گریڈ16اور اوپر کے کالج سٹاف کی ریگولرائزیشن درخواستیں خارج
کابینہ کمیٹی کو گریڈ 16اوراوپر کی تقرریوں کی سفارش کرنے کا اختیارحاصل نہیں تھا غیر قانونی بنیاد پر حاصل کی گئی ریگولرائزیشن کو استثنیٰ نہیں دیا جا سکتا،اسلام آباد ہا ئیکورٹ
اسلام آباد(رضوان قاضی)اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی حکومت کے کالجوں کے گریڈ16 اور اوپر کے ٹیچنگ سٹاف اور کمپیوٹر ٹیچرز کی ریگولرائزیشن سے متعلق درخواستیں خارج کردیں۔جسٹس شاہ رخ ارجمند کی عدالت سے جاری 32 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ میں کہاگیا کہ وفاقی پبلک سروس کمیشن کا خط، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن میمورنڈم اور ایف ڈی ای کے خط کے تحت سکروٹنی اور ٹیسٹ/انٹرویوز کا عمل درست ہے ، عدالت نے کہا کابینہ ذیلی کمیٹی (برائے ریگولرائزیشن)کو بی پی ایس 16 اور اس سے اوپر کے گریڈز کی تقرریوں کی سفارش کرنے کا قانونی اختیار حاصل نہیں تھا،عدالتی فیصلے کے مطابق ایسی سفارشات اور ریگولرائزیشنز آغاز سے ہی کالعدم ہیں، غیر قانونی بنیادوں پر حاصل کی گئی ریگولرائزیشن کو ماضی اور بند شدہ لین دین قرار دے کر جانچ پڑتال سے استثنیٰ نہیں دیا جا سکتا۔ کنٹریکٹ کی شفاف بھرتی یا پراجیکٹ کا نان ڈویلپمنٹ فیز میں تبدیل ہونا ایف پی ایس سی کے ذریعے باقاعدہ تقرری کے لازمی تقاضوں کا متبادل نہیں بن سکتا، جو ملازمین ریٹائرمنٹ کے قریب ہیں متعلقہ حکام ان کے انفرادی کیسز کا فیصلہ کرتے وقت پوری احتیاط برتیں، تمام قانونی تقاضے پورے کریں، موجودہ عدالتی احکامات کا احترام کریں اور ریٹائرمنٹ کے فوائد کا خیال رکھیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments