دہشتگردی کے سہولت کاروں میں پختونخوا کی نااہل حکومت بھی تھی:ترجمان پاک فوج
انسداد دہشت گردی میں رکاوٹ پیدا کرنیوالا سہولت کا راب موجود نہیں ، حکومت کی تبدیلی آئینی و قانونی ضوابط کے مطابق ہوئی بلوچستان میں دہشتگردوں اور اشرافیہ کا گٹھ جوڑ، دونوں صوبے کی ترقی کے مخالف:ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمدشریف
اسلام آباد(خصوصی نیوزرپورٹر)ترجمان پاک فوج لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہاہے کہ دہشت گردی کے سہولت کاروں میں سے خیبر پختونخوا میں نااہل اور لاتعلق حکومت بھی تھی، صوبے میں ایک سہولت کار جو انسداد دہشت گردی میں رکاوٹ پیدا کر رہا تھا وہ اب وہاں موجود نہیں۔عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کو دئیے گئے انٹرویو کی مزید تفصیلات کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر نے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں پر واضح کیا کہ ہمارے پاس دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ایک واضح حکمت عملی موجود ہے جس کا ایک حصہ یہ ہے کہ پاکستان کے اندر دہشت گردوں اور ان کے تمام سہولت کاروں کو ختم کرنا ہے ۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشت گردی سے متعلق کچھ ایسے مسائل بھی ہیں جنہیں ہمیں اندرونی طور پر سنبھالنا ہوگا۔ خیبرپختونخوا میں کوئی بھی شخص انسداد دہشت گردی کے آپریشنز کے خلاف نہیں ہے ، وہی لوگ انسداد دہشت گردی کی مخالفت کرتے ہیں جن کا ان دہشت گردوں سے گٹھ جوڑ ہے ۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں کسی بڑے فوجی آپریشن کے بجائے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن ہو رہے ہیں اور سکیورٹی فورسز روزانہ کی بنیاد پر تقریباً 200 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کرتی ہیں۔ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز پولیس، فوج اور قانون نافذ کرنے والے دیگر ادارے مشترکہ تعاون سے کرتے ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہماری ذہنیت بھارت کی طرح نہیں ہے کہ ہم تمام داخلی مسائل کو بیرونی قرار دیں اور ہم یہ نہیں کہتے کہ پاکستان میں تمام دہشت گردی صرف افغانستان کی وجہ سے ہے بلکہ افغانستان وہ بنیادی اڈہ ہے جہاں سے پاکستان میں دہشت گردی ہوتی ہے جہاں دہشت گردوں کی قیادت، ان کے تربیتی کیمپ اور لانچ پیڈز موجود ہیں۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ انسداد دہشت گردی کا کسی بھی ملک یا فوج کے پاس وہ تجربہ نہیں جو ہمارے پاس گزشتہ 20سال سے لڑنے کی وجہ سے ہے ، خیبرپختونخوا کے لوگوں نے اس دہشت گردی کی وجہ سے سب سے زیادہ مصائب برداشت کیے ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے غیور عوام بہادر ہیں اور پاکستانی معاشرے کا ایک بہت خاص حصہ ہیں۔
پشتونوں سے بہتر کوئی لوگ نہیں، وہ اپنی روایات پر فخر کرنے والے ہیں، خیبر پختونخوا کے عوام امن و استحکام کا مطالبہ کرتے ہیں اور وہ اس کے مستحق بھی ہیں۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ حکومت کے خاتمے سے متعلق سوال ایک سیاسی سوال ہے جس کا جواب سیاستدان ہی بہتر دے سکتے ہیں، البتہ ہم جو سمجھتے اور جانتے ہیں وہ یہ ہے کہ حکومت کی تبدیلی آئینی و قانونی ضوابط کے مطابق ہوئی تھی۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشت گرد اپنے آقائوں کے اشاروں پر بلوچستان کی ترقی اور ترقیاتی منصوبوں کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بلوچستان میں دہشت گرد نہ صرف مائننگ بلکہ ایل پی جی ٹرکوں، سکولوں اور اساتذہ پر بھی حملے کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دہشت گرد پلوں اور ریلوے لائنوں کو بھی تباہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ معاشی سرگرمیاں معطل ہو سکیں، ہر وہ چیز جو مقامی آبادی کو روزگار اور معاشی قوت فراہم کرے ، دہشت گرد اسے نشانہ بناتے ہیں۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ بلوچستان کی اشرافیہ عام عوام کو غریب اور ان پڑھ رکھ کر اپنا اثر و رسوخ قائم رکھنا چاہتی ہے ، دہشتگرد اور اشرافیہ بلوچ عوام کو غربت اور پسماندگی میں رکھنا چاہتے ہیں تاکہ محرومی کا بیانیہ برقرار رہے ، بلوچستان میں دہشت گردوں اور اشرافیہ کا گٹھ جوڑ ہے ، کیونکہ دونوں ہی صوبے کی ترقی کے مخالف ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments