سموگ ، کورونا اور فلو ،لاہور میں 35ہزار سے زائد مریض
بخار، کھانسی، نزلہ، گلے اور جسم میں درد کی شکایات ،ویکسین کی عدم دستیابی سانس کی بیماریوں کی علامات پیدا ہو سکتی ہیں، شہری ماسک استعمال کریں:ڈاکٹر
لاہور (بلال چودھری )لاہور میں سموگ کی شدت میں اضافے کے ساتھ شہری مختلف بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں، سموگ کے ساتھ کورونا کے مختلف ویرینٹس اور انفلوئنزا وائرس پھیل رہے ہیں، جس کے باعث شہریوں میں بخار، کھانسی، نزلہ، گلے میں درد اور جسمانی درد کی شکایات بڑھنے لگی ہیں،فلو اور چیسٹ انفیکشن جیسی علامات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے ،شہری ابھی تک ماسک استعمال نہیں کر رہے جبکہ محکمہ صحت پنجاب کی جانب سے بھی تاحال اس حوالے سے کوئی ہدایات جاری نہیں کی گئیں،سروسز ہسپتال کے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ ای این ٹی پروفیسر شہباز غوری نے کہا ہے کہ کورونا، فلو اور سموگ سانس کی بیماریوں کی علامات پیدا کر سکتے ہیں، شہریوں کو چاہیے کہ بلا ضرورت گھروں سے باہر نہ نکلیں اور ماسک کا استعمال یقینی بنائیں، ذرائع کے مطابق لاہور کے 6 بڑے سرکاری ہسپتالوں میں 7 روز کے دوران 35 ہزار سے زائد مریض رپورٹ ہوئے ، میو ہسپتال میں فلو، کورونا اور انفلوئنزا جیسی علامات کے ساتھ 11 ہزار سے زائد مریض، سروسز ہسپتال میں 9 ہزار 800 سے زائد جبکہ جناح ہسپتال میں ایک ہزار سے زائد مریض رپورٹ ہوئے ۔ جنرل ہسپتال، گنگارام اور چلڈرن ہسپتال میں بھی ہزاروں مریض فلو جیسی علامات کے ساتھ رپورٹ ہوئے ۔دوسری جانب لاہور سمیت پنجاب بھر میں سرکاری سطح پر فلو ویکسین کی فراہمی تاحال ممکن نہیں ہو سکی ،سرکاری ہسپتالوں میں ویکسین کی عدم دستیابی برقرار ہے جس سے مریض مشکلات کا شکار ہیں۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کورونا کے مختلف ویرینٹس پہلے کے مقابلے میں کم شدت والے ہو سکتے ہیں تاہم علامات کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments