ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی ارکان نظر بندی کیس نمٹا دیا، فیصلہ جاری
ایڈووکیٹ جنرل کے مطابق مدت پوری ہونے پر نظر بندی احکامات ختم:جسٹس خادم حسین PCLسے نام نکالنے ، تائیکوانڈو فیڈریشن مشکوک ٹرانزیکشن پر مقدمہ کی درخواستیں نمٹا دیں
اسلام آباد (اپنے نامہ نگارسے )اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی ارکان اسمبلی عادل بازئی ، داوڑ کنڈی اور (ن)لیگی کارکن بشارت اللہ کی نظر بندی کا کیس نمٹانے کا فیصلہ جاری کر دیا، جسٹس خادم حسین سومرو کی عدالت نے جاری تحریری فیصلے میں 21 ستمبر کے نظر بندی احکامات وقت گزرنے کی وجہ سے غیر موثر قرار دے کر درخواستیں نمٹا دیں اور کہا ایڈووکیٹ جنرل کے مطابق نظر بندی کے ابتدائی اور بعد ازاں 3 اکتوبر کے احکامات مدت پوری ہونے پر ختم ہو چکے ، 3 اکتوبر کے نظر بندی احکامات کی قانونی حیثیت پر رائے نہیں دی گئی، فریقین قانون کے مطابق چیلنج کر سکتے ہیں۔
علاوہ ازیں جسٹس اعظم خان نے پی سی ایل سے نام نہ نکالنے پر شہری وجاہت حسین کی توہین عدالت کی درخواست عدالتی حکم پر عملدرآمد پر نمٹا دی۔ مزید برآں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ممتاز علی نے پاکستان تائیکوانڈو فیڈریشن کے 101 ملین روپے کی مبینہ مشکوک ٹرانزیکشن کے کیس میں شہری الیاس آفریدی کی اندراج مقدمہ کی درخواست نمٹاتے ہوئے کہا شہری چاہے تو متعلقہ فورم سے رجوع کرسکتاہے ۔ عدالتی احکامات میں کہاگیا کہ درخواست گزار کا این ٹی این اور قومی شناختی کارڈ نمبر تائیکوانڈو فیڈریشن نے کس طرح استعمال کیا یہ تعین ہونا ضروری ہے ، الزامات سنگین نوعیت کے ہیں، درخواست گزار چاہے تو فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں شکایت درج کراسکتا ہے ، ٹیکس فراڈ کا جرم ایف بی آر کا دائرہ اختیار ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments