معزول کے پی حکومت کا احتساب مشاورتی کونسل کا اختیار: وزیر قانون
ایمرجنسی،گورنر راج کا کوئی ٹائم فریم نہیں، بوقت ضرورت توسیع کی جاسکتی ، اعظم نذیر تارڑ دہشتگردی کیخلاف2خارجہ پالیسیاں نہیں ہو سکتیں، وزیر اطلاعات ،غیر ملکی میڈیا کو بریفنگ
اسلام آباد (اے پی پی،دنیا نیوز)وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کی مدت کا کوئی حتمی ٹائم فریم نہیں دے سکتے ، ضرورت پڑنے پر ان میں توسیع کی جا سکتی ہے جبکہ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی معزول حکومت کے مبینہ جرائم کی فہرست طویل ہے تاہم احتساب کا طریق کار کیا ہوگا اور اس کا دائرہ کار کن شعبوں تک پھیلایا جائے گا، اس کا فیصلہ کرنا نئی مشاورتی کونسل کا اختیار ہے ،غیر ملکی میڈیا کے نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیر قانون نے کہا کہ آئین ریاستی نظام حکومت اور مختلف حالات سے نمٹنے کے طریقہ کار کا تعین کرتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایمرجنسی کا نفاذ سیاسی مقاصد کے لئے کرنا ہوتا تو یہ اقدام پہلے بھی کیا جا سکتا تھا،خیبرپختونخوا کی سابقہ حکومت کا دہشت گردی کے خلاف عدم تعاون اور کردار ریکارڈ پر ہے ، انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے معاملہ وفاقی کابینہ کے سامنے رکھا جہاں تمام امور کا جائزہ لینے کے بعد خیبرپختونخوا کے عوام کے تحفظ اور وفاق کو مضبوط بنانے کے لئے آئینی راستے اختیار کرنے کا متفقہ فیصلہ کیا گیا۔
وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف ایک ملک میں 2 خارجہ پالیسیاں نہیں ہو سکتیں، خیبرپختونخوا میں صوبائی حکومت کی عملداری ختم ہو چکی تھی۔ امید ہے اب خیبرپختونخوا کے حالات میں بہتری آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے تحریک انصاف اور خیبر پختونخوا حکومت کے ساتھ دہشتگردی کے خلاف مشترکہ پالیسی پر اتفاق رائے کیلئے متعدد بار مذاکرات کی کوشش کی، تاہم وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا انسداد دہشتگردی کے مربوط اقدامات پر آمادہ نہیں ہوئے ، وفاقی وزیر نے کہا کہ قومی مالیاتی کمیشن کے ذریعے اب تک خیبر پختونخوا حکومت کو تقریباً 800 ارب روپے فراہم کئے جا چکے ہیں، یہ بہت بڑی رقم ہے ، اسے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ قائم کرنے پر کیوں خرچ نہیں کیا گیا؟ یہ رقم خیبر پختونخوا میں سیف سٹی کیمرے نصب کرنے کے لئے کیوں استعمال نہیں ہوئی؟ فرانزک لیبارٹری قائم کرنے یا پولیس کے لئے جدید آلات خریدنے کی غرض سے یہ وسائل کیوں استعمال نہیں کئے گئے ؟ عطاء اللہ تارڑ نے ایک سوال پرکہا کہ مقدمات کے حوالے سے نئی مشاورتی کونسل کو مکمل اختیارات حاصل ہیں اور اسے قانونی طور پر مینڈیٹ بھی حاصل ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments