مڈٹرم الیکشن کیلئے ووٹنگ ، ممکنہ شکست کے بعد ٹرمپ کے احتساب کی تیاریاں : امریکی میڈیا
ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں، خاندانی کاروباری معاملات، تارکین وطن کی حراست جیسے امور کی تحقیقات ہوسکتیں، وزیر دفاع سمیت اہم کابینہ ارکان کے مواخذے کا بھی عندیہ مجھے مواخذے میں شکست دینے کا کافی تجربہ :امریکی صدر،وسط مدتی انتخابات میں بھی ووٹوں کی گنتی چیلنج کئے جانیکا امکان، ٹرمپ ایران کیخلاف کارروائیاں دوبارہ شروع کرسکتے
واشنگٹن (نیوز ایجنسیاں )امریکی وسط مدتی انتخابات میں ووٹروں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کی پالیسیوں پر اپنی رائے کا اظہار کر دیا ہے ۔ تمام 435 ارکانِ ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ کی 35 نشستوں سمیت 36 ریاستوں میں گورنروں کے انتخاب کے لیے ووٹنگ ہوئی ۔ امریکی میڈیا کے سروے میں ڈیموکریٹس کو قومی سطح پر ری پبلکنز پر آٹھ پوائنٹس کی برتری حاصل تھی۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اگر ری پبلکنز کانگریس کا کنٹرول کھو دیتے ہیں تو ٹرمپ کے باقی دورِ اقتدار کا بڑا حصہ ان کی انتظامیہ اور کاروباری معاملات کی ڈیموکریٹس کی قیادت میں ہونے والی تحقیقات کی نذر ہو سکتا ہے ، جبکہ انہیں ایک اور مواخذے کا سامنا کرنے کا امکان بھی موجود ہے ۔ اس دوران 2028ء کے صدارتی انتخابات میں ٹرمپ کے جانشین کے لیے ری پبلکن اور ڈیموکریٹ رہنماؤں کے درمیان سیاسی مقابلہ بھی نمایاں ہونا شروع ہو جائے گا۔اگر ووٹرز ری پبلکنز کے خلاف فیصلہ دیتے ہیں تو ٹرمپ کی اندرونِ ملک اور عالمی سطح پر سیاسی قوت اور اثر و رسوخ نمایاں طور پر کم ہو سکتا ہے ۔ صدر نے انتخابی مہم کے دوران بار بار ووٹروں سے کہا کہ وہ یہ تصور کریں کہ وہ خود بھی بیلٹ پر موجود ہیں، اس طرح انہوں نے ان انتخابات کو اپنی ذات اور کارکردگی سے جوڑ دیا۔
ٹرمپ اور ان کی انتخابی ٹیم نے یہ حکمتِ عملی اس امید پر اختیار کی کہ صدر کو انتخابی مہم کے مرکز میں رکھنے سے ان کے حامی بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے کے لیے باہر نکلیں گے ، کیونکہ وہ اس مرتبہ امیدوار نہیں تھے ۔ دوسری جانب ڈیموکریٹس کا خیال تھا کہ ٹرمپ کی انتخابی مہم میں غیر معمولی مداخلت نے ووٹروں کو معیشت کی خراب صورتِ حال کی ذمہ داری ان پر ڈالنے کا موقع دیا ہے ۔ رائے عامہ کے جائزوں میں معیشت ووٹروں کا سب سے اہم مسئلہ قرار پائی تھی۔نیوجرسی سے ڈیموکریٹ سینیٹر اینڈی کِم نے کہا کہ ٹرمپ کی خواہش تھی کہ ہر شخص انہیں امیدوار سمجھ کر ووٹ ڈالے ، اور ایسا ہی ہو رہا ہے ۔ ان کے بقول لوگ ٹرمپ اور ان کے ان اقدامات کے بارے میں سوچ رہے ہیں جن سے انہیں براہِ راست نقصان پہنچا ہے ۔صدر نے بعض مواقع پر کانگریس کا کنٹرول کھونے کے امکان کو زیادہ اہمیت نہیں دی اور اوکلاہوما میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ڈیموکریٹس اقتدار میں آ گئے تو وہ انہیں دوبارہ مواخذے کا نشانہ بنا سکتے ہیں۔ ٹرمپ نے کہا، ‘‘میں مواخذے میں انہیں شکست دینے کا کافی تجربہ حاصل کر چکا ہوں۔’’دوسری جانب ڈیموکریٹ رہنماؤں نے ، جنہیں کانگریس کے کم از کم ایک ایوان میں اکثریت ملنے کی امید تھی، واضح کرنا شروع کر دیا تھا کہ وہ کن معاملات کی تحقیقات کریں گے ۔ ان کی فہرست میں ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیاں، سرکاری عہدیداروں کا طرزِ عمل اور وائٹ ہاؤس پر اثرانداز ہونے کی کوشش کرنے والی نجی کمپنیوں کے ساتھ حکومتی اہلکاروں کے روابط شامل ہیں۔
کیلیفورنیا سے ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس رابرٹ گارسیا، جو ڈیموکریٹس کے ایوانِ نمائندگان جیتنے کی صورت میں طاقتور نگرانی کمیٹی کی سربراہی کر سکتے ہیں، نے امیگریشن اور تارکینِ وطن کی حراست سے متعلق حکومتی پالیسیوں کی تحقیقات کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا ہے ۔ انہوں نے جنوبی کیلیفورنیا میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای)کے ایک حراستی مرکز کا اچانک دورہ بھی کیا اور ادارے کے طریقئہ کار کا احتساب کرنے کا اعلان کیا۔تحقیقات کے دیگر ممکنہ موضوعات میں ٹرمپ خاندان کے کاروباری معاملات، جیفری ایپسٹین کیس کی تحقیقات سے نمٹنے میں انتظامیہ کا کردار اور کارپوریٹ بدعنوانی کے وسیع تر الزامات شامل ہیں۔ڈیموکریٹس کو اکثریت ملنے کی صورت میں پارلیمانی کمیٹیوں کا کنٹرول، زیادہ بجٹ، اضافی عملہ اور سمن جاری کرنے کے اختیارات حاصل ہوں گے ۔ ان اختیارات کے ذریعے وہ انتظامیہ کو دستاویزات اور گواہی فراہم کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔ تاہم وائٹ ہاؤس ٹرمپ کی پہلی مدتِ صدارت کی حکمتِ عملی دہرا سکتا ہے ، جب اس نے کانگریس کی دستاویزات اور گواہی سے متعلق درخواستوں پر تاخیر کی اور بعض معلومات کو انتظامی استحقاق کے تحت فراہم کرنے سے انکار کیا تھا۔ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹ رہنما ہاکیم جیفریز کو بھی یہ فیصلہ کرنا پڑ سکتا ہے کہ آیا ٹرمپ کے خلاف تاریخ میں تیسری مرتبہ مواخذے کی کارروائی شروع کی جائے۔
ٹرمپ اپنی پہلی مدتِ صدارت میں دو مرتبہ مواخذے کا سامنا کر چکے ہیں، تاہم دونوں مرتبہ سینیٹ نے انہیں بری کر دیا تھا۔ڈیموکریٹ ارکان نے اس کے بجائے ٹرمپ کابینہ کے اہم ارکان، بالخصوص وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ، کے مواخذے کی کارروائی کا عندیہ بھی دیا ہے ۔ ہیگسیتھ ٹرمپ انتظامیہ کے وفادار ترین عہدیداروں میں شمار ہوتے ہیں اور ایران جنگ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، جس کی ڈیموکریٹس مخالفت کرتے رہے ہیں۔ اے ایف پی کے مطابق تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ اگرچہ اپنی دوسری صدارتی مدت کے آخری دو برسوں میں داخل ہو رہے ہوں گے ، لیکن شکست کی صورت میں ان کا سیاسی رویہ مزید جارحانہ اور انتقامی ہو سکتا ہے ۔وائٹ ہاؤس بھی ڈیموکریٹس کی جانب سے ممکنہ تحقیقات اور مواخذے کی کارروائیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ ٹائم میگزین کو انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ وہ ان کے خلاف کارروائی کریں گے تو وہ بھی ان کے خلاف کارروائی کریں گے۔
اس سلسلے میں وہ محکمہ انصاف کو اپنے خلاف تحقیقات کرنے والے ڈیموکریٹس کے خلاف تحقیقات کا حکم بھی دے سکتے ہیں۔ٹرمپ 2020 کے صدارتی انتخابات میں اپنی شکست کو بے بنیاد طور پر متنازع قرار دیتے رہے ہیں۔ خدشہ ہے کہ وہ وسط مدتی انتخابات میں بھی ووٹوں کی گنتی کو چیلنج کرنے یا متنازعہ حلقوں کے نتائج کی حتمی توثیق میں تاخیر کے ذریعے مداخلت کی کوشش کرسکتے ہیں۔خارجہ پالیسی وہ شعبہ ہے جہاں اقتدار کے آخری دور میں داخل ہونے والے امریکی صدر کے اختیارات بدستور وسیع رہتے ہیں۔ اس لیے ٹرمپ ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرسکتے ہیں ۔ایران جنگ طویل ہونے کے باعث پینٹاگون کے سربراہ پیٹ ہیگسیتھ کو عہدے سے ہٹائے جانے کی قیاس آرائیاں بھی جاری ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ ماضی میں بھی اپنی ناکامیوں کی ذمہ داری دوسروں پر ڈالنے کے لیے اہم عہدیداروں کو ہٹاتے رہے ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments