خیبرپختونخوا، بلوچستان میں آپریشن، 4 دہشتگرد ہلاک
لکی مروت،نوشہرہ میں فائرنگ، اہلکار شہید،پی پی رہنما ، اسسٹنٹ کمشنر زخمی قلات،خاران،تمپ سے 4لاشیں برآمد،کوہلو میں مشینری نذر آتش،2کاشتکار اغوا
پشاور،کوئٹہ(کرائم رپورٹر، سٹاف رپورٹر،نیوز ایجنسیاں )خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں پولیس اور سکیورٹی فورسز کے آپریشن میں 4دہشتگرد ہلاک ہوگئے ۔ خیبر پختونخوا کے ضلع اورکزئی کے علاقے درہ حسن زئی میں دہشت گردوں اور پولیس کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا، اس دوران 2دہشتگرد ہلاک جبکہ ایس ایچ او سمیت 2 پولیس اہلکار زخمی ہو گئے ۔ لکی مروت میں ایڈیشنل سیشن جج کے کمرہ عدالت کے باہر اندھا دھند فائرنگ کی گئی ،جس کی زد میں آکر پولیس اہلکار کرامت اللہ جاں بحق اور پی پی پی کے ضلعی سیکرٹری اطلاعات جاوید اقبال ایڈوکیٹ اور انشااللہ شدید زخمی ہوگئے ، فائرنگ ہونے پر کچہری میں بھگدڑ مچ گئی۔نوشہرہ کے علاقہ پناکوٹ چراٹ میں نامعلوم ملزمان کی فائرنگ سے اسسٹنٹ کمشنر مانسہرہ عادل وسیم شدید زخمی ہوگئے ۔ مانسہرہ میں تعینات اسسٹنٹ کمشنر فاتحہ خوانی کیلئے اپنے گاؤں آئے ہوئے تھے۔
دریں اثنا بلوچستان میں سکیورٹی فورسز نے آواران کے علاقے میں کواڈ کاپٹر کے ذریعے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران 2 خارجیوں کو ہلاک کردیا، ہلاک دہشتگردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ ، گولہ بارود برآمد کرلیا گیا،ادھر قلات کی تحصیل خالق آباد کے قریب میرانزئی سے 2 نامعلوم افراد کی تشدد زدہ لاشیں ملی ہیں ،جبکہ خاران میں زردین کوٹی کے قریب وڈو نالے اور تمپ سے بھی ایک ایک نامعلوم لاش ملی ہے ۔ کوہلو کے علاقے سنہڑی پوژہ روڈ پر نامعلوم ملزمان نے سڑک تعمیر کرنے والی کمپنی کی مشینری کو نذر آتش کردیا ،ڈیرہ مرا دجمالی کے علاقے سے نامعلوم مسلح افراد 2 نوجوان کاشتکاروں ضمیر احمد اور لعل حسین کو اغوا کرکے لے گئے ،گزشتہ تین روز کے دوران اغوا ہونے والوں کی تعداد 4 ہوگئی۔ تین روز قبل چھتر کے علاقے سے دو مزدوروں کو اغوا کیا گیا تھا جو تعمیراتی کام کررہے تھے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments