اینٹی کرپشن میں ڈیپوٹیشن پر تعیناتیاں بند ہونی چاہئیں :چیف جسٹس
جعلی رجسٹریوں کے مقدمے میں رجسٹری محرر ، رجسٹرار کی عبوری ضمانتیں مسترد عدالت کی ڈی جی اینٹی کرپشن کو نئے رولز میں ترمیم کی تجاویز پر غور کی ہدایت
لاہور (کورٹ رپورٹر )چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے اینٹی کرپشن میں 40 فیصد افسر وں کی ڈیپوٹیشن پر تقرری پر اظہار تشویش کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اینٹی کرپشن میں ڈیپوٹیشن کا سلسلہ بند ہونا چاہیے پھر محکمہ ٹھیک ہوگا ۔ عدالت نے چھ جعلی رجسٹریوں کے مقدمے میں رجسٹری محرر تاج محمد اور رجسٹرار محبوب علی کی عبوری ضمانتیں مسترد کر دیں اور دوران سماعت چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس میں کہا کہ ریکارڈ دیکھنے سے جعلسازی نظر آتی ہے اور یہ ملی بھگت سے ہوئی، ایک غلط رجسٹری سے پراپرٹی کی مالیت کہاں سے کہاں پہنچ جاتی ہے ،رجسٹریوں کے انبار لگے ہوئے ہیں، لوگ خوار ہو رہے لیکن متعلقہ حکام کے کان پر جوں نہیں رینگتی۔
عدالتی حکم پر ڈی جی اینٹی کرپشن سہیل ظفر چٹھہ عدالت پیش ہوئے اور بتایا کہ نئے رولز تیار کرکے چیف سیکرٹری پنجاب کو بھجوا دئیے گئے ہیں۔ چیف جسٹس عالیہ نیلم نے استفسار کیا کہ اینٹی کرپشن میں سپیشل پراسیکیوٹرز کی تعیناتی کیلئے کیا اقدامات کئے گئے ہیں۔ڈی جی اینٹی کرپشن نے بتایا کہ پراسیکیوشن کیلئے فوجداری وکلا کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔ اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ ڈیپوٹیشن پر آنے والے افسران کیس خراب کر دیتے ہیں، پراسیکیوشن میں بھرتیوں کیلئے باقاعدہ اشتہار جاری کیا جانا چاہیے ،عدالت نے ڈی جی اینٹی کرپشن کو نئے رولز میں ترمیم سے متعلق تجاویز پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایت کردی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments