قومی اسمبلی اجلاس کورم کی نذر، سیاسی کشیدگی برقرار رہی

 قومی اسمبلی اجلاس کورم کی نذر، سیاسی کشیدگی برقرار رہی

تین مرتبہ کورم کی نشاندہی، دو بار کارروائی تقریباً ایک ایک گھنٹہ معطل رہی مہنگائی ، بے روزگاری پر بحث نہ ہوسکی، پی ٹی آئی مطالبات ایوان میں چھائے رہے

اسلام آباد (سید قیصر شاہ) قومی اسمبلی کا غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی ہونے والا اجلاس حکومت اور اپوزیشن کی کشیدگی، نوک جھونک اور الزامات کی نذر رہا۔ ایوان میں قانون سازی تو ہوئی تاہم مہنگائی اور بے روزگاری جیسے عوامی مسائل پر کوئی قابل ذکر بحث سامنے نہ آسکی۔ پی ٹی آئی کی سرگرمیاں گورنر راج اور ایمرجنسی کی مخالفت، بانی پی ٹی آئی سے ملاقات، علاج معالجے اور انہیں ہسپتال منتقل کرنے کے مطالبات تک محدود رہیں، جبکہ جے یو آئی نے بھی ممکنہ گورنر راج اور ایمرجنسی پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔اجلاس کے دوران تین مرتبہ کورم کی نشاندہی کی گئی، دو بار کورم پورا نہ ہونے پر کارروائی تقریباً ایک، ایک گھنٹے کے لیے معطل کرنا پڑی، جس کے باعث ارکان سوالات کے جوابات اور ضمنی سوالات سے محروم رہے ۔ ایک حکومتی رکن نے بھی سوال اٹھایا کہ کیا حکومت اور اپوزیشن مل کر وقفہ سوالات معطل کرانے کے لیے کورم کی نشاندہی کرتی ہیں؟سوال یہ ہے کہ حکومتی ارکان اپنی حاضری یقینی کیوں نہیں بناتے اور اپوزیشن عوامی مسائل اجاگر کرنے کے بجائے کارروائی کیوں رکواتی ہے ؟ پارلیمنٹ عوام کی ترجمانی کا ادارہ ہے ، اسے سیاسی محاذ آرائی کا مرکز نہیں بننا چاہیے ۔ اجلاس جس سیاسی کشیدگی میں ملتوی ہوا ہے اس کے اثرات ایوان سے باہر بھی محسوس ہونے کا امکان ہے ۔ سیاسی درجہ حرارت کم کرنے کے لیے اکابرین کو آگے بڑھ کر پہل کرنا ہوگی اور نفرت کے شعلوں کو بجھانا ہوگا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...