حکومت کے اپوزیشن کیساتھ مذاکرات کمزوری نہیں ذمہ داری

حکومت کے اپوزیشن کیساتھ مذاکرات کمزوری نہیں ذمہ داری

تقرریاں اڈیالہ جیل سے منظوری سے مشروط کیں تومعاملات رک جائینگے

(تجزیہ:سلمان غنی ) 

اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی جانب سے وزیراعظم ہاؤس جانے پر آمادگی اور بامقصد مذاکراتی عمل کے عندیہ سے ظاہر ہو رہا ہے کہ حالات اپوزیشن کو اس سطح پر لے آئے ہیں کہ وہ مل کر بیٹھنے اور باہمی تنازعات اور آئینی معاملات پر حکومت سے مذاکرات کیلئے تیار ہے ، اس سے پہلے جب اپوزیشن کو آئینی تقرریوں سمیت اہم ایشوز پر بات چیت کی پیشکش کی جاتی رہی تو اپوزیشن لیڈر وزیراعظم ہاؤس جانے سے انکاری تھے ،انہوں نے سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کے حوالہ سے بھی ایک لکیر کھینچ رکھی تھی، لہٰذا اس امر کا جائزہ ضروری ہے کہ اپوزیشن مذاکرات پر آنے کے لئے کیونکر تیار ہوئی،ویسے تو کہا جا رہا ہے کہ اپوزیشن لیڈر کی جانب سے وزیراعظم ہاؤس جانے پر آمادگی کا عمل ایک مثبت اشارہ ہے لیکن وزیراعظم ہاؤس جانے کی تیاری سے پیش رفت کی ضمانت نہیں ملتی، پیش رفت کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ ملاقات کے پیچھے ٹھوس ایجنڈا باہمی اعتماد اور عملی فیصلوں کی گارنٹی ہو ،مذاکراتی عمل کی کامیابی کے لئے مذاکرات کے خواہاں افراد ہی آگے آئیں تاکہ بات چیت ذمہ دارانہ ا نداز میں ہوتی نظر آئے ،فریقین کے پاس فیصلے کرنے ، منوانے اور ان پر عمل درآمد کرنے اور کرانے کی سیاسی طاقت ہو، ویسے تو اس امر کا تجزیہ بھی ضروری ہے کہ جمہوری ملکوں اور معاشروں میں کبھی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈیڈ لاک نہیں ہوتا ،وہاں اپوزیشن میں بیٹھنے کو گناہ نہیں سمجھا جاتا ،پختونخوا حکومت کے خاتمہ کے بعد خود اپوزیشن لیڈر کے سیاسی کردار پر پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی کے تحفظات بھی ریکارڈ کا حصہ ہیں،واقفان حال تو اب بھی مذاکرات کے لئے لچک کے عمل کو اس دباؤ کا شاخسانہ قرار دیتے نظر آ رہے ہیں لیکن سیاسی امور کے ماہرین مصر ہیں کہ جمہوری سسٹم کی بقا کا انحصار حکومت اپوزیشن کے درمیان سنجیدہ مذاکراتی عمل سے ہی وابستہ ہے۔

اپوزیشن میں اس حوالہ سے پیدا شدہ تحریک کا مقصد اپنے سیاسی کردار کی ادائیگی کے ساتھ سینکڑوں کی تعداد میں گرفتار اور نظر بند رہنماؤں اور کارکنوں کی رہائی کا عمل بھی ہے ، اب نئی پیدا شدہ صورتحال میں حکومت زیادہ اعتماد کی حامل اور اپوزیشن دفاعی محاذ پر کھڑی دکھائی دے رہی ہے ،حکومت کو سمجھنا چاہئے کہ اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنا کمزوری نہیں قومی ذمہ داری کا احساس ہے ،تمام سیاسی جماعتوں اور حکومتوں میں انتہا پسندانہ موقف رکھنے والے رہنما ضرور ہوتے ہیں لیکن ایسے لوگوں کی موجودگی میں کسی پوری جماعت یا پارٹی کو دہشت گردی قرار دینا حد درجہ کی حماقت ہے ، اب یہی وقت ہے کہ اپوزیشن بھی اپنے طرز عمل میں تبدیلی لائے اور جمہوری سوچ کا مظاہرہ کرے اور حکومت کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ سیاسی اختلافات کو انتظامی اقدامات کے ذریعے طے کرنے کی بجائے سیاسی راستہ اختیار کرے ،اپوزیشن لیڈر کی وزیراعظم سے ملاقات اور مشاورت کا عمل بعض آئینی تقرریوں کے حوالہ سے تو یہ عمل بھی اتفاق رائے سے ہی ممکن ہونا چاہئے ، اس لئے کہ یہ تقرریاں سیاسی بنیادوں کی بجائے ریاستی مفاد سے وابستہ ہوتی ہیں اور اپوزیشن لیڈر اگر تقرریوں کے اس عمل کو بھی’’اڈیالہ جیل‘‘ کی منظوری سے مشروط کریں گے تو پھر معاملات آگے نہیں چل پائیں گے اور اب تو اپوزیشن لیڈر کو بامقصد مذاکرات کے لئے جے یو آئی کے لیڈر مولانا فضل الرحمن کو بھی اعتماد میں لینا ہوگا، اس لئے کہ عملاً وہ اپوزیشن لیڈر کا کردار سنبھالے نظر آ رہے ہیں ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...