بجائے اسے ختم کرنے کے درپے ہو اور اسے یہ خدشہ ہو کہ ملک نے ترقی کرلی تو اس کی اپنی حیثیت کیا رہ جائے گی تو یہ افسوسناک صورتحال ہے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ اگر دہشت گردی کا خاتمہ ہو جائے تو اس سے ہر چیز بدل سکتی ہے ۔ انہوں نے کہا خیبر پختونخوا کے عوام گزشتہ 13 سال سے یونیورسٹیوں، سکولوں، ہسپتالوں، ادویات کی فراہمی، بہتر امن و امان اور بدعنوانی میں کمی کے منتظر ہیں تاہم ان مسائل کے حل پر توجہ دینے کے بجائے دھرنوں اور لانگ مارچ کے لیے وقت اور وسائل صرف کیے جا رہے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے مشاورت کے بعد اس وقت فیصلہ کیا جب مذاکرات کا سلسلہ ٹوٹ گیا۔

انہوں نے بتایا کہ مذاکرات میں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے نمائندے شامل تھے اور دن رات بات چیت ہوتی رہی۔ ایک موقع پر معاہدہ طے پانے کے قریب تھا اور تمام شرائط پر اتفاق ہو چکا تھا تاہم آخری مرحلے میں مزید وقت مانگا گیا تاکہ مسودہ وزیراعلیٰ کو دکھایا جا سکے جس کے بعد مذاکرات ناکام ہوگئے ، اس کے بعد صورتحال ایسی ہوگئی کہ 9 مئی جیسے واقعات دوبارہ پیدا کرنے اور تباہی مچانے کی کوشش کی جا رہی تھی۔وزیراعظم نے بتایا کہ اس کے بعد مولانا فضل الرحمن سے بھی رابطہ کیا گیا اور ان سے ملاقاتیں ہوئیں۔ ایک موقع پر وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ رات کے وقت جبکہ دوسری مرتبہ فجر کے وقت ان سے ملنے آئے ۔ بعد ازاں کابینہ کا اجلاس ہوا جو اڑھائی گھنٹے جاری رہا جس میں اتحادی جماعتیں بھی شامل تھیں۔ تفصیلی بحث کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان کو بچانے کے لیے مزید انتظار نہیں کیا جا سکتا، بصورت دیگر حالات مزید خراب ہو سکتے تھے ۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو اولین ترجیح دیتے ہوئے حکومت کو ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ کرنا پڑا، کیونکہ ملک کی ترقی، خوشحالی اور بقاء سے زیادہ اہم کوئی چیز نہیں۔

وزیراعظم نے بتایا کہ خیبرپختونخوا میں ایک ایڈوائزری کونسل قائم کی گئی ہے جس میں ماہرین، پیشہ ور افراد، ڈاکٹرز، ماہرین تعلیم اور مالیاتی امور کے ماہرین شامل ہیں۔دریں اثنا وزیراعظم شہباز شریف نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمر جنسی کے نفاذ پر حکومت کی اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں لے لیا ہے ،اتحادیوں نے وزیر اعظم کو خیبر پختونخوا کے حوالے سے حکومتی اقدامات کی مکمل حمایت کا یقین دلادیا، وزیر اعظم سے وفاقی وزیر تعلیم خالد مقبول صدیقی کی زیر قیادت متحدہ قومی موومنٹ کے وفد نے ملاقات کی ، ملاقات میں ملک کی مجموعی و سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا، وفد نے وزیراعظم کو خیبر پختونخوا کے حوالے سے حکومتی فیصلوں پر اپنی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔ پاکستان مسلم لیگ (ق)، بلوچستان عوامی پارٹی، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم لیگ (ضیا) کے پارلیمانی وفد نے بھی شہبازشریف سے ملاقات کی اور یقین دہانی کرائی کہ اتحادی جماعتیں موجودہ صورتحال میں وفاقی حکومت کے ساتھ کھڑی ہیں۔

اسلام آباد(اپنے رپورٹرسے ،نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک)پارلیمنٹ کے ایوان بالا سینیٹ میں اپوزیشن نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی وگورنرراج کو آئین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے احتجاج کیا اور اسے ختم کرنے کا مطالبہ کردیا ،جبکہ حکومت نے اسے صوبے کے وسیع تر مفاد میں آئینی اقدام قرار دیتے ہوئے کہاکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو جیتنا ہے اورجیت کر رہیں گے ۔ اجلاس کی صدارت چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کی ۔ اجلاس میں پی ٹی آئی کے ممبران کی حاضری کم جبکہ وزرا سمیت حکومتی ممبران بڑی تعداد میں تھے ۔نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ ایک سال میں خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں بے انتہا اضافہ ہوا ،ایمرجنسی اور گورنر راج لگا کرآئین کی خلاف ورزی نہیں کی گئی ،کابینہ کی مشاورت سے صوبے کے وسیع تر مفاد میں اسے لگایا تاکہ صوبے کے حالات اچھے ہوں ،ہمیں عملی اقدامات کرنا ہونگے ،ایڈوائزری کونسل کے ساتھ مکمل تعاون کریں گے تاہم اسمبلی 6 مہینے بعد بحال ہوگی جبکہ حکومت کی واپسی میں سال یا دو سال لگیں، انتظار کرنا ہوگا۔اسحاق ڈار نے کہا مولانا فضل الرحمن کی تجاویز کو کابینہ میں پیش کیا گیا، کابینہ نے ان سے کہاکہ صوبے میں دہشت گردی کا مسئلہ حل کیا جائے ، صوبے کی حکومت وزیراعلیٰ تبدیل کرے ،پی ٹی آئی دہشت گردی کے خلاف کھڑی ہو مگر کوئی جواب نہیں آیا۔

انہوں نے کہا کہ صوبے کے وسائل کو صوبائی حکومت نے بے تحاشا استعمال کیا ،800 ارب روپے جاچکے مگر صوبے میں صوبائی حکومت نے دہشت گردی کے خلاف،کوئی کام نہیں کیا ،اس کو بجٹ کا حصہ بنا کر ادھر اُدھر اڑا دیا،ہمیں مل کر دہشت گردی کو ختم کرنا ہوگا ،صوبے میں جو کچھ ہوا آئین کے مطابق ہوا ہے پروفیشنل لوگوں کو لگایا گیا ہے ۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ آئین کی خلاف ورزی نہیں ہوئی، آئین میں طریقہ کار دیا گیا تھا ، اگر آئین کی کسی شق کی خلاف ورزی ہوئی ہے تو ماہرین اس کی نشاندہی کریں اور بتائیں کہ کون سی آئینی شق کی خلاف ورزی کی گئی ہے ۔ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے ایک ایک شق کو بیٹھ کر دیکھا ہے ،کسی شق کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہوئی، اس ایکٹ کو غلط صحیح کہہ سکتے ہیں، ہمارے خیال میں یہ اقدام درست ہے ۔انہوں نے کہا علامہ راجہ ناصر عباس نے جذباتی تقریر کی،پارلیمنٹ میں بیٹھ کر ہی مذاکرات ہوئے تھے بات چیت شروع ہی دہشت گردی پر ہوئی تھی ،اس پراسد قیصر نے کہا کہ ہم ا س مسئلے پر ساتھ ہیں، اسد قیصر نے یقین دہانی کرائی تھی کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کا ساتھ دیا جائے گا۔ایمرجنسی لگانے کی آپشن 26 نومبر کو تھی، پہلے بھی تھی ،اب کیوں لگائی ،اس کی وجوہات ہیں سارا دن رابطہ کیا ،پیرانمبر 4 کو تبدیل کرنے پر تیار تھے ،ہم نے انتظار کیا مگر کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

ڈرافٹ میں تین بار تبدیلی ہوئی، چوتھی بار چھ ترامیم کی گئیں ،ہم نے ان سب کو مانا، مگر ا س کے باوجود صوبائی حکومت نے مثبت جواب نہیں دیا ،اس دن معاہدہ ہو جاتا تو ایمرجنسی نہیں لگتی، ہم میں سے کوئی نہیں چاہتا تھا ایمرجنسی لگے ۔ فیصلے وزیر اعلیٰ نے کرنے تھے تو ان لوگوں نے مذاکرات کیوں کئے ،ان کے پاس اختیارات نہیں تھے ،تمام چیزوں کو مراد سعید نے سبوتاژ کیا، فیصلے صوبائی حکومت نہیں مراد سعید کر رہا تھا ، جب سب طے ہوا تو تحریر وزیراعلیٰ کو دی گئی ، وزیراعلیٰ نے وہ ٹیکسٹ مراد سعید کو بھیجا، اس کے بعد دو دن کی محنت ضائع ہو گئی۔محسن نقوی نے کہا بیرسٹر گوہر سے کہا کہ آپ جاکر ان کا ویڈیو میسج ریکارڈ کر لیں، ہم نے دو گھنٹے انتظار کیا انہوں نے کہا سلاخوں کے پیچھے سے بیان ریکارڈ کراؤں گا، ہم نے وزیراعظم اور صدر کو بتایا، ہم سلاخوں کے پیچھے لے کرگئے انہوں نے کہا میں نے آج ریکارڈ نہیں کرنا کل کروں گا، ہم نے کہا دھرنا ہے وہ آپ کی ریکارڈ نگ کا انتظار کر رہے ہیں، جس کے بعد انہوں نے کہا میرے وکیلوں کو بلائیں پھر کروں گا۔انہوں نے کہا مذاکرات کے لئے رابطہ ہم نے کیا تھا، ایمرجنسی کا ذمہ دار،ہمیں نہ ٹھہر ایا جائے ، یہ صوبائی حکومت کے چند لوگ اور پارٹی کے لوگ تھے جنہیں نے حالات کو اس نہج پر پہنچایا۔

انہوں نے کہا 80 فیصد دہشت گردی افغانستان سے ہوتی ہے ،صوبائی حکومت کے کچھ لوگوں کے طالبان سے رابطے تھے ہمارے پاس ثبوت تھے جب کہیں گے سامنے لے آئیں گے ،ہم وہاں جنا زوں پر پہنچ جاتے تھے مگر صوبائی حکومت نہ آتی ۔انہوں نے کہا دہشت گردی کو ختم کرنے میں کامیاب ہونگے ،وہاں کے نوجوانوں کو ساتھ لے کر چلیں گے ۔اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہا عمران خان سے ملاقات کرنا کیا کوئی جرم ہے ، ایک سابق وزیر اعظم کے ساتھ جیل میں ملاقات کس طرح غیر قانونی ہے ، جب ریلیف نہیں ملے گا تو کہاں جائیں گے ،بلوچستان کے حالات خیبر پختونخوا سے بھی زیادہ خراب ہیں وہاں پر ایمرجنسی کیوں نہیں لگائی گئی،کے پی کے میں حالات کیا اتنے خراب ہوگئے تھے اٹھا کر پھینک دیا گیا ،دوتہائی اکثریت کو باہر نکال دیا گیا ،12 اکتوبر سیاہ دن تھا، 11 بھی سیاہ دن ہے ۔خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ کرکے غیر آئینی اقدام کیا گیا،آئین سے کھیل کھیلا گیا،پاکستان کا آئین مقدس ہے جسے متنازعہ بنا دیا گیا،گورنر راج سے کیا پیغام دیا،اس راستے سے بدامنی بڑھے گی ،دہشت گردی بڑھے گی ،حکومت نے خیبر پختونخوا کے عوام کو مایوس کیا ہے ، وہاں پر منتخب وزیر اعلیٰ کو پابند سلاسل کیا گیا ،اگر یہی صورتحال رہی تو نوجوانوں کو کون سمجھائے گا ،اختلافات تو ہوتے ہیں ،جمہوری وزیراعظم اختلافات برداشت نہیں کرتے ، روز بروز زوال ہے ،کیا پارلیمنٹ کی کوئی اہمیت ہے۔

لانگ مارچ دہشت گردی نہیں ہے ،حکومت نے جو راستہ اپنایا ہے کہ اس سے بدامنی اور دہشت گردی میں اضافہ ہوگا،پہلے سے تیاری تھی کہ ا س صوبے کو وفاق سے چلائیں گے ، مذاکرات ڈھونگ تھے ،عمران خان کی ملاقات کے بغیر بھی فیصلہ کرنے کو تیار تھے ،ہم پیچھے ہٹ گئے تھے ، کیا حکمران ٹیم بااختیار تھی ؟نہیں تھی، وہ پیچھے کیوں ہٹی، ہم سب کا اتفاق تھا کہ وہ آپریشن کا ساتھ دیں گے ،دہشت گردی کے مقابلے میں کھڑے ہونگے ،پوری پارٹی کو ایک طرف کر دیا، کون نہیں چاہتا کہ امن ہو ، ہمیں سیاسی راستہ نکالنا ہوگا ۔اختیارات کا غلط استعمال جرم ہے ،ایمرجنسی اور گورنر راج کو ختم کریں، غلطی ٹھیک ہوسکتی ہے ،ایسے حالات اور خراب ہونگے ،پاکستان رہے گا تو پاکستان کو بچائیں گے ،حکمران اتحاد بھی مطمئن نہیں ہے ۔راجہ ناصر عباس نے کہاکہ وہاں پر میڈیا کی پابندی ہے ،انٹرنیٹ بند ہے ، یہ کیا حالات ہیں، ایک صوبے کے عوام کے ساتھ کیا سلوک کیا جارہا ہے ۔عوام ہمیں حقوق کی جنگ لڑنے کیلئے بھیجتے ہیں مگر یہاں پر پارلیمنٹ کی کوئی اہمیت نہیں ہے ۔ ایسے حالات تو ایک ڈکٹیٹر کے وقت میں بھی نہیں تھے ، وہ بھی ایک صوبے میں اپنی مخالف حکومت کو برداشت کرتی تھی مگر یہ حکومت نہیں کر رہی ہے ۔وہاں پر 11رکنی کمیٹی وفاق میں بنائی گئی ہے تو گورنر کیا کرے گا۔انہوں نے کہا صوبائی اسمبلی سمیت تمام سیاسی جماعتوں نے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ سفارشات تیار کی تھیں اور ایک قرارداد منظور کی تھی۔

ہم یہ کہہ رہے تھے اس ان سفارشات پر عمل درآمد کیا جائے اور اس پر تمام اپوزیشن کا اتفاق تھا۔پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر علی ظفر نے کہا کہ دہشت گردی کا کوئی حامی نہیں ،گورنر راج آئین شکنی ہے ،دہشت گردی کو شکست دینے جا رہے ہیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑتے لڑتے آئین کو ردی کی ٹوکری میں نہ پھینکا جائے ،آئین کی کون سی شق ہے جو یہ کہتی ہو کہ حکومت اپنی مخالف جماعت کو ہٹا دے ،آئین غیر معمولی حالات میں ایمرجنسی یا گورنر راج لگانے کی اجازت دیتا ہے ،مگر ہتھیار کے طور پر اس کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتا،انہوں نے کہا کہ عوام کا اعتماد زبردستی نہیں لیا جاسکتا ،حکومت کو ہٹا سکتے تھے ہٹا دیا ،سوچ پر پابندی عائد نہیں کرسکتے ،دہشت گردی کی مد میں سیاسی مخالفین کو دبا نہیں سکتے ،حکومت صرف ہمیں نہیں بلکہ پاکستان کو بھی نقصان پہنچا رہی ہے ، دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتیں گے ،ہم ساتھ کھڑے ہیں مگر آئین اور جمہوریت کو ہارنے نہیں دیں گے ،یہ فیصلہ واپس لیا جائے ۔ مذاکرات دوبارہ شروع کرکے گورنر راج کو ختم کیا جائے ۔اس کے بعد اپوزیشن نے سینیٹ اجلاس میں احتجاج شروع کردیا۔

دریں اثنا وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے وزیراطلاعات عطا اللہ تارڑ کے ہمراہ غیر ملکی میڈیا کے نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کی مدت کا کوئی حتمی ٹائم فریم نہیں دے سکتے ، ضرورت پڑنے پر ان میں توسیع کی جا سکتی ہے ۔انہوں نے کہا آئین ریاستی نظام حکومت اور مختلف حالات سے نمٹنے کے طریقہ کار کا تعین کرتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایمرجنسی کا نفاذ سیاسی مقاصد کے لئے کرنا ہوتا تو یہ اقدام پہلے بھی کیا جا سکتا تھا،خیبرپختونخوا کی سابقہ حکومت کا دہشت گردی کے خلاف عدم تعاون اور کردار ریکارڈ پر ہے ، انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے معاملہ وفاقی کابینہ کے سامنے رکھا جہاں تمام امور کا جائزہ لینے کے بعد خیبرپختونخوا کے عوام کے تحفظ اور وفاق کو مضبوط بنانے کے لئے آئینی راستے اختیار کرنے کا متفقہ فیصلہ کیا گیا۔ عطا اللہ تارڑ نے کہا آئین کے تحت اقدامات کئے گئے ، پی ٹی آئی کی معزول حکومت کے مبینہ جرائم کی فہرست طویل ہے تاہم احتساب کا طریق کار کیا ہوگا اور اس کا دائرہ کار کن شعبوں تک پھیلایا جائے گا، اس کا فیصلہ کرنا نئی مشاورتی کونسل کا اختیار ہے ۔انہوں نے کہا دہشت گردی کے خلاف ایک ملک میں 2 خارجہ پالیسیاں نہیں ہو سکتیں، خیبرپختونخوا میں صوبائی حکومت کی عملداری ختم ہو چکی تھی، امید ہے اب خیبرپختونخوا کے حالات میں بہتری آئے گی۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...