روسی وزیر داخلہ کی وزیراعظم،فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں،سکیورٹی تعاون بڑھانے پر اتفاق

روسی  وزیر داخلہ  کی  وزیراعظم،فیلڈ  مارشل  سے  ملاقاتیں،سکیورٹی  تعاون  بڑھانے  پر  اتفاق

تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اقتصادی ترقی سمیت باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کی ضرورت ،شہبازشریف عاصم منیر کا ادارہ جاتی روابط کے فروغ پرزور،اسحاق ڈار، محسن نقوی سے بھی ملاقات، منظم جرائم کیخلاف اشتراک کار کا معاہدہ

اسلام آباد،راولپنڈی(نامہ نگار،دنیا نیوز،نیوز ایجنسیاں)روسی وزیر خارجہ ولادیمیرکولوکولتسیف نے وزیراعظم شہباز شریف ، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کیں، اس دوران سکیورٹی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا ۔ پاکستان کے سرکاری دورے پر یہاں موجود روسی وزیر شہباز شریف سے ملے تو وزیراعظم نے پاکستان اور روس کے تعلقات میں مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اس رفتار کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔وزیراعظم نے روس کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو مزید گہرا کرنے اور باہمی مفاد کے لیے موجودہ دوطرفہ طریقہ کار سے مؤثر استفادہ کرتے ہوئے تعاون کو آگے بڑھانے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور اقتصادی ترقی سمیت باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیا۔روسی وزیر داخلہ نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے اور مشترکہ دلچسپی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی روس کی خواہش کا اظہار کیا۔ انہوں نے مختلف کثیرالجہتی فورمز، بالخصوص اقوام متحدہ میں پاکستان کی حمایت کو سراہتے ہوئے پاکستان اور روس کے درمیان تجارت اور اقتصادی تعاون کو وسعت دینے کے وسیع امکانات کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے دوطرفہ روابط مزید بڑھانے کے لیے پاکستان کے ساتھ قریبی تعاون کے لیے روس کی آمادگی کا اظہار کیا۔

بعد ازاں وزیراعظم نے منظم جرائم کی روک تھام کے لیے تعاون مضبوط بنانے سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تقریب میں بھی شرکت کی۔روسی وزیر داخلہ ولادیمیر کولوکولتسیف نے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو)راولپنڈی کا بھی دورہ کیا۔ جہاں انہوں نے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات کی۔پاک فوج کے شعبئہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور اور علاقائی سلامتی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ پاکستان اور روس کے درمیان دوطرفہ سکیورٹی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ دی گئی۔ ملاقات کے دوران دونوں فریقین نے پاکستان اور روس کے سکیورٹی اداروں کے درمیان قریبی ادارہ جاتی روابط کے فروغ اور باہمی رابطہ کاری کو بہتر بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔اس موقع پر سکیورٹی کے شعبے میں تعاون کو وسعت دینے اور مشترکہ مفادات کے امور پر مل کر کام کرنے سے متعلق تبادلہ خیال بھی کیا گیا۔فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے روس کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ کیا، انہوں نے مشترکہ مفادات کے شعبوں، بالخصوص سکیورٹی کے میدان میں عملی تعاون کو فروغ دینے کے لیے پاکستان کے عزم کو بھی اجاگر کیا۔روسی وزیر داخلہ نے علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا، انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور قربانیوں کا اعتراف بھی کیا۔

ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ یہ ملاقات پاکستان اور روس کے درمیان سکیورٹی تعاون کو مضبوط بنانے ، ادارہ جاتی روابط بڑھانے اور علاقائی سلامتی سے متعلق امور پر باہمی رابطہ کاری بہتر بنانے کی اہمیت کو اُجاگر کرتی ہے ۔ قبل ازیں روسی وزیر خارجہ کی اسحاق ڈار سے وزارت خارجہ میں ملاقات ہوئی، اسحاق ڈار نے پاکستان اور روس کے تعلقات میں مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے حالیہ اعلیٰ سطح کے دوروں اور تبادلوں کا خیرمقدم کیا ہے ۔ محسن نقوی اور وزیر مملکت داخلہ طلال چودھری بھی اس ملاقات میں شریک ہوئے ۔دونوں جانب سے تجارت، سرمایہ کاری، ثقافت اور سیاحت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے ، عوامی سطح پر روابط کو مضبوط بنانے اور شنگھائی تعاون تنظیم سمیت کثیرالجہتی فورمز پر قریبی تعاون برقرار رکھنے کے مختلف امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔علاوہ ازیں روسی وزیر داخلہ نے وفاقی وزارت داخلہ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ملاقات کی اور دونوں ممالک کے درمیان وفود کی سطح پر تفصیلی مذاکرات ہوئے ، مذاکرات میں باہمی دلچسپی کے امور، مشترکہ مفادات کے شعبوں میں تعاون کے فروغ اور سکیورٹی معاملات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان منظم جرائم کی روک تھام کے لیے اشتراک کار اور معلومات کے تبادلے کے مفاہمتی یادداشت(ایم او یو) پر دستخط کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔دونوں وزرائے داخلہ نے مجرمان کی حوالگی(ایکسٹراڈیشن)اور سزا یافتہ افراد کے تبادلے سے متعلق معاہدوں کو جلد حتمی شکل دینے سمیت ری ایڈمیشن معاہدے پر فوری عملدرآمد پر اتفاق کیا۔

اس کے علاوہ اینٹی نارکوٹکس فورس(اے این ایف) اور روس کے متعلقہ اداروں کے مابین منشیات کی سمگلنگ روکنے کے لیے تعاون بڑھانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ فریقین نے اس امر پر بھی اتفاق کیا کہ دونوں ممالک کی وزارت داخلہ کے ورکنگ گروپس جلد ایک دوسرے کے ملک کا دورہ کریں گے ۔ملاقات میں پاکستان سے روس ہنر مند افرادی قوت(اسکلڈ ورک فورس) بھیجنے ، سیاحوں اور تاجر برادری کے لیے ویزا کا حصول آسان بنانے ، سائبر کرائم کی روک تھام اور نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد و روس کی پولیس اکیڈمی کے مابین تربیتی شراکت داری پر بھی غور کیا گیا ، محسن نقوی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ منظم جرائم کی روک تھام کا مجوزہ معاہدہ پاک روس باہمی تعاون کے فروغ میں اہم سنگ میل ثابت ہوگا ،محسن نقوی کا کہنا تھا کہ پاکستان سائبر کرائم کے سدباب کے لیے روس کی جدید تکنیکی مہارت اور تجربات سے استفادہ کرنا چاہتا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت قریباً 1300 پاکستانی طلبہ روس کی مختلف جامعات میں زیر تعلیم ہیں اور پاکستان چاہتا ہے کہ مزید طلبہ اعلیٰ تعلیم کے لیے روس جائیں۔اس موقع پر روسی وزیر داخلہ نے کہا کہ دہشت گردی، منشیات کی سمگلنگ اور غیر قانونی نقل مکانی سمیت تمام قسم کے منظم جرائم کی بیخ کنی کے لئے مشترکہ اور ٹھوس اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ روس نے موثر حکمت عملی اور اقدامات کی بدولت اپنے ملک میں سائبر کرائم کی شرح میں 33 فیصد نمایاں کمی حاصل کی ہے اور وہ اس میدان میں پاکستان کے ساتھ اشتراک کے خواہاں ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...