مکہ دفاعی معاہدہ ،شریک ممالک کو آپسی مفادات کے تحفظ کا یقین

 مکہ دفاعی معاہدہ ،شریک ممالک کو آپسی مفادات کے تحفظ کا یقین

معاہدہ سے سعودی عرب، پاکستان ،ترکی کی دفاعی صنعتیں زیادہ گہرائی سے جڑ جائینگی

(تجزیہ:سلمان غنی)

مکہ دفاعی معاہدہ کی ترکیہ کی پارلیمنٹ سے توثیق کا عمل ترک عوام کی اپنی سلامتی کے ساتھ امت سے وابستگی اور مشرق وسطٰی کی طاقت کے توازن میں ایک اہم تبدیلی کا اشارہ ہے ، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تینوں شریک ممالک کے عوام اس دفاعی اتحاد کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ سمجھتے ہوئے ملکر چلنے اور آپس کے مفادات کو یقینی بنانے پر یقین رکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ دنیا کی دوڑ میں آگے بڑھنے اور خود کو منوانے کیلئے ہر طرح کے خدشات اور خطرات کا ملکر بندوبست کیا جائے اور یہی امر امت کے اتحاد اور یکجہتی کا مظہر بن پائے گا۔ ترکیہ کی جانب سے اس معاہدہ کو ایک کاغذی معاہدے سے فعال فوجی اتحاد میں تبدیل کر دیا گیا ہے اور یہ مشرق وسطٰی کی طاقت کے توازن میں ایک اہم تبدیلی کا اشارہ ہے اور ظاہر کرتا ہے کہ اس کاغذی عہد نے قانونی اور عملی طور پر استحکام حاصل کر لیا ہے ،پاکستان کی جانب سے بنیادی طور پر مثبت اور فعال رویہ اپنایا گیا ۔پاکستان کی پارلیمنٹ کے اراکین اور کابینہ نے اس معاہدہ کو تا ریخی قرار دیا۔ سعودی عرب کی زیادہ تر توجہ اس بات پر ہوگی کہ ترکیہ کی توثیق سے اسے کیا ٹھوس تحفظ حاصل ہو سکتا ہے ،سعودی عرب ،پاکستان اور ترکیہ کی جانب سے مشترکہ طورپر یہ واضح کیا جا چکا ہے کہ فوجی دستوں صلاحیتوں کی فراہمی کے انتظامات کو بہتر کیا جائے گا تا کہ کسی بھی ایک پر جارحیت کی صورت میں ردعمل کی صلاحیت کو بڑھایا جا سکے ۔

جہاں تک دفاعی معاہدے کے عملی تقاضوں کا تعلق ہے تو فوجی دستوں کی تعیناتی کی عملی کوشش شروع ہو چکی ہیں اور ترکیہ کی پارلیمنٹ کی توثیق کے بعد اس کی جانب سے بھی پیش رفت جلد ممکن ہوگی اور ترکی کے وزیر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ دستوں کی تعیناتی دفاعی نوعیت کی ہوگی اور یمن میں براہ راست مداخلت نہیں کی جائے گی ،ویسے بھی دیکھا جائے تو معاہدے کی توثیق کا مطلب خود بخود فوج بھجوانا نہیں۔ ترکیہ کے آئین کے مطابق بیرون ملک فوج بھجوانے کیلئے صدرکو پارلیمنٹ سے علیحدہ اجازت درکار ہوتی ہے ۔ ترکیہ کی جانب سے ابھی فوج بھجوانے کا مینڈیٹ منظور نہیں کیا گیا۔ بہت سے ماہرین اس معاہدہ کو طویل المدتی فوجی مداخلت کی بجائے دفاعی صنعت کے تعاون اور سٹریٹجک خود مختاری کے طورپر لے رہے ہیں جن کے خیال میں اس معاہدہ سے تینوں ممالک کی دفاعی صنعتیں زیادہ گہرائی سے جڑ جائیں گی ۔بعض ماہرین اسے امریکی سلامتی کی ضمانت کی کمی کو پُر کرنے کے طور پر دیکھتے ہیں، اس میں نیٹو کے آرٹیکل 5 جیسی شقیں بھی ہیں، لیکن ماہرین سمجھتے ہیں اسے فوری طور پر اسلامی نہ سمجھا جائے ۔ اس کی حقیقی طاقت اس بات پر منحصر ہے کہ آیا مشترکہ کمانڈ، فوری ردعمل کی صلاحیت اور واضح ذمہ داریوں کو عملی جامہ پہنایا جا سکتا ہے ۔ جبکہ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ ابھی اس معاہدہ کے نفاذ میں بہت سی رکاوٹیں ہیں اور حوثیوں کے سعودیہ پر حملوں کے بعد حقیقت حال کی بنیاد پر کہا جا سکتا ہے کہ معاہدہ خود کار طور پر متحرک نہیں ہوتا، اور کیا مداخلت کی جائے گی اس کا انحصار ہر ملک کی سیاسی مرضی پر ہے ۔ تینوں ملکوں کے مفادات صرف جزوی طور پر ہم آہنگ ہیں اور مکمل طور پر یکساں نہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...