خلا کے عظیم گھر کا آخری سفر!
اسپیشل فیچر
2030ء تک بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کو محفوظ طریقے سے تباہ کرنے کا منصوبہ
دو دہائیوں سے زائد عرصے تک انسان کی خلائی تحقیق اور بین الاقوامی تعاون کی علامت رہنے والا بین الاقوامی خلائی اسٹیشن اب اپنی عمر کے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ گزشتہ دنوں میں خلائی اسٹیشن میں ہونے والی ایک نئی لیک کے بعد اس کی سلامتی اور مستقبل کے حوالے سے خدشات نے دوبارہ سر اٹھا لیا ہے۔ انہی خدشات کے درمیان امریکی خلائی ادارے ناسا نے 2030ء تک آئی ایس ایس کو باقاعدہ طور پر مدار سے نکال کر زمین کے ماحول میں تباہ کرنے کے منصوبے پر کام تیز کر دیا ہے، جس پر تقریباً ایک ارب ڈالر لاگت آنے کا تخمینہ ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ایک انتہائی پیچیدہ اور غیر معمولی آپریشن ہو گا، جس کا مقصد خلائی اسٹیشن کے ملبے کو محفوظ انداز میں زمین کے ایک دور افتادہ سمندری علاقے میں گرانا ہے تاکہ انسانی آبادی اور ماحول کو کسی قسم کے خطرے سے بچایا جا سکے۔
بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر پہلے خلابازوں کی آمد کو 25 سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے، اور اب زمین کے گرد مدار میں گردش کرنے والی اس خلائی چوکی کیلئے وقت تیزی سے ختم ہوتا جا رہا ہے۔ گزشتہ دنوں ناسا کے خلابازوں کو ہنگامی انخلا کی تیاری کا حکم دیا گیا، جبکہ روسی خلانورد نے لیک کو درست کرنے کی کوشش کی۔ اگرچہ بالآخر کسی ہنگامی فرار کی ضرورت پیش نہیں آئی، تاہم اس خطرناک صورتحال نے یہ خدشات پیدا کر دیے ہیں کہ خلائی سٹیشن اب اپنی عمر کے آخری مرحلے میں پہنچ چکا ہے۔
خلائی ماہرین نے اس ایک ارب ڈالر مالیت کے منصوبے کی تفصیلات بیان کی ہیں جس کے تحت خلائی اسٹیشن کو زمین پر واپس لا کر تباہ کیا جائے گا۔ فضائی و خلائی شعبے کی کانفرنس ''ایسنڈ 2026ء‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے ناسا کے آپریشنز ڈائریکٹر ریان لینڈن نے کہا کہ آئی ایس ایس کو 2028ء کے دوران بتدریج زمین کی جانب دھکیلا جائے گا۔4لاکھ 50ہزار کلوگرام وزن رکھنے والے اس خلائی اسٹیشن کو اگر وقتاً فوقتاً اوپر کی جانب دھکیلا نہ جائے تو یہ آہستہ آہستہ اپنے مدار سے نیچے آنے لگتا ہے۔
خلائی اسٹیشن کو قدرتی طور پر مدار سے خارج ہونے دینا ایک بے قابو واپسی کا سبب بن سکتا ہے۔ جس کے نتیجے میں اس کا ملبہ زمین کے مختلف حصوں میں بکھرنے سے جانی و مالی نقصان کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔اسی لیے ناسا منصوبہ بندی کے تحت خلائی اسٹیشن کو مدار سے باہر دھکیلے گا، تاکہ اس کا ملبہ بحرالکاہل کے دور افتادہ اور غیر آباد سمندری علاقے میں گرایا جا سکے۔
بین الاقوامی خلائی اسٹیشن اور اس میں موجود سات خلاباز زمین سے تقریباً 250 میل (400 کلومیٹر) کی بلندی پر مدار میں گردش کر رہے ہیں۔اس نسبتاً کم بلندی والے مدار کو برقرار رکھنے کیلئے خلائی اسٹیشن کو انتہائی تیز رفتاری سے حرکت کرنا پڑتی ہے۔ یہ تقریباً 28ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرتا ہے اور روزانہ 16 مرتبہ زمین کا چکر لگاتا ہے۔ اس دوران اسے مدار میں رکھنے کیلئے کئی بار اوپر کی جانب دھکیلا جاتا ہے تاکہ وہ نیچے نہ گرنے لگے۔ تاہم ناسا کا منصوبہ ہے کہ 2028ء سے اس عمل کو قدرتی انداز میں جاری رہنے دیا جائے۔ اگر اس عمل کو بغیر مداخلت کے جاری رہنے دیا جائے تو بالآخر خلائی اسٹیشن زمین کی فضا میں داخل ہو جائے گا، جہاں رگڑ کے باعث پیدا ہونے والی شدید حرارت اس کے بیشتر حصوں کو جلا کر ختم کر دے گی۔لیکن آئی ایس ایس جیسے بڑے حجم کے حامل خلائی ڈھانچے کیلئے اس قسم کی بے قابو واپسی خطرناک سمجھی جاتی ہے۔
برطانیہ میں قائم خلائی مشاورتی ادارے بیلسٹیڈ ریسرچ (Belstead Research) کے ڈائریکٹر اور خلائی ملبے کے ماہر ڈاکٹر جیمز بیک کے مطابق یہ یقینی ہے کہ اس کے کچھ حصے زمین کی سطح تک پہنچ جائیں گے، اور غالب امکان ہے کہ ایسے حصوں کی تعداد خاصی زیادہ ہو گی۔اب بھی سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ خلائی اسٹیشن کے کتنے حصے زمین تک پہنچیں گے اور آیا ان پر کنٹرول برقرار رکھا جا سکے گا یا نہیں۔ ڈاکٹر جیمز بیک کے مطابق خلائی جہازوں کی زمین پر واپسی کیلئے بین الاقوامی سطح پر حادثاتی جانی نقصان کے خطرے کی ایک حد مقرر ہے، جو دس ہزار میں ایک سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔ عام طور پر یہ حد اس وقت اہم ہو جاتی ہے جب کسی خلائی جہاز یا مصنوعی سیارے کا وزن تقریباً 500 سے ایک ہزارکلوگرام کے درمیان ہو، جبکہ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کا وزن تقریباً 450 ٹن ہے۔
ڈاکٹر بیک کا کہنا ہے کہ یہ توقع کی جانی چاہیے کہ اس عمل کے نتیجے میں چند سو ایسے ٹکڑے پیدا ہوں گے جو زمین پر گرنے کی صورت میں جانی نقصان کا سبب بن سکتے ہیں۔ چونکہ خلائی ادارے اس بات کو مکمل طور پر کنٹرول نہیں کر سکتے کہ کتنا ملبہ زمین تک پہنچے گا، اس لیے ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ ملبہ کس مقام پر گرے، اس پر مکمل اور درست کنٹرول رکھا جائے تاکہ کسی انسان کو نقصان نہ پہنچے۔اسی مقصد کیلئے خلائی اسٹیشن کو اس کے مدار میں ایک مخصوص مقام پر پیچھے کی جانب دھکا دیا جائے گا، جس سے اس کی رفتار کم ہو جائے گی اور وہ بتدریج زمین کی طرف اترتے ہوئے بحرالکاہل کے ایک غیر آباد اور دور افتادہ علاقے میں جا گرے گا۔
آئی ایس ایس کو زمین پر واپس کیسے لایا جائے گا؟
٭...2028ء سے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) کو بتدریج اپنے مدار سے نیچے آنے دیا جائے گا، جس کے نتیجے میں اس کی بلندی زمین سے 250 میل سے کم ہو کر تقریباً 200 میل رہ جائے گی۔
٭...2029ء میں خلائی اسٹیشن پر موجود آخری انسانی عملہ اسے چھوڑ دے گا اور اپنے ساتھ وہ تمام اشیا لے جائے گا جو تاریخی اہمیت کی حامل ہوں اور جنہیں لے جانا ممکن ہو۔
٭...اس کے بعد جب آئی ایس ایس کی بلندی 200 میل سے کم ہو کر 175 میل تک پہنچ جائے گی تو اسپیس ایکس کے ترمیم شدہ ڈریگن (Dragon) خلائی کیپسول کو اسٹیشن کے ساتھ جوڑ دیا جائے گا۔
٭...جب خلائی اسٹیشن 175 میل کی اس بلندی پر پہنچ جائے گا، جسے واپسی کے ''ناقابلِ واپسی مرحلے‘‘(Point Of No Return) کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تو ڈریگن کیپسول آئی ایس ایس کو ایک بیضوی (Elliptical) مدار میں لے جانے کا عمل شروع کرے گا۔
٭...مناسب وقت آنے پر یہ خلائی گاڑی خلائی اسٹیشن کو آخری طاقتور دھکا دے گی، جس کے نتیجے میں یہ نصف مدار سے بھی کم وقت میں زمین کی فضا کی جانب بڑھنے لگے گا۔
٭...آخرکار آئی ایس ایس اور اسے نیچے لانے والی خلائی گاڑی تقریباً 17ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے زمین کی فضا میں داخل ہوں گے، جہاں شدید حرارت اور رگڑ کے باعث دونوں بڑی حد تک تباہ ہو جائیں گے۔