فضل الرحمن کے بیانات،حکومت اب خاموش نہیں رہے گی

فضل الرحمن کے بیانات،حکومت اب خاموش نہیں رہے گی

ریاستی ادارے حکومت کی جانب سوالیہ نظروں سے دیکھتے نظر آ رہے ہیں

(تجزیہ:سلمان غنی)

 جے یو آئی کے سربراہ مولانافضل الرحمن کے دھشت گردی، معدنی وسائل کے ایشو سمیت اسٹیبلشمنٹ کو مسلسل ٹارگٹ کرنے کے عمل نے حکومت اور مسلم لیگ ن کی قیادت کو شدید پریشانی سے دو چار کررکھا ہے ۔ مولانا فضل الرحمن جنہوں نے ماضی میں پی ٹی آئی کی حکومت سے نجات میں بنیادی کردار ادا کیا تھا اور آج کی حکمران جماعتوں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی قیادت نے پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے ان کی سربراہی میں اس وقت کی حکومت کے خلاف جدوجہد کی تھی آج وہ ان جماعتوں کی حکومت کے ساتھ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کو بھی ٹارگٹ کرتے دکھائی دے رہے ہیں، مسلم لیگ ن کی لیڈر شپ اس حوالہ سے شدید کنفیوژن سے دو چار ہے ،خود لیڈرشپ کی سطح سے تو فضل الرحمن کے خلاف رد عمل سامنے نہیں آیا لیکن بعض حکومتی وزرا اس حوالہ سے مولانا کو ٹارگٹ کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ زیادہ زور اس بات پر دیا جا رہاہے کہ مولانا فضل الرحمن کو چونکہ حکومت میں جگہ نہیں ملی اور ان کی جانب سے اس ضمن میں فرسٹریشن کا اظہار ہو رہا ہے جبکہ جے یو آئی کے حلقے اس تنقید کو ہضم کرنے کے بجائے کھلم کھلا انکوٹارگٹ کر رہے ہیں اور حکومت کو فارم 47 کی حکومت قرار دیتے ہوئے عملاً پی ٹی آئی کا ساتھ دیتے نظر آ رہے ہیں ۔

خود مولانا فضل الرحمن بھی دفاعی انداز اختیار کرنے کو تیار نہیں اور ہر آنے والے دن میں ان کے حکومت اور ریاست بارے بیانات میں شدت آ رہی ہے ،اس حوالہ سے ریاستی ادارے حکومت کی جانب سوالیہ نظروں سے دیکھتے نظر آ رہے ہیں، حکومتی ذمہ داران فضل الرحمن کے احترام کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ان پر سیاسی دباؤتوڈالتے نظر آتے ہیں لیکن ان کے خلاف کسی آئینی، قانونی کارروائی پر پیش رفت کو تیار نہیں ۔ ایک اہم حکومتی ذریعہ کا کہنا ہے کہ ریاستی معاملات اور خصوصا ًدھشت گردی جیسے سنجیدہ ایشو پر ریاست زیادہ دیر تک خاموش نہیں رہے گی۔ دوسری جانب ماہرین کا کہنا کہ ایک وقت میں اسٹیبلشمنٹ سے اچھے تعلقات کے حامل فضل الرحمن اس نہج پر کیوں آئے اور وہ اپنے مؤقف پر پسپائی اختیار کرنے کو تیار نہیں تو یہ خود حکومت اور ریاست دونوں کیلئے لمحہ فکریہ ہے ۔ ماہرین کا کہنا کہ ریاست اتنی کمزور نہیں کہ ان سرگرمیوں کا نوٹس نہ لے مگر اصل رکاوٹ خود حکومت ہے اور حکومت نہیں چاہتی کہ جے یو آئی بھی عملاً پی ٹی آئی کے ساتھ جا ملے ،ویسے تو سیاسی حقائق اب یہی ہیں کہ فضل الرحمن پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑے نظر آ رہے ہیں ۔عملاً سیاسی محاذ پر فضل الرحمن چھائے نظر آ رہے ہیں اور ا نہوں نے اپنے طر ز عمل سے خود کو اپوزیشن لیڈر بنا لیا اور منوا لیا ہے مگر وہ کسی ایسے عمل کا حصہ نہیں بنیں گے کہ جس کے نتیجہ میں ان کے خلاف قانون حرکت میں آئے ۔ اب ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ حکومت مولانا فضل الرحمن کے حوالہ سے سنجیدہ ہو رہی ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...