میاں بیوی کے الگ الگ اثاثے ایک نہیں بن جاتے :سپریم کورٹ

 میاں بیوی کے الگ الگ اثاثے ایک نہیں بن جاتے :سپریم کورٹ

دونوں خودمختار ٹیکس دہندہ، اپنی اپنی جائیداد پر ٹیکس استثنیٰ حاصل کرنے کے حقدار بشریٰ اعتزازکو مکان پر ویلتھ ٹیکس سے استثنیٰ دینے کا لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار

اسلام آباد (کورٹ رپورٹر)سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ شادی کے باعث میاں بیوی کے الگ الگ اثاثے ایک نہیں بن جاتے ، دونوں خودمختار ٹیکس دہندہ ہیں اور اپنی اپنی جائیداد پر ٹیکس استثنیٰ حاصل کرنے کے حقدار ہیں۔ عدالت نے بشریٰ اعتزاز احسن کو اسلام آباد میں اپنے رہائشی مکان پر ویلتھ ٹیکس سے استثنیٰ دینے کا لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے کمشنر ان لینڈ ریونیو کی اپیلیں خارج کر دی ہیں۔سپریم کورٹ کے اکثریتی فیصلے میں قرار دیا گیا ہے کہ اعتزاز احسن کی جانب سے لاہور کے زمان پارک میں واقع مکان پر ٹیکس استثنیٰ حاصل کرنے سے ان کی اہلیہ بشریٰ اعتزاز احسن کا اسلام آباد میں واقع مکان پر استثنیٰ کا حق ختم نہیں ہوتا۔

میاں بیوی دونوں اپنی الگ الگ جائیدادوں پر قانون کے تحت ٹیکس استثنیٰ حاصل کر سکتے ہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے میں مداخلت کا کوئی قانونی جواز موجود نہیں، لہٰذا ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا جاتا ہے ۔کیس کے مطابق بشریٰ اعتزاز احسن نے 13 مئی 1996 کو اسلام آباد کے سیکٹر ایف سکس تھری میں رہائشی مکان خریدا تھا اور ویلتھ ٹیکس ایکٹ 1963 کے تحت مذکورہ مکان پر ٹیکس استثنیٰ کلیم کیا تھا،تاہم اسیسنگ آفیسر نے 29 مئی 2006 کو ان کی استثنیٰ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ٹیکس نوٹس جاری کر دیا تھا۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...