ایل پی جی مہنگائی، سلنڈر 10ہزار سے متجاوز ہونیکا خدشہ
روزانہ قیمت مقرر کرنے پر غور، پکڑ دھکڑ پر لاہور میں ڈسٹری بیوٹرز کاشٹرڈاؤن ایل پی جی عرب ممالک سے درآمد کرنیکافیصلہ،فی کلونرخ 450 روپے تک ہوگا
اسلام آباد ،لاہور(ذیشان یوسفزئی،اپنے کامرس رپورٹر سے ،مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان میں ایل پی جی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوگیا جس سے شمالی علاقوں میں قیمت 750 روپے فی کلو تک جا پہنچی جبکہ حکومت کی جانب سے ایل پی جی کی قیمتیں روزانہ مقرر کرنے پر غور کیا جارہا ہے جس کے سبب سلنڈر 10 ہزار سے تجاوز کرنے کا خدشہ ہے ۔جبکہ آل پنجاب ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن نے انتظامیہ کے کریک ڈاؤن اور دکانیں سیل کرنے کے اقدام کیخلاف شٹرڈاؤن ہڑتال کی ہے ، دکانیں بند ہونے سے شہر میں گیس کا حصول بھی مشکل ہو گیا ۔حکومت نے ایل پی جی کے بحران اور قیمتوں میں اضافے کے پیش نظر ایران پر انحصار کم کرنے اور سمندر کے راستے عرب ممالک سے گیس درآمد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔ باخبر ذرائع کے مطابق پاکستانی کمپنیوں جن میں پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) اور دیگر ادارے شامل ہیں کو ایل پی جی کی درآمد شروع کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ذرائع کے مطابق پاکستان میں ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ ایران کے ساتھ سرحد کی بندش رہی، تاہم سرحد کھلنے کے باوجود ایران سے ایل پی جی کی برآمدات میں کمی کی اطلاعات ہیں۔ اسی تناظر میں متبادل ذرائع سے گیس کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سمندر کے راستے درآمد کی جانے والی ایل پی جی سعودی عرب سمیت دیگر عرب ممالک سے حاصل کی جائے گی۔ اس گیس کی متوقع قیمت 400 سے 450 روپے فی کلو بتائی جا رہی ہے تاہم مشرق وسطیٰ کی صورت حال کے باعث قیمت میں کمی بیشی ممکن ہے ۔
پاکستان میں سمندری راستے سے درآمد ہونے والی ایل پی جی کو دو ٹرمینلز، اینگروپاک اور سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی)کے ذریعے ذخیرہ اور ہینڈل کیا جائے گا۔ اینگرو پاک کی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت 4 ہزار 500 میٹرک ٹن جبکہ ایس ایس جی سی کے ٹرمینل کی صلاحیت 6 ہزار 750 میٹرک ٹن ہے ۔ دونوں ٹرمینلز کی مجموعی ذخیرہ صلاحیت 11 ہزار 250 میٹرک ٹن بنتی ہے ۔ذرائع کے مطابق پاکستان اپنی ایل پی جی کی مجموعی ضروریات کا تقریباً 70 فیصد درآمد کرتا ہے جبکہ درآمد شدہ گیس کا 60 سے 70 فیصد ماضی میں ایران سے آتا رہا ہے ۔ اس میں تقریباً 15 فیصد گیس سمندری راستے اور باقی زمینی راستے سے درآمد کی جاتی رہی ہے ۔ اب متبادل ممالک سے درآمدات بڑھا کر ایران پر انحصار کم کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے ۔پاکستان میں ایل پی جی کی یومیہ طلب 4 ہزار سے 5 ہزار میٹرک ٹن ہے جو سردیوں میں بڑھ کر 6 ہزار سے 7 ہزار میٹرک ٹن تک پہنچ جاتی ہے ۔ ملک میں ماہانہ طلب تقریباً ایک لاکھ 10 ہزار سے ایک لاکھ 35 ہزار میٹرک ٹن کے درمیان رہتی ہے ۔دوسری جانب اوگرا کے مقرر کردہ نرخ کے مطابق ایل پی جی کی قیمت تقریباً 270 روپے فی کلو بتائی جا رہی ہے جبکہ مارکیٹ میں اس کی فروخت 600 روپے فی کلو سے زائد ہونے کی اطلاعات ہیں۔ سمندری راستے سے درآمدات شروع ہونے کے بعد قیمتوں پر کیا اثر پڑے گا، اس کا انحصار درآمدی لاگت، عالمی منڈی اور مقامی رسد کی صورت حال پر ہوگا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments