مہنگی ایل پی جی ، رکشہ ڈرائیوروں کی آمدن آدھی رہ گئی

مہنگی ایل پی جی ، رکشہ ڈرائیوروں کی آمدن آدھی رہ گئی

پہلے 1700اب 800کما پاتا ہوں ، گھروالوں نے ایک ٹائم کا کھانا چھوڑ دیا :ڈرائیور

لاہور (رائٹرز)پاکستان میں ایل پی جی کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے نے رکشہ ڈرائیوروں کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔ ایندھن مہنگا ہونے سے ان کی روزانہ آمدن نصف سے بھی کم رہ گئی ہے ، جس کے باعث کئی خاندانوں نے کھانے پینے کے اخراجات کم کر دئیے ہیں۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق لاہور میں ایک رکشہ ڈرائیور راشد علی نے بتایا کہ پہلے وہ روزانہ تقریباً 17 سو روپے کما تا تھا ، ایل پی جی مہنگی ہونے کے بعد اب بمشکل 800 روپے روزانہ کما ئے جاتے ہیں۔ خاندان نے اخراجات پورے کرنے کے لیے تین کے بجائے صرف دو وقت کا کھانا کھانا شروع کر دیا ہے ۔عوامی رکشہ یونین کے چیئرمین مجید غوری کے مطابق یونین کے 43 ہزار رکشوں اور تقریباً 8 ہزار چنگ چی رکشوں میں سے 70 فیصد ایل پی جی پر چلتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ایل پی جی غریبوں کا ایندھن ہے ، لیکن اس کی قیمتوں میں اضافے نے غریب طبقے کی مشکلات مزید بڑھا دی ہیں۔تاجروں کے مطابق 17 اکتوبر کو ایران کے ساتھ دو سرحدی گزرگاہیں بند ہونے کے بعد ایل پی جی کی درآمد متاثر ہوئی، جس کے نتیجے میں 12 کلوگرام کے سلنڈر کی قیمت چند روز میں 56 فیصد بڑھ کر 7 ہزار روپے تک پہنچ گئی۔ کھلی مارکیٹ میں ایل پی جی تقریباً 583 روپے فی کلو فروخت ہو رہی ہے ۔ پاکستان ایل پی جی ایسوسی ایشن کے مطابق سرحدی گزرگاہیں بند ہونے سے پہلے پاکستان ایران سے روزانہ تقریباً 7 ہزار میٹرک ٹن ایل پی جی درآمد کرتا تھا۔ راشد علی کے مطابق مہنگائی کے باوجود مسافر کرایہ بڑھانے پر تیار نہیں۔ دو سو سے ڈھائی سو روپے کے سفر کے لیے بعض مسافر صرف 80 سے 150 روپے دینے کی پیشکش کرتے ہیں۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...