ایران کو اپنے دفاع کیلئے بیجنگ کی حمایت حاصل:چین،نئی فوجی کارروائی کے اشارے تشویشناک :روس

ایران کو اپنے دفاع کیلئے بیجنگ کی حمایت حاصل:چین،نئی فوجی کارروائی کے اشارے تشویشناک :روس

چین کی مشرق وسطیٰ میں سفارتی کوششیں تیز،چینی صدر کی عمان کے سلطان ہیثم بن طارق سے ملاقات، چینی وزیر خارجہ کی ایرانی اور سعودی حکام سے الگ الگ ملاقاتیں امریکا سے بالواسطہ مذاکرات تیزی سے جاری ،قطر ، پاکستان فعال ثالثی کردار ادا کر رہے، ایران ،آبنائے ہرمز کھولنے کی مشروط پیشکش،عالمی منڈی میں تیل 6 فیصد سستا

بیجنگ،ماسکو،تہران(نیوز ایجنسیاں)چین نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی ختم کرنے کیلئے سفارتی کوششیں تیز کرتے ہوئے ایران، عمان اور سعودی عرب کو مذاکرات کی میز پر واپسی پر زور دیا ہے ۔ چینی صدر شی جن پنگ نے پیر کے روز عمان کے سلطان ہیثم بن طارق آل سعید کے ساتھ ملاقات کے دوران کہا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ اور خلیج فارس کا خطہ بڑی طاقتوں کے درمیان مسابقت کا میدان نہیں بننا چاہیے ۔چین اور عمان کے درمیان ملاقات کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ بیان میں مسقط نے مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے چین کی تجاویز کی حمایت کی اور امید ظاہر کی کہ بیجنگ خطے میں دیرپا استحکام کے قیام میں زیادہ نمایاں کردار ادا کرے گا۔علاوہ ازیں چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے بیجنگ میں ایرانی اور سعودی حکام سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ انہوں نے ایرانی عہدیدار علی باقری کنی سے گفتگو میں ایران کی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کی حمایت کا اظہار کیا۔

سعودی قومی سلامتی کے مشیر مساعد العیبان سے ملاقات میں وانگ یی نے علاقائی توانائی سلامتی اور بحری راستوں کے تحفظ کیلئے مذاکرات پر زور دیا۔ چینی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ایران کو اپنی خودمختاری اور سلامتی کے دفاع کیلئے چین کی حمایت حاصل ہے ۔ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے نائب سیکرٹری علی باقریکنی کے ساتھ ملاقات میں وانگ یی نے کہا کہ ان کا ملک مشرقِ وسطیٰ کے تنازع میں شامل تمام فریقوں پر زور دیتا ہے کہ وہ سیاسی حل پر غور کریں۔دوسری جانب روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان نے کہا ہے کہ اس بات کے اشارے موجود ہیں کہ ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے اور یہ انتہائی تشویش ناک ہے ۔ماریا زاخارووا نے کہا کہ گذشتہ چند ماہ کے تلخ تجربات سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ فوجی مہم جوئیاں، جن سے ایران میں ہلاکتیں اور تباہی پھیلتی ہیں، ایرانی عوام کے اپنے ملک کی خودمختاری اور آزادی کے دفاع کے عزم کو نہیں توڑ سکتیں۔ جو لوگ آج نئے حملوں کی دھمکیاں دے رہے ہیں، انھیں اس پر دوبارہ غور کرنا چاہیے ۔روس متعدد بار ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دے چکا ہے ۔ امریکی صدر ٹرمپ نے ایران پر دوبارہ فوجی حملے کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی وقت تہران کے خلاف سخت کارروائی کرنا پڑ سکتی ہے ۔ٹرمپ نے امریکی ریاست آئیووا میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ مزید جانی نقصان سے بچنے کیلئے فی الحال تحمل کا مظاہرہ کررہے ہیں، تاہم ایک مرحلے پر ایران کو سخت جواب دینا ہوگا۔

ٹرمپ اس سے قبل بھی ایران کی فوجی تنصیبات کو دوبارہ نشانہ بنانے کا عندیہ دے چکے ہیں۔ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے متعلق صورتحال کی حساسیت اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث ثالث ممالک کے ساتھ مشاورت میں نمایاں تیزی آ گئی ہے ۔ترکمانستان میں موجود عباس عراقچی نے ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کو بتایا کہ موجودہ حالات کی نزاکت اور بحران کی سنگینی کے پیش نظر سفارتی رابطوں اور مشاورت کا عمل پہلے سے زیادہ تیز ہو گیا ہے ۔ ان کے بقول، قطر اور پاکستان ثالث کے طور پر انتہائی فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔عباس عراقچی نے کہا کہ ایران اور قطر کے درمیان تین روزہ مذاکرات اتوار کو کسی واضح پیش رفت کے بغیر ختم ہوگئے ۔ ایران اپنی شرائط اور تجاویز پہلے ہی سامنے رکھ چکا ہے اور اب معاملات کی پیش رفت کا انحصار واشنگٹن کی سیاسی دانشمندی پر ہے ۔ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق، ایران کی شرائط تسلیم کیے جانے کی صورت میں ہی آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جا سکتا ہے اور مذاکراتی عمل بحال ہو سکتا ہے ، انہوں نے جنگ کے خاتمے سمیت بعض شرائط پوری ہونے پر 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز کھولنے کی پیشکش کی ہے ۔۔ انھوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکا نے دھوکا دہی یا فوجی کارروائی کا راستہ اختیار کیا تو اسے ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ سخت اور شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے امکانات روشن ہونے پر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 6 فیصد سے زائد گرگئیں۔عالمی معیار برینٹ خام تیل 6 فیصد کمی کے بعد 106اعشاریہ60 ڈالر جبکہ امریکی خام تیل 6اعشاریہ4 فیصد گر کر97اعشاریہ49ڈالر فی بیرل پر آگیا۔ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ محسن رضائی نے روسی صدر پیوٹن سے ٹیلی فونک رابطہ کرکے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ہے ۔

گفتگو میں خطے میں جاری جنگ اور تازہ ترین صورتحال زیر بحث آئی۔ ایرانی میڈیا نے ٹیلی فونک گفتگو کی مزید تفصیلات یا دونوں رہنماؤں کے درمیان زیر بحث معاملات کی وضاحت نہیں کی۔ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمے کیلئے امریکا سے مذاکرات کے سلسلے میں حکومت کو خصوصی اختیارات دے دئیے ۔ صدر مسعود پزشکیان نے پیر کو اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ایران مسئلے کا حل مذاکرات کے ذریعے تلاش کرنے کی کوشش کر رہا ہے ۔صدر پزشکیان کا کہنا تھا کہ سپریم لیڈر نے اس مقصد کیلئے حکومت کو بعض اختیارات تفویض کیے ہیں۔ ایران کے نائب صدر محمد رضا عارف نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کی جانب سے ثالثوں کے ذریعے بھیجے گئے پیغامات تہران کی جنگی فتح تسلیم کرنے کا اشارہ ہیں۔ ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق عارف نے پیر کو کہا کہ گزشتہ دو جنگوں میں دشمن اپنے کسی بھی مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا اپنے مقاصد اور اندرونی عوامی دباؤ کے باعث مختلف سفارتی حربے استعمال کر رہا ہے ، تاہم ثالثوں کے ذریعے ایران کو موصول ہونے والے پیغامات ہماری کامیابی کا اعتراف ظاہر کرتے ہیں۔ ایرانی نائب صدر نے مزید کہا کہ واشنگٹن کے حالیہ رابطوں کو تہران اپنی کامیابی کی توثیق سمجھتا ہے ۔ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے دعویٰ کیا ہے کہ گذشتہ 9 روز کے دوران آبنائے ہرمز میں 11 آئل ٹینکرز آگ کی لپیٹ میں آ چکے ہیں، جبکہ بعض سمندر میں ڈوب گئے ہیں۔دوسری جانب ایرانی ذرائع ابلاغ نے اطلاع دی ہے کہ پیر کو آبنائے ہرمز کے مشرقی حصے میں دو آئل ٹینکر بارودی سرنگ سے ٹکرانے کے بعد آگ کی لپیٹ میں آ گئے ۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...