تھر کا کوئلہ اسٹرٹیجک قومی اثاثہ: وزیر اعلیٰ سندھ، قیمتوں کے تعین کا شفاف نظام تیار

تھر کا کوئلہ اسٹرٹیجک قومی اثاثہ: وزیر اعلیٰ سندھ، قیمتوں کے تعین کا شفاف نظام تیار

انرجی بورڈ اجلاس ،آئی پی پیزکے علاوہ دیگر خریداروں کیلئے نظرثانی شدہ طریقہ کارمنظور،9ارب 66کروڑ کے دعووں کی توثیق کوئلہ خشک کرنے ، بریکیٹس بنانے کی سہولت کی مؤثر نگرانی برقرار رکھنے کی ہدایت، تھر ریل رابطہ منصوبے پر پیشرفت کا بھی جائزہ

کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے تھر کے کوئلے کو قومی توانائی کے ایک اسٹرٹیجک وسیلے کے طور پر ترقی دینے کے عمل کو تیز کرنے کے لیے اپنی حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے تھر کول اینڈ انرجی بورڈ کے 31ویں اجلاس میں آزاد بجلی پیدا کرنے والے اداروں (آئی پی پیز)کے علاوہ دیگر خریداروں کے لیے کوئلے کی قیمتوں کے نظرثانی شدہ طریقہ کار کی منظوری دے دی اور 9 ارب 66 کروڑ روپے کے تصدیق شدہ ڈیوٹیز، ٹیکسز اور ورکرز پرافٹ پارٹیسپیشن فنڈ (ڈبلیو پی پی ایف) کے دعووں کی توثیق کر دی۔ اجلاس میں ٹیرف میں ردوبدل اور منصوبوں سے متعلق اہم امور سمیت تمام ایجنڈا آئٹمز کی بھی منظوری دی گئی، جبکہ وزیراعلیٰ نے جاری اقدامات پر بروقت عملدرآمد اور تھر کے کوئلے کی مکمل توانائی اور معاشی صلاحیت سے استفادہ کرنے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان بہتر رابطہ کاری کی ہدایت کی۔ مراد علی شاہ نے واضح کیا تھر کا کوئلہ محض صوبائی وسیلہ نہیں بلکہ ایک اسٹرٹیجک قومی اثاثہ ہے ۔ سندھ حکومت ملکی توانائی کے تحفظ اور معاشی خوشحالی میں تھر کے کوئلے کے کردار کو زیادہ سے زیادہ مؤثر بنانے کے لیے وفاقی حکومت، سرمایہ کاروں اور توانائی کے شعبے سے وابستہ فریقین کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے گی۔ اجلاس میں وزیر تعلیم سید سردار شاہ، وزیر منصوبہ بندی و ترقیات جام خان شورو، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ (بذریعہ زوم)، سیکریٹری توانائی شہاب انصاری، ایم ڈی / سیکریٹری تھر کول اینڈ انرجی بورڈ طارق شاہ، تھر کول ٹیرف ڈیٹرمنیشن کمیٹی کے ممبر مائننگ ڈاکٹر فہد عرفان صدیقی اور ممبر فنانس / پاور عمار حبیب خان نے شرکت کی۔وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال، وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری، وفاقی وزیر خزانہ و محصولات، ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن، وفاقی سیکریٹری توانائی (پاور ڈویڑن)، پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی شازیہ مری اور ممبر کرنی سنگھ نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔

بورڈ نے بلاک ون میں تھر کول ڈرائنگ اینڈ بریکیٹنگ منصوبے کا جائزہ لیا، جس کا مقصد کوئلے میں نمی کی مقدار 45 فیصد سے کم کرکے 18 فیصد تک لانا ہے ۔ اس منصوبے کی فی گھنٹہ 30 ٹن کوئلہ وصول کرنے اور 22 ٹن تیار کوئلہ فراہم کرنے کی صلاحیت ہے ۔ وزیراعلیٰ نے محکمہ توانائی اور تھر کول اینڈ انرجی بورڈ کو کوئلہ خشک کرنے اور بریکیٹس بنانے کی سہولت کی مؤثر نگرانی برقرار رکھنے کی ہدایت کی۔ وفاقی وزیر توانائی اویس خان لغاری نے کوئلہ خشک کرنے اور بریکیٹنگ منصوبے کے آغاز پر صوبائی حکومت کو مبارکباد دی۔بورڈ نے لکی الیکٹرک پاور کمپنی لمیٹڈ (ایل ای پی سی ایل) کے ساتھ کوئلے کی فراہمی کے انتظامات کا جائزہ لیا۔ کمپنی کے ساتھ کوئلے کی فراہمی کا معاہدہ طے پا چکا ہے اور اس کے 660 میگاواٹ کے بجلی گھر کے لیے کوئلے کی مکمل فراہمی شروع ہوچکی ہے ۔بورڈ نے 90 ارب 30 کروڑ روپے کے تھر ریل رابطہ منصوبے پر پیشرفت کا جائزہ لیا، جس میں تھر کے کوئلے کی کانوں سے نیو چھور تک 105 کلومیٹر طویل ریلوے لائن شامل ہے ۔ اس منصوبے پر 68 فیصد فزیکل پیش رفت ہوچکی ہے اور توقع ہے کہ اسے جلد مکمل کرلیا جائے گا۔ بن قاسم سے پورٹ قاسم تک 9 کلومیٹر طویل ڈبل ریلوے لائن کے لیے بولیاں طلب کی جا رہی ہیں۔ بلاک ٹو میں کوئلہ لوڈ کرنے کے اسٹیشن پر 55 فیصد فزیکل پیشرفت ہوئی ہے ۔ اس حوالے سے وزیراعلیٰ نے محکمہ توانائی کو ہدایت کی کہ اسے مارچ 2027 تک مکمل کیا جائے ۔ اس منصوبے کا مقصد تھر کے کوئلے کو بجلی گھروں اور دیگر صارفین تک پہنچانے میں سہولت فراہم کرنا ہے ۔

مجوزہ آپریشنل انتظام کے تحت روزانہ پانچ ٹرینیں چلائی جائیں گی، ہر ٹرین میں 40 بوگیاں ہوں گی، جبکہ نقل و حمل کا نظام برقرار رکھنے کے لیے مجموعی طور پر 400 بوگیوں کی ضرورت ہوگی۔اجلاس میں تھر کے کوئلے کی کان کنی کے آپریشنز کے لیے حیسکو کی جانب سے 132 کلو وولٹ کے بجلی کی ترسیل کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کا جائزہ لیا گیا۔ متعلقہ گرڈ اور ٹرانسمیشن کے بنیادی ڈھانچے کی تکمیل کا ہدف اپریل 2028 مقرر کیا گیا ہے ۔ بورڈ نے شنگھائی میں سندھ انویسٹمنٹ کانفرنس کے دوران طے پانے والی مفاہمت کی نو یادداشتوں کا بھی جائزہ لیا، جن میں تھر کے کوئلے کے استعمال سے متعلق حکومت اور کاروباری اداروں کے درمیان چار (جی ٹو بی) اور کاروباری اداروں کے درمیان پانچ (بی ٹو بی) معاہدے شامل ہیں۔نظرثانی شدہ طریقہ کار کے تحت غیر آئی پی پیز کے لیے کوئلے کی قیمتوں کے تعین کا شفاف نظام وضع کیا گیا ہے ، جس میں قلیل مدتی اور طویل مدتی کوئلے کی فراہمی کے انتظامات کے درمیان فرق واضح کیا گیا ہے ۔ نظرثانی شدہ طریقہ کار کا مقصد تھر کے کوئلے کے وسیع تر استعمال کی حوصلہ افزائی، مزید خریداروں کو راغب کرنا اور موجودہ بجلی صارفین کے مفادات متاثر کیے بغیر طویل مدتی سرمایہ کاری میں سہولت فراہم کرنا ہے ۔بورڈ نے تھر کول ٹیرف ڈیٹرمنیشن کمیٹی کے ممبر مائننگ ڈاکٹر فہد عرفان صدیقی اور ممبر فنانس / پاور عمار حبیب خان کی مدتِ تقرری میں 17 اگست 2027 تک توسیع کی توثیق کی، تاکہ ٹیرف سے متعلق فیصلوں کا تسلسل برقرار رہے ۔ بورڈ نے سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی (ایس ای سی ایم سی) کے بلاک ٹو اور سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی / ایس ایس آر ایل سے متعلق بلاک ون کے آپریشنز کے لیے 2026 کی پہلی اور دوسری سہ ماہی کے انڈیکسڈ ٹیرف آرڈرز کی بھی توثیق کی۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...