ٹیکس شارٹ فال ناقابل قبول ہے :آئی ایم ایف
پاکستان 15264ارب کا ریونیو ہدف پورا کرے، ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر زرمبادلہ ذخائر تین ماہ کی درآمدات کیلئے کافی :سینیٹر اورنگزیب کی بریفنگ
اسلام آباد (مدثر علی رانا) ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر آئی ایم ایف نائجل کلارک نے مطالبہ کیا ہے کہ ٹیکس شارٹ فال ناقابل قبول ہے ، پاکستان 15264ارب کا ریونیو ہدف پورا کرے ۔قرض پروگرام کے تحت پاکستان مناسب زرمبادلہ ذخائر برقرار رکھنے اور محصولات میں اضافے کے لیے اقدامات کرے ۔ باوثوق ذرائع کے مطابق وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے ہمراہ وفد سے ملاقات کے دوران انہوں نے واضح کیا کہ رواں مالی سال ایف بی آر 15264 ارب روپے کا ریونیو ہدف حاصل کرے ، شارٹ فال کی گنجائش نہیں۔وزارت خزانہ کے اعلامیے کے مطابق وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بنکاک میں ورلڈ بینک گروپ اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر نائجل کلارک سے ملاقات کی جس میں پاکستان کی معاشی پیشرفت اور اصلاحاتی ترجیحات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر خزانہ نے آئی ایم ایف کے ساتھ شراکت داری، اصلاحات کے لیے مضبوط سیاسی عزم اور ان پر مسلسل عمل درآمد کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے پاکستان کی بین الاقوامی کیپٹل مارکیٹس میں واپسی اور سرمایہ کاروں کی بھرپور شرکت کو بھی اجاگر کیا۔وزیر خزانہ نے کمزور طبقات کے تحفظ اور سماجی ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لیے ہدفی فیول سبسڈی، زرمبادلہ ذخائر میں اضافے ، مسلسل تین سال بنیادی مالیاتی سرپلس کے حصول اور مجموعی قومی پیداوار کے تناسب سے قرضوں میں کمی کو نمایاں کیا۔
ملاقات میں پائیدار معاشی نمو، پالیسیوں میں تسلسل، مالیاتی نظم و ضبط اور صحت و تعلیم کے اخراجات کے تحفظ پر بھی گفتگو ہوئی۔وزیر خزانہ نے آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کے ساتھ اجلاس میں پاکستان کی معاشی پیشرفت اور علاقائی تعاون پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے بتایا کہ مالیاتی خسارہ 22 سال کی کم ترین سطح پر آگیا، مسلسل تین سال بنیادی مالیاتی سرپلس حاصل کیا گیا، معاشی شرح نمو 3.7 فیصد رہی اور زرمبادلہ ذخائر تین ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں۔ انہوں نے موسمیاتی اور علاقائی دھچکوں سے نمٹنے کی بہتر صلاحیت، خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری، ستمبر میں یورو بانڈ کے اجرا اور آئی ایم ایف کے ساتھ سٹاف لیول معاہدے کو معاشی پیشرفت کے شواہد قرار دیا۔ انہوں نے کم آمدنی والے طبقات کے تحفظ کے لیے ہدفی اور محدود مدت کی سبسڈی فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔وزیر خزانہ نے ورلڈ بینک گروپ اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر امریکی محکمہ خارجہ کے سفیر یون سے ملاقات کی جس میں دوطرفہ معاشی تعاون، تجارتی فریم ورک معاہدے پر پیشرفت اور امریکہ سے درآمدات بڑھا کر توانائی کے ذرائع میں تنوع لانے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔ ملاقات میں ایندھن کی مسلسل فراہمی، کمزور طبقات کو ریلیف، انسداد منی لانڈرنگ، دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام، فنانشل ایکشن ٹاسک فورس سے متعلق پیشرفت اور امریکی انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ فنانس کارپوریشن و ایکسپورٹ امپورٹ بینک کے ذریعے منصوبوں کی مالی معاونت پر گفتگو ہوئی۔ وزیر خزانہ نے ریکوڈک منصوبے ، اہم معدنیات، منصوبے کی سلامتی اور نجی سرمایہ کاری کے مواقع کو بھی اجاگر کیا۔
بوئنگ طیاروں کی خریداری و مالی معاونت، ہوا بازی سے متعلق منظوریوں، ڈیجیٹل اثاثوں کے ضابطہ جاتی نظام اور ترسیلات زر و یورو بانڈز کی ٹوکنائزیشن پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیر خزانہ نے ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز کے نمائندوں سے ملاقات میں پاکستان کی معاشی پیشرفت اور خودمختار کریڈٹ ریٹنگ کے امکانات پر گفتگو کی۔ انہوں نے ستمبر میں بانڈ کے اجرا، سرمایہ کاروں کی شرکت، آئی ایم ایف پروگرام کے تحت پیشرفت، ٹیکس وصولیوں میں بہتری، زرمبادلہ ذخائر میں اضافے اور کرنسی سوئپ و فارورڈ معاہدوں سے متعلق واجبات میں کمی سے آگاہ کیا۔ وزیر خزانہ کی ایشیائی انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کی صدر سے ملاقات میں انفراسٹرکچر فنانسنگ، ریلوے کی جدیدکاری اور کیپٹل مارکیٹ میں معاونت پر بات چیت ہوئی۔ بجلی کی ترسیل اور ریلوے کی جدیدکاری کو ترجیحی شعبے قرار دیا گیا۔ وزیر خزانہ نے کثیر سالہ قرضہ جاتی پروگرام، منصوبوں پر بروقت عمل درآمد اور سرکاری و نجی شراکت داری کے ذریعے نجی شعبے کی شرکت بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا۔ وزیر خزانہ نے پانڈا بانڈ کے لیے ضمانت کی فراہمی میں اے آئی آئی بی کے تعاون کو سراہا اور مالی معاونت کے ذرائع میں تنوع، قرضوں کی مدت بڑھانے اور ری فنانسنگ کے خطرات کم کرنے کی حکمت عملی سے آگاہ کیا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments