حفیظ تائب : انھوں نے اپنے آپ کو نعت کے لیے وقف کردیا
اسپیشل فیچر
نعت گوحفیظ تائبؔ (پیدائش:14 فروری 1931ء ) کی نعتوںمیں ہئیتوں کا تنوع بڑا دلنشین ہے، لفظی مناسبتیں بھی بڑی تلاش اور محنت سے یکجا کی گئی ہیں*************اُردو میں نعت نگاری کا رجحان نیا نہیں۔ اگر دکنی شاعری کو اُردو ادب کا اولین مرحلہ تصور کیا جائے ،تو دکنی مثنویوں میں فارسی مثنوی کی پیروی میں حمد کے اشعار کے بعد چند نعتیہ اشعار ضرور لکھے جاتے تھے۔ ان اشعار کو مثنوی سے الگ کرلیا جائے، تو بعض اوقات اعلیٰ درجے کی نعتیں ہمیں متحیر کر دیتی ہیں۔ مثلاً زبان کی قدامت کے باوجود وجہیؔ کی ’’قطب مشتری‘‘ کے نعتیہ اشعار نہایت عمدہ ہیں اور صنف ِنعت کے جملہ تقاضے پورے کرتے ہیں۔ دکن کے بعد دہلی اور لکھنو کے مثنوی نگار بھی اس روایت پر عمل پیرا ہونے کو فرض کی طرح ادا کرتے رہے۔ حتیٰ کہ محسن ؔکاکوروی نے مکمل نعتیہ مثنوی لکھ کر اسے تکمیل تک پہنچایا۔ اسی طرح نعتیہ قصائد کا رواج بھی کم از کم دو سو سال پرانا ہے۔ خصوصاً سودا ؔکا قصیدہ اس سلسلے میں لاجواب ہے اور یہ سلسلہ غالب ؔتک پہنچتا ہے۔اُردو کی جدید نعت کا آغاز حالیؔ سے ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جدید اور قدیم کے درمیان حد ِفاصل کس طرح کھینچی جائے؟ اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ قدیم نعت قرونِ اولیٰ کے ماحول کا نقشہ کھینچنے کے ساتھ خلق و جمال رسول عظیم ﷺ کا تذکرہ کرتی ہے جب کہ جدید نعت خلق نبویﷺ کی طرف خصوصی میلان ظاہر کرتی ہے۔ مولاناحالی کی مسدس ’’مدوجزر اسلام‘‘ کے مشہور نعتیہ اشعار اس حقیقت کی تجسیم کرتے ہیں کہ اسلام کے پھیلنے کی وجہ قرآنی تعلیمات تھیں اور چوں کہ حضورﷺ مجسمِ قرآن تھے۔ اس لیے آپﷺ کی زندگی اور آپ ﷺ کے جملہ اعمال و افعال قرآنی تعلیمات کا بہترین نمونہ تھے۔ اس لیے آپﷺ ہی کی ذات کے لیے انسان ِکامل کا لقب زیبا ہے۔حالیؔ کے یہ اشعار دیکھیے:وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والامصیبت میں غیروں کے کام آنے والامرادیں غریبوں کی بر لانے والاوہ اپنے پرائے کا غم کھانے والافقیروں کا ملجا، ضعیفوں کا ماویٰیتیموں کا والی، غلاموں کا مولیٰجدید نعت کا ایک اہم ترین نام بلاشبہ علامہ اقبال ؔکا ہے۔علامہ اقبالؔ کی نعتیہ شاعری کی روح تو وہی ہے، جو حالیؔ کی نعت میں موجود ہے، تاہم اس کی فضا کہیں زیادہ وسیع ہے۔ اگر نعت کو مزید وسعت دینی مقصود ہو تو اقبالؔ کی نعتیہ شاعری سے بیش از بیش استفادہ کیا جانا ناگزیر ہے۔ خوف ِطوالت سے اس کی وضاحت کسی اور موقع پر اُٹھا رکھتا ہوں۔قیامِ پاکستان کے بعد نعت گوئی کو رفتہ رفتہ فروغ حاصل ہوتا چلا گیا ،لیکن اس کا سنہری دَور گزشتہ صدی کے آخری بیس برسوں سے شروع ہوتا ہے اوراسے سال بہ سال فروغ حاصل ہوتا چلا جاتا ہے۔بیسیوں نعت گو شعرا نے اپنے اپنے انداز میں صنف ِ نعت میں اضافے کیے ہیں۔ شاید یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ اتنے اضافے نہیںکیے ،جتنی تکرار کی ہے۔مروجہ و مستعملہ مضامین کو اپنے اپنے رنگ میں متعدد شعرانے اپنی استعداد کے مطابق بہتر انداز میں لکھنے کی کوشش کی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ نعت لکھنے کے لیے خلوص اور محبت کی ضرورت ہے۔ میرے خیال میں کوئی مسلمان ایسا نہیں ہوگا، جسے آپ ﷺ کی ذات سے عقیدت اور لگائو نہ ہو۔ اس کے بغیر کوئی مسلمان ہو ہی نہیں سکتا، لیکن اچھی نعت لکھنے کے لیے خلوص، محبت اور عقیدت کے ساتھ بعض اور شرائط کی اشد ضرورت ہے۔ نعت گو کے لیے قرآن ِمجید، احادیث، کتب ِ سیرت، کتب ِتاریخ اور عرب کی تمدنی تاریخ کے وسیع مطالعے کی ضرورت ہے۔ اگر نعت گو محض عقیدت کے سہارے لکھے گا، تو بہت جلد مضامین کی تکرار تک محدود ہو جائے گا۔اس قسم کی وسعت ِمعلومات کے ساتھ اچھے نعت گو کے لیے ضروری ہے کہ اس کا مطالعہ اور ذوق ِادب بھی غیر معمولی ہو۔ بہتر ہوگا کہ وہ عربی اورفارسی ادب سے واقف ہو اور اُردو ادب کے سرچشموں سے بھی مستفید ہو چکا ہو۔ کسی بھی ادبی صنف میں کمال اس وقت حاصل ہوتا ہے،جب شاعر اس کے فنی تقاضے پورے کرنے کی اہلیت رکھتا ہو۔۔۔!حفیظ تائب ؔکی نعتیہ شاعری مذکور بالا تقاضے پورے کرتی ہے۔ اُنھوں نے شاعری کا آغاز غزل گو کی حیثیت سے کیا اور اس میں اپنی صلاحیتوں کا سب سے لوہا منوایا۔ ’’فنون‘‘ کے جدید غزل نمبر میں حفیظ تائبؔ کو بطورِ غزل گو اہمیت دی گئی ہے، مگر اس کے بعد اُنھوں نے غزل گوئی ترک کردی اور پوری توجہ نعتیہ شاعری کی طرف مرکوز کی۔ گزشتہ ربع صدی میں صنف ِ نعت کے علاوہ اُنھوں نے قومی اور ملّی شاعری کی طرف بھی توجہ کی اورغزل گوئی کو کلیتاً ترک کردیا۔ مناسب بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ جس شخص کے قلب و نظر نورِ نعت سے مستنیر ہو چکے ہوں، وہ عشق ِ مجازی کو کب خاطر میں لاتا ہے۔ حفیظ تائبؔ نے اپنے آپ کو نعت کے لیے وقف کردیا۔ نعت گوئی کی اور نعت کے سرچشموں کو تلاش کرنے میں ہمہ تن مصروف ہو گئے۔ نعت پر تحقیق کی۔تمام قابل ِذکر نعت نگاروں کے کلام کا مطالعہ کیا۔ ہر نعت گو شاعر کی اہمیت سے باخبر ہوئے اور اس ریاض کی وجہ سے اُنھیں ہمارے دَور کے ’’امام نعت نگاراں‘‘ کا لقب دیا گیا۔اُن کا پہلا نعتیہ مجموعہ ’’صلو علیہ وآلہ‘‘ شائع ہوا، تو انھیں ایک اہم نعت گو تسلیم کرلیا گیا۔ پھر یکے بعد دیگرتائب ؔصاحب کے اُردو اور پنجابی نعتوں کے مجموعے شائع ہونے لگے اور کم و بیش دس مجموعے منظر عام پر آئے، جن کی نعتیں اتنی مختلف اور منفرد تھیںکہ سب لوگ چونک پڑے۔عموماً ہمارے نعت گو شعرا اپنی نعتیں خوبصورت ترنم سے پڑھتے ہیں، لیکن حفیظ تائب ؔواحد نعت گو ہیں، جو تحت اللفظ پڑھنے کے باوجود اعلیٰ ترین مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے اور حقیقت یہ ہے کہ ایسا شاذونادر ہی ہوتا ہے۔میَں اس مضمون میں قبل ازیں بتا چکا ہوں کہ بڑا نعت گوبننے کے کیا تقاضے ہیں؟حفیظ تائبؔ یہ تقاضے پورے کرتے تھے۔ وہ عربی زبان سے واقف تھے۔ فارسی پر مضبوط گرفت رکھتے تھے۔ عربی، فارسی، اُردو اور پنجابی شاعری کا وسیع مطالعہ کر رکھا تھا اور ان چاروں زبانوں کے ادب پر فاضلانہ گفت گو کرتے تھے۔ بہترین کلام اُنھیں ازبر تھا۔ قرآنِ مجید اور حدیث کے مطالعے میں مستغرق رہتے تھے۔ تاریخ ِاسلام خصوصاً سیرت مبارکہ کی کتب پر اُن کی گہری نظر تھی۔ علاوہ ازیں فنی باریکیوں سے خوب واقف تھے اوراس بات سے آگاہ تھے کہ شعر کو بقائے دوام کس طرح حاصل ہوتی ہے چناں چہ اُن کی نعتوں کا مطالعہ گہرائی میں جا کر کیا جائے ،تو جلد ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ مضامین کی وسعت و ندرت کے ساتھ ساتھ فن ِ شعر میں اُن کا ریاض کس پائے کا ہے۔بقول وحشتؔ کلکتوی:فروغِ طبع خداداد اگرچہ تھا وحشتؔریاض کم نہ کیا ہم نے کسبِ فن کے لیےحفیظ تائبؔ کی نعتوں ہئیتوں کا تنوع بڑا دلنشین ہے۔ لفظی مناسبتیں بڑی تلاش اور محنت سے یکجا کی گئی ہیں۔ یہ تناسبات لفظی لکھنوعی شعرا کے برعکس ہر سطح پر نمایاں نہیں، لیکن اشعار پر توجہ مرکوز کرنے سے نمایاں ہو جاتے ہیں۔ نعتوں کی زمینیں عموماً نو تراشیدہ ہیں۔ اُنھیں اس بات کا بڑا سلیقہ ہے کہ مصرعوں کو سوتی لحاظ سے خوش گوار کیسے بنایا جائے۔ وہ عموماً ردیف اور قافیے کو داخلی ترنم کے ذریعے خوب صورت اصوات کا سرگرم بنادیتے ہیں۔ الفاظ کی دو حیثیتیں ہیں۔ وہ معافی کے حامل ہیں اور اس کے ساتھ اُن کی ایک صوتی حیثیت بھی ہے۔ حفیظ تائبؔ کے ہاں الفاظ کے مفاہیم و اصوات کے اسرار و رموز سے گہری آگاہی دکھائی دیتی ہے۔ یہاں حفیظ تائبؔ کی ایک مشہور نعت کے چند اشعار درج کیے جاتے ہیں۔ اس نعت کو اُن کی دیگر نعتوںکی ایک علامت کے طور پر پیش کرتا ہوں:خوش خصال و خوش خیال و خوش خبر، خیر البشرؐخوش نژاد و خوش نہاد و خوش نظر، خیر البشرؐاس مطلع میں تراکیب کے جوڑے اور اُن کی آوازیں بلند آواز سے پڑھنے پر نہایت فصیح معلوم ہوتی ہیں۔ لفظ خوش کی تکرار اور اس کے ساتھ خصال اور خیال…نژاد اور نہاد… خبر اور نظر ہم وزن الفاظ کے دلکش ٹکڑے ہیں۔ قافیہ خبر اور نظر ہے اور ردیف خیر البشر میں داخلی قوافی کا ترنم جلوہ گر ہے:صاحبِ خلقِ عظیم و صاحبِ لطف عمیمصاحبِ حق، صاحبِ شق القمر، خیر البشرؐاس میں بھی خوش گوار ترنم کی وی کیفیت ہے جو مطلع میں ہے۔ پہلا مصرع واوی عطف پر عین دو ٹکڑوں میں بٹ جاتا ہے۔ یہ توازن قابل ِداد ہے۔ دوسرے مصرع میں صاحب اور صاحب کی تکرار اصوات اور حق وشق کے داخلی قافیے…اور شق قمر… خیر البشر کے قافیہ اور ردیف کی صوتی ہم آہنگی تحسین سے ماورا ہے۔کب ملے گا ملتِ بیضا کو پھر اوجِ کاملکب شبِ حالات کی ہو گی سحر، خیر البشرؐرونما کب ہو گا راہِ زیست پر منزل کا چاندختم کب ہو گا اندھیروں کا سفر خیر البشرؐچوں کہ دونوں اشعار جذبے سے معمور ہیں۔ اس لیے تمام مصرعے بے حد سادہ اور براہِ راست دل پر اثر کرنے والے ہیں۔ اس کے باوجود ان کی فضا، جن تصویروں سے تیار کی گئی ہے، ان میں بڑی باریک بینی ہے۔ راستہ، منزل، سفر کا اختتام، چاند اور اندھیروں کا سفر بڑی مؤثر فضا تیار کرتے ہیں، جو قلب و ذہن پر گہرا اثر کرتی ہے۔آخر میں عبدالمجید منہاس کا شکر گزار ہوں کہ اُن کی توجہ سے حفیظ تائب ؔکا حمدیہ اور نعتیہ کلام ’’کلیات ِحفیظ تائبؔ‘‘ کی شکل میں یکجا ہو گیا ہے۔ اللّٰہ سے دعا ہے کہ حفیظ تائبؔ کے شعری مقام کے تعین اور استحکام میں یہ مجموعہ بنیادی حیثیت کا حامل بن جائے۔٭…٭…٭