انتقامی سیاست ملک کے مفاد میں نہیں : خواجہ آصف
لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا انتقامی سیاست کبھی بھی ملک کے مفاد میں نہیں،حکومتیں پہلے گرفتار کرتی ہیں، پھر الزامات سوچتی ہیں،مجھے گرفتار کرنے والے بھی الزامات واضح نہ کرسکے۔
سیالکوٹ میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ 1991 میں سیاست میں قدم رکھا اور 36سال سے ملک کی خدمت کررہا ہوں، سیالکوٹ شہرمیری پہچان ہے ، اس کے عوام کی بہتری میری ذمے داری ہے ، کبھی کبھی سوچتاہوں کہ تھک گیا ہوں۔ پرسوں مولانا سے اسمبلی میں ملاقات ہوئی ، مولانا فضل الرحمن کے بیان پر ردعمل دیا تو محسوس ہوا ابھی تھوڑا دم خم ہے ، سیاسی زندگی میں بہت سے نشیب و فراز دیکھے ، مشرف دور میں اٹک قلعہ میں قید رہا، اٹک جیل قلعہ ایک خوفناک جگہ ہے ، مجھے چھوٹے سے کمرے میں قید رکھا گیا، چار دفعہ جیل کاٹی، مشرف دور میں سوا مہینہ جیل میں رکھا گیا،2020 میں پی ٹی آئی دور میں نیب کی قید میں 6 ماہ رہا، مجھے قید کرنے والے یہ بھی نہ بتا سکے کہ میرے خلاف چارج کیا ہے ، آج جس مقام پرکھڑے ہیں قابل فخر بات یہ ہے کہ پاکستان کا سفارتی سطح پر ایک مقام ہے ، نیب والوں سے میں پوچھتا تھا کہ میرے خلاف چارج کیا ہے۔
سیاسی حکومتیں جب کسی کوپکڑنا چاہتی ہیں تو پہلے پکڑتی ہیں پھر سوچتی ہیں کہ چارج کیا لگانا ہے ، انتقامی سیاست کبھی بھی ملک کے مفاد میں نہیں۔وزیر دفاع نے مزید کہا کہ ہم نے خود سے 5 گنا بڑے دشمن کو شکست دی، جنگیں پہلے بھی ہوئیں لیکن کوئی نہ کوئی ابہام رہ جاتا تھا، یہ پہلی جنگ تھی بھارت کے ساتھ جس میں کوئی ابہام نہیں اور بھارت نے خود تسلیم کیا ، ان کی فوج نے تسلیم کیا ،میڈیا نے تسلیم کیا ہے ، یہ پاکستان کے لیے بہت بڑا اعزاز ہے ۔انہوں نے کہا کہ امریکا کا صدر گیارہ دفعہ کہہ چکا ہے، 70 دفعہ جہاز گن چکا ہے کہ کتنے ہم نے گرائے ہیں، فیلڈ مارشل کی قیادت میں سفارتی کامیابیاں جاری ہیں، ہم نے اسلامی ملکوں کو ایک راہ دکھائی کہ سمندر پار اڈے آپکی حفاظت کے لیے نہیں بنے ،یہ اسرائیل کی حفاظت کے لیے بنے ہیں۔ سمندر پار اڈے ذاتی مفادات کیلئے بنے ہوتے ہیں، حفاظت اپنے دست وبازو پر ہوتی ہے، جیسے پاکستان نے بھارت کوشکست دی۔پاکستان نے ایران کے عرب بھائیوں کے ساتھ اختلافات دور کیے ۔ان کا کہنا تھا کہ اس ملک کی حفاظت شہدا نے اپنے خون سے کی ہے ،جنگ میں فتح سے عالمی سطح پر ہمیں پذیرائی ملی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments