اپیلیٹ فورم کو مقدمہ دوبارہ فیصلے کیلئے بھجوانے کا بھی اختیار :وفاقی آئینی عدالت
نیشنل بینک ورکرز ویلفیئر یونین کے انتخابات سے متعلق متنازعہ دعوؤں کے فیصلے کیلئے حقائق و شواہد کا جائزہ ضروری این آئی آر سی کے فل بینچ کو اپیلیٹ اختیار کو موثر بنانے کیلئے درکار اختیار بھی حاصل،اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار
اسلام آباد(اے پی پی)کسی قانونی فورم کو اپیل سننے کا اختیار حاصل ہو تو وہ مقدمہ ازسرنو فیصلے کیلئے متعلقہ فورم کو واپس بھجوا سکتا ہے ، اس کیلئے قانون میں الگ سے واضح اجازت ضروری نہیں، وفاقی آئینی عدالت نے نیشنل بینک ورکرز ویلفیئر یونین کے آئین میں ترامیم کے معاملے پر این آئی آر سی کے فل بینچ کے اختیار کو قانونی قرار دیتے ہوئے یونین کی اپیلیں خارج کر دیں اور اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔چیف جسٹس جسٹس امین الدین خان اور جسٹس علی باقر نجفی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے قرار دیا کہ صنعتی تعلقات ایکٹ 2012 کے سیکشن 58 کے تحت نیشنل انڈسٹریل ریلیشنز کمیشن (این آئی آر سی) کے فل بینچ کو اپیل سننے کے ساتھ ایسے ضروری ضمنی اختیارات بھی حاصل ہیں جو اپیلیٹ اختیار کو موثر بنانے کیلئے درکار ہوں۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اگر کسی مقدمے میں طریقہ کار کی خامی یا حقائق کے تعین میں کمی رہ گئی ہو تو اپیلیٹ فورم متعلقہ حکم کالعدم قرار دے کر معاملہ دوبارہ فیصلے کے لیے واپس بھجوا سکتا ہے ۔ قانون میں ریمانڈ کا اختیار الگ سے واضح نہ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ اپیلیٹ فورم اس اختیار سے محروم ہے ۔فیصلے کے مطابق این آئی آر سی کے فل بینچ نے 19 دسمبر 2023 کو یونین کے آئین میں مجوزہ ترامیم کی منظوری کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے تمام متعلقہ فریقین کو سماعت کا موثر موقع فراہم کرنے کے بعد معاملے کا ازسرنو فیصلہ کرنے کی ہدایت کی تھی۔
اس حکم میں فریقین کے بنیادی حقوق کا حتمی تعین نہیں کیا گیا تھا۔وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ دائرہ اختیار کا سرے سے موجود نہ ہونا اور قانونی اختیار حاصل ہونے کے باوجود اس کے استعمال میں غلطی ہونا دو مختلف معاملات ہیں۔ این آئی آر سی کے فل بینچ کو سیکشن 58 کے تحت اپیل سننے کا اختیار حاصل تھا، اس لیے معاملہ دوبارہ فیصلے کیلئے واپس بھجوانے کا حکم دائرہ اختیار سے تجاوز نہیں تھا۔عدالت نے مزید کہا کہ یونین کے انتخابات، رکنیت، آئینی ترامیم اور عہدوں سے متعلق فریقین کے متنازع دعوؤں کا فیصلہ کرنے کیلئے حقائق اور شواہد کا جائزہ لینا ضروری ہے جس کا بنیادی اختیار متعلقہ خصوصی قانونی فورم کو حاصل ہے ۔ آئینی عدالت کا دائرہ اختیار نگرانی کی نوعیت کا ہے اور اسے عام طور پر متنازعہ حقائق کا ازسرنو جائزہ لینے کیلئے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔عدالت نے قرار دیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے این آئی آر سی کے حکم میں مداخلت نہ کرکے درست فیصلہ کیا، کیونکہ ریمانڈ کے حکم سے فریقین کے بنیادی حقوق کا حتمی فیصلہ نہیں ہوا تھا اور نہ ہی انہیں ناقابل تلافی نقصان پہنچا تھا۔وفاقی آئینی عدالت نے اپیل کی اجازت دینے سے انکار کرتے ہوئے دونوں درخواستیں خارج کر دیں اور اسلام آباد ہائیکورٹ کا 6 مئی 2026 کا فیصلہ برقرار رکھا۔ عدالت نے متعلقہ قانونی فورم کو ہدایت کی کہ تمام فریقین کو موثر سماعت کا موقع فراہم کرکے معاملے کا قانون کے مطابق ازسرنو فیصلہ کیا جائے اور وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے میں دی گئی آبزرویشنز کو مقدمے کے حتمی فیصلے پر اثرانداز نہ ہونے دیا جائے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments