پٹرولیم لیوی کی عدم ادائیگی جرم، 3 سال قید اور بھاری جرمانے ہونگے

پٹرولیم لیوی کی عدم ادائیگی جرم، 3 سال قید اور بھاری جرمانے ہونگے

کمپنیوں پر ادائیگی لازم، تاخیر سے لیوی جمع کرانے پرچھ ماہ کے کیبور کا ڈیڑھ گنا یا کم از کم بارہ فیصد سالانہ اضافی سرچارج عائد ہوگا عدم ادائیگی پر لائسنس معطل یا منسوخ ، ڈائریکٹرز اور پارٹنرز بھی سزا کے مستحق :قومی اسمبلی میں پیش ترمیمی بل کے مندرجات

اسلام آباد (ایس ایم زمان)وفاقی حکومت نے پٹرولیم پروڈکٹس پٹرولیم لیوی اینڈ کلائمیٹ سپورٹ لیوی ترمیمی بل 2026 قومی اسمبلی میں منظوری کے لیے پیش کردیا ۔ ترمیمی بل کے مطابق پٹرولیم لیوی اور کلائمیٹ سپورٹ لیوی کی عدم ادائیگی جرم ہوگی، جس پر تین سال تک قید، لیوی کی مالیت کے برابر جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جاسکیں گی۔بل کے تحت تمام آئل مارکیٹنگ کمپنیوں، ریفائنریز اور لائسنس یافتگان کے لیے اوگرا سے لائسنس حاصل کرنے کے بعد وفاقی حکومت کو مقررہ نرخوں کے مطابق پٹرولیم لیوی اور کلائمیٹ سپورٹ لیوی ادا کرنا لازمی ہوگا۔ ریفائنریز کو پٹرولیم مصنوعات کی سپلائی یا اجرا سے قبل ایڈوانس کی صورت میں لیوی جمع کروانا ہوگی، جبکہ درآمدی پٹرولیم مصنوعات پر کسٹمز ایکٹ 1969 کے تحت درآمدی ڈیوٹی کی طرز پر لیوی وصول کی جائے گی۔

ترمیمی بل کے مطابق اگر کوئی کمپنی یا لائسنس ہولڈر مقررہ وقت پر لیوی یا متعلقہ سرچارج ادا نہیں کرتا تو ڈیفالٹ کی تاریخ سے مکمل ادائیگی تک چھ ماہ کے کیبور (KIBOR) کا ڈیڑھ گنا یا کم از کم بارہ فیصد سالانہ کی شرح سے اضافی لیٹ پیمنٹ سرچارج عائد ہوگا۔بقایاجات اور سرچارج کی وصولی کے لیے پبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ، سیلز ٹیکس ایکٹ اور کسٹمز ایکٹ کی متعلقہ دفعات نافذ ہوں گی۔ متعلقہ ٹیکس اور کسٹمز حکام بیک وقت وصولی کی کارروائی بھی شروع کرسکیں گے ۔ وزارت پٹرولیم اور ٹیکس حکام کے درمیان ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے ڈیٹا کا تبادلہ بھی کیا جائے گا جبکہ اوگرا کو عدم ادائیگی یا خلاف ورزی پر متعلقہ کمپنی کا لائسنس معطل یا منسوخ کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔بل میں لیوی کی مکمل ادائیگی نہ کرنے یا اس میں غفلت برتنے کو باقاعدہ جرم قرار دیا گیا ہے ، جس پر تین سال تک قید، لیوی کی مالیت کے برابر جرمانہ یا دونوں سزائیں ایک ساتھ دی جاسکیں گی۔

اگر جرم میں کوئی کمپنی، کارپوریشن یا فرم ملوث پائی گئی تو اس کے ڈائریکٹرز اور پارٹنرز بھی ذمہ دار تصور ہوں گے ، تاہم وہ یہ ثابت کرسکیں گے کہ جرم ان کی لاعلمی میں ہوا تھا۔ ایسے کسی بھی جرم کا نوٹس صرف فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے بااختیار افسر کی تحریری شکایت پر لیا جاسکے گا۔شفافیت یقینی بنانے کے لیے تمام کمپنیوں، ریفائنریز اور لائسنس یافتگان کو پٹرولیم لیوی کی ادائیگی سے متعلق ماہانہ گوشوارے متعلقہ ڈویژن میں جمع کروانا ہوں گے ۔ اس کے علاوہ ہر مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے آڈٹ اوور سائٹ بورڈ سے رجسٹرڈ منظور شدہ آڈٹ فرم کے ذریعے سالانہ آڈٹ شدہ سرٹیفکیٹس بھی جمع کروانا لازم ہوگا جن میں لیوی کی درستگی کی تصدیق کی جائے گی۔ آڈٹ کے تمام اخراجات متعلقہ کمپنی یا ریفائنری خود برداشت کرے گی۔بل کے مطابق قانون کے نفاذ سے قبل کے بقایاجات پبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ کی دفعات کے تحت قابل وصول ہوں گے ، جبکہ نئے قانون سے پہلے کے واجبات کی وصولی یا ان سے متعلق قانونی کارروائیوں پر اس ترمیمی بل کا کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...