ہیومنائیڈ روبوٹس کی فائٹ

ہیومنائیڈ روبوٹس کی فائٹ

اسپیشل فیچر

تحریر : محمد ارشد لئیق


سر ''کٹ‘‘ گیا ،مگر مشینی فائٹر ہار ماننے کو تیار نہ تھا
کبھی یہ منظر صرف سائنس فکشن فلموں اور ناولوں کا حصہ سمجھا جاتا تھا کہ مشینی انسان ایک دوسرے کے آمنے سامنے پنجہ آزمائی کریں گے، مگر مصنوعی ذہانت (AI) اور روبوٹکس میں حیرت انگیز ترقی نے اس تصور کو حقیقت میں بدل دیا ہے۔ حال ہی میں منعقد ہونے والے ایک ہیومنائیڈ روبوٹ کیج فائٹ مقابلے نے دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب اس وقت مبذول کر لی جب ایک روبوٹ کا سر لڑائی کے دوران دھڑ سے الگ ہو گیا، لیکن اس کے باوجود وہ لڑتا رہا۔ اس غیرمعمولی منظر نے نہ صرف شائقین کو حیران کر دیا بلکہ یہ بھی ثابت کیا کہ جدید روبوٹکس اس مقام تک پہنچ چکی ہے جہاں مشینیں شدید نقصان کے باوجود اپنے پروگرام کے مطابق کارروائی جاری رکھ سکتی ہیں۔
کمپیوٹر پروگرامرز سے لے کر وکلا تک، مصنوعی ذہانت (AI) پہلے ہی کئی پیشوں کیلئے ایک سنجیدہ چیلنج بنتی جا رہی ہے۔ اب ایسا لگتا ہے کہ کیج فائٹرز بھی روبوٹس کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں سے محفوظ نہیں رہے۔ چین سے سامنے آنے والی حیران کن ویڈیو میں دو ہیومنائیڈ روبوٹس کو مکسڈ مارشل آرٹس (MMA) کے ایک سنسنی خیز مقابلے میں آمنے سامنے لڑتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ مقابلہ گزشتہ ہفتے شین ژین میں منعقد ہوا، جہاں سیکڑوں تماشائیوں کی موجودگی میں دونوں روبوٹس نے ایک پنجرہ نما رنگ میں ایک دوسرے کا مقابلہ کیا۔ مقابلے کے دوران ایک انتہائی حیران کن لمحہ اس وقت آیا جب ایک روبوٹ کا سر زور دار لات لگنے سے مکمل طور پر دھڑ سے الگ ہو گیا، مگر اس کے باوجود وہ اپنے پروگرام کے مطابق لڑائی جاری رکھے رہا۔
اس ویڈیو پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ریڈٹ پر صارفین نے دلچسپ تبصرے کیے۔ ایک صارف نے 2011ء کی مشہور فلم ''ریئل اسٹیل‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ''آخرکار حقیقی ریئل اسٹیل دیکھنے کو مل گئی‘‘۔ ایک اور صارف نے خبردار کرتے ہوئے لکھا''ہم زمین پر آنے والی اگلی ذہین مخلوق کو ہمیں شکست دینے کی تربیت دے رہے ہیں، کتنی معنی خیز بات ہے‘‘۔
دوسری جانب ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہ ایلون مسک بھی اس بحث میں شامل ہوئے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر اس مقابلے کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے مزاحیہ انداز میں لکھا، ''روبوٹس کی لڑائیاں واقعی دلچسپ ہوتی ہیں‘‘۔
یہ مقابلہ شین ژین کے نان شان کلچرل اسپورٹس سینٹر میں منعقد ہونے والے '' الٹی میٹ روبوٹ ناک آؤٹ لیجنڈ‘‘ (URKL) ایونٹ کے تحت منعقد کیا گیا۔ اس مقابلے کو ''یو ایف سی‘‘ (UFC) کا روبوٹ ورژن قرار دیا جا رہا ہے، جس میں 20 سے زائد ممالک سے تعلق رکھنے والی 32 ٹیموں نے حصہ لیا۔یہ 32 ٹیمیں ابتدائی مرحلے میں شریک 200 ٹیموں میں سے منتخب کی گئی ہیں، جن میں اسٹینفورڈ یونیورسٹی، یونیورسٹی آف ہانگ کانگ اور ژی جیانگ یونیورسٹی جیسے معروف تعلیمی اداروں کی ٹیمیں بھی شامل ہیں۔
مقابلے کے منتظم ادارے ''انجن اے آئی‘‘ (EngineAI )کے مطابق، ٹورنامنٹ کو کوالیفائنگ مرحلہ، گروپ مرحلہ اور ڈبل ایلی مینیشن فائنل پر مشتمل جامع نظام کے تحت ترتیب دیا گیا ہے۔منتظمین کا کہنا ہے کہ اس مقابلے کا مقصد ٹیموں کی سمولیشن الگورتھمز، عملی ہارڈویئر کی تنصیب اور خودمختار ہیومنائیڈ روبوٹس کی جنگی صلاحیتوں کا ہر پہلو سے جائزہ لینا ہے۔ تمام ٹیمیں انجن اے آئی کے تیار کردہ ''T800‘‘ نامی مکمل قد کے ہیومنائیڈ روبوٹ استعمال کر رہی ہیں، جس کی قیمت 85 ہزار امریکی ڈالر تک ہے۔
اب تک کئی دلچسپ مقابلے منعقد ہو چکے ہیں، تاہم سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ توجہ ٹیم بل فائٹر اور وائٹ ایگل کے درمیان ہونے والی سنسنی خیز فائٹ نے حاصل کی ہے۔خصوصی طور پر تیار کیے گئے چھ کونوں والے پنجرے میں داخل ہونے کے کچھ ہی لمحوں بعد وائٹ ایگل روبوٹ نے اپنے حریف کے سر پر زبردست لات ماری، جس سے بل فائٹر روبوٹ کا سر مکمل طور پر دھڑ سے الگ ہو گیا۔حیران کن طور پر بل فائٹر روبوٹ نے سر کے بغیر بھی لڑائی جاری رکھی اور بالآخر 3-2 سے کامیابی حاصل کر کے سب کو حیران کر دیا۔
روبوٹس کی اس غیرمعمولی کارکردگی نے شائقین کو بے حد متاثر کیا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ریڈٹ پر ایک صارف نے مزاحیہ انداز میں لکھا، ''میں وہ کوڈ ضرور دیکھنا چاہوں گا جو اس صورتحال سے نمٹتا ہے جب اچانک روبوٹ کا سر ہی غائب ہو جائے‘‘۔ ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، ''ذرا تصور کریں کہ مستقبل میں ایک بہت بڑا گنبد ہو، جہاں مختلف کمپنیوں کے تیار کردہ روبوٹس ایک عظیم ''بیٹل رائل‘‘ طرز کے میدان میں آمنے سامنے ہوں۔ ان روبوٹس کے پاس شعلے برسانے والے ہتھیار، مشین گنز اور دیگر جدید اسلحہ ہو۔ ایسا مقابلہ دیکھنے کیلئے میں ضرور ٹکٹ خریدوں گا‘‘۔ایک اور صارف نے مذاق کرتے ہوئے لکھا: ''مزے کی بات یہ ہے کہ روبوٹ سر الگ ہونے کے باوجود لڑتا رہا، جیسے وہ کہہ رہا ہو،یہ تو معمولی سی خراش ہے‘‘۔
تاہم اس حیرت انگیز مقابلے نے کچھ لوگوں کو تشویش میں بھی مبتلا کر دیا۔ ان کے مطابق لڑنے والے ایسے جدید روبوٹس مستقبل کی ایک ایسی جھلک ہو سکتے ہیں جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ایک صارف نے اپنی رائے دیتے ہوئے لکھا: ''میرے خیال میں یہ اچھا خیال نہیں، بہتر ہے کہ روبوٹس کو لڑنا سکھانے کے بجائے کپڑے تہہ کرنا اور برتن دھونا سکھایا جائے‘‘۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
عمر چھوٹی، کارنامہ بڑا

عمر چھوٹی، کارنامہ بڑا

ڈائنوسارز کا چلتا پھرتا انسائیکلوپیڈیاننھے ذہین نے علم کے زور پر عالمی ریکارڈ قائم کر دیابچوں کی غیر معمولی ذہانت اور سیکھنے کی صلاحیت اکثر دنیا کو حیران کر دیتی ہے۔ کم عمری میں اگر کسی بچے کو مناسب رہنمائی، حوصلہ افزائی اور اپنی دلچسپی کے شعبے میں آگے بڑھنے کے مواقع میسر آ جائیں تو وہ ایسے کارنامے انجام دے سکتا ہے جو بڑے بڑے ماہرین کی توجہ بھی اپنی جانب مبذول کرا دیں۔ گزشتہ دنوں ایک کمسن بچے نے ڈائنوسارز کے بارے میں اپنی حیرت انگیز معلومات اور غیر معمولی یادداشت کی بدولت عالمی ریکارڈ قائم کر کے سب کو حیران کر دیا۔ اس کامیابی نے نہ صرف اس کی ذہانت کو اجاگر کیا بلکہ اس حقیقت کو بھی نمایاں کیا کہ بچوں کی فطری صلاحیتوں کو بروقت پہچان کر ان کی درست سمت میں رہنمائی کی جائے تو وہ عالمی سطح پر نمایاں کامیابیاں حاصل کر سکتے ہیں۔ کیا آپ ٹائرانوسورس ریکس (Tyrannosaurus rex) اور ٹرائیسیراٹوپس (Triceratops) میں فرق بتا سکتے ہیں؟ اگر نہیں، تو یہ پیارا سا ننھا ریکارڈ ہولڈر ضرور بتا سکتا ہے۔ اویکت سنگھ صرف پانچ سال کا ہے، مگر اس نے ایک منٹ میں 46 مختلف ڈائنوسارز کی درست شناخت کر کے عالمی ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ اس سے پہلے ایک منٹ میں 41 ڈائنوسارز کی شناخت کا ریکارڈ موجود تھا، جسے اویکت نے بآسانی توڑ دیا۔ جب اس سے پوچھا گیا کہ کیا اسے ہمیشہ سے ڈائنوسارز پسند تھے، تو اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا: جی ہاں، بالکل! مجھے ڈائنوسارز بہت دلچسپ لگتے ہیں، کیونکہ ہر نسل ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہے، لیکن ان میں کچھ مشترکہ خصوصیات بھی پائی جاتی ہیں۔ میرے پاس ڈائنوسارز پر بہت سی کتابیں اور ان کے کھلونے ہیں، جنہیں میں شوق سے دیکھتا اور ان کے ساتھ کھیلتا ہوں۔اویکت نے بتایا کہ میرے پلے سکول میں ایک فینسی ڈریس مقابلہ ہوا تھا، جس کیلے میری والدہ نے میرے لیے ٹائرانوسورس ریکس کا لباس تیار کیا تھا۔ میں نے اس مقابلے میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ میں نے ٹی ریکس کی طرح زور سے دھاڑا تھا اور سب نے اسے بہت پسند کیا۔ کبھی کبھی میں تصور کرتا ہوں کہ اگر ڈائنوسار آج بھی زندہ ہوتے تو کتنا حیرت انگیز ہوتا، کیونکہ میں انہیں حقیقت میں اپنی آنکھوں سے دیکھنا بہت پسند کرتا۔اویکت نے کہا کہ مجھے یہ بات بہت پسند ہے کہ ہر ڈائنوسار دوسرے سے مختلف ہوتا ہے اور اس کی اپنی منفرد صلاحیتیں ہوتی ہیں۔ وہ بہت بہادر اور نڈر محسوس ہوتے ہیں، جیسے وہ ہر کام کر سکتے ہوں۔ یہی بات انہیں میرے لیے جاننے اور سیکھنے کے لحاظ سے بہت دلچسپ بناتی ہے۔ اور سب سے اچھی بات یہ ہوتی ہے جب میری والدہ مجھے مختلف ڈائنوسارز کے بارے میں دلچسپ حقائق بتاتی ہیں۔ اس نے مزید کہا کہ کچھ ڈائنوسار اتنے بڑے ہوتے تھے کہ ان کی لمبائی ایک قطار میں کھڑی تین بسوں کے برابر ہوتی تھی اور ان کا وزن تقریباً 30 بالغ ہاتھیوں جتنا ہوتا تھا۔ کچھ ڈائنوسار اپنے انڈوں کی حفاظت کیلئے پرندوں کی طرح گھونسلے بناتے تھے۔ بعض کی آنکھیں بہت بڑی اور انتہائی تیز ہوتی تھیں، جس کی بدولت وہ رات کے وقت بھی اپنے اردگرد کی ہر چیز کو دیکھ سکتے تھے۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہر ڈائنوسار کے پاس کوئی نہ کوئی خاص سپر پاور ہوتی تھی۔ یہی دلچسپ حقائق سن کر مجھے ڈائنوسارز اور بھی زیادہ حیرت انگیز اور جادوئی محسوس ہوتے ہیں۔اویکت اس وقت کنڈرگارٹن کا طالب علم ہے اور بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر نوئیڈا میں اپنے والدین اور دادا دادی کے ساتھ رہتا ہے۔ اس کی والدہ ندھی شرما نے اسے گنیز ورلڈ ریکارڈز کا اعزاز حاصل کرنے کی کوشش کرنے کی ترغیب دی، جس کے نتیجے میں اس نے یہ منفرد عالمی ریکارڈ اپنے نام کر لیا۔اگرچہ جراسک پارک فلموں میں ڈائنوسارز سے سامنا عموماً خوشگوار انجام تک نہیں پہنچتا، لیکن زیادہ تر لوگ اس بات سے اتفاق کریں گے کہ حقیقی زندگی میں کسی ڈائنوسار کو دیکھنا یقیناً ایک منفرد اور دلچسپ تجربہ ہوتا۔اویکت نے مزید کہا کہ مجھے ڈائنوسارز کی طاقت اور مضبوطی بہت پسند ہے۔ کچھ دیوقامت ہوتے ہیں، کچھ انتہائی تیز رفتار ہوتے ہیں، جبکہ بعض کے تیز دانت اور نوکیلے پنجے انہیں اپنا دفاع کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ کچھ ڈائنوسارز میں منفرد خصوصیات بھی ہوتی ہیں، مثلاً بعض کی دم ہتھوڑے کی شکل کی ہوتی ہے، جسے وہ اپنے دفاع کیلئے استعمال کرتے تھے۔اویکت نے کہا کہ میں نے سنا تھا کہ گنیز ورلڈ ریکارڈز پوری دنیا میں مشہور ہے اور یہ اعلیٰ ترین کامیابی کی علامت سمجھا جاتا ہے، اس لیے یہ میرے لیے بہت خاص اور حوصلہ افزا تھا۔سب سے پہلے میری والدہ نے مجھے گنیز ورلڈ ریکارڈز کے بارے میں بتایا اور سمجھایا کہ یہ کتنی بڑی اور باوقار کامیابی ہے، جسے دنیا بھر میں ایک اہم سنگِ میل سمجھا جاتا ہے۔ یہ جان کر میرے اندر بے حد جوش اور حوصلہ پیدا ہوا کہ میں بھی اس کا حصہ بننے کی کوشش کروں۔ میری والدہ بہت چاہتی تھیں کہ میں اس ریکارڈ کیلئے کوشش کروں اور انہوں نے پورے سفر کے دوران قدم قدم پر میری رہنمائی کی، جس سے مجھے اعتماد کے ساتھ اپنی تیاری کرنے اور اپنے مقصد کے حصول کی جانب بڑھنے میں بہت مدد ملی۔یہ واقعہ والدین اور اساتذہ کیلئے بھی ایک اہم پیغام ہے کہ بچوں کی دلچسپیوں کو نظر انداز کرنے کے بجائے انہیں فروغ دیا جائے تاکہ وہ اپنی پوشیدہ صلاحیتوں کو بھرپور انداز میں منوا سکیں۔

آج کا دن

آج کا دن

تاریخی گرمی کی لہر25جولائی 2019ء کویورپ شدید گرمی کی ایک غیر معمولی لہر کی لپیٹ میں آ گیا۔ جس کے دوران 25 جولائی کو برطانیہ، بیلجیم، نیدرلینڈز اور جرمنی میں تاریخ کے بلند ترین درجہ حرارت ریکارڈ کیے گئے۔ کئی شہروں میں پارہ 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی تجاوز کر گیا، جس سے معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئے۔ اس شدید گرمی کے باعث صحت کے مسائل، جنگلات میں آگ لگنے کے واقعات اور نقل و حمل میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں۔کونکورڈ حادثہ25جولائی 2000ء کو ایئر فرانس کی کانکورڈ پرواز 4590 پیرس کے شارل ڈی گال ہوائی اڈے سے اڑان بھرنے کے چند لمحوں بعد حادثے کا شکار ہو گئی۔ جس کے نتیجے میں جہاز میں سوار تمام 109 افراد اور زمین پر موجود 4 افراد سمیت 113 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ تحقیقات کے مطابق رن وے پر موجود دھات کے ایک ٹکڑے سے ٹائر پھٹنے کے باعث حادثہ پیش آیا، جس کے بعد کانکورڈ طیاروں کی سروس بالآخر ختم کر دی گئی۔افغان جنگی راز بے نقاب25جولائی2010ء کو وکی لیکس نے افغانستان جنگ سے متعلق امریکی فوج کی خفیہ دستاویزات شائع کیں، جو امریکی فوجی تاریخ میں معلومات کے سب سے بڑے انکشافات میں شمار ہوتی ہیں۔ ان دستاویزات میں ہزاروں فوجی رپورٹس، جنگی کارروائیوں، عام شہریوں کی ہلاکتوں، طالبان کی سرگرمیوں اور سکیورٹی معاملات کی تفصیلات شامل تھیں۔ اس انکشاف نے دنیا بھر میں تہلکہ مچا دیا اور افغانستان جنگ، امریکی پالیسیوں اور سرکاری معلومات کی رازداری پر نئی بحث چھیڑ دی۔خاتون خلانورد کا اعزاز1984ء میں آج کے روز سوویت خلائی اسٹیشن ''سالیوت 7‘‘ (Salyut 7 ) پر موجود خلا نورد سویتلاناساویتسکایا خلا میں چہل قدمی کرنے والی دنیا کی پہلی خاتون بن گئیں۔ انہوں نے اپنے ساتھی خلانورد کے ساتھ خلائی اسٹیشن سے باہر تقریباً ساڑھے تین گھنٹے گزارے اور مختلف سائنسی و تکنیکی تجربات انجام دیے۔ ان کی یہ تاریخی کامیابی خلائی تحقیق میں خواتین کے کردار کا ایک اہم سنگ میل ثابت ہوئی اور اس نے مستقبل میں خواتین کی خلائی مہمات کیلئے نئی راہیں ہموار کیں۔چین میں زلزلہ25جولائی 1668ء کو مشرقی چین میں 8.5 شدت کا ایک تباہ کن زلزلہ آیا، جس نے وسیع علاقے کو شدید نقصان پہنچایا۔ اس قدرتی آفت کے نتیجے میں 43 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو گئے، جبکہ بے شمار لوگ زخمی اور لاکھوں بے گھر ہوئے۔ ہزاروں مکانات، سرکاری عمارتیں اور زرعی زمینیں تباہ ہو گئیں، جس سے خطے میں شدید انسانی اور معاشی بحران پیدا ہوا۔ یہ زلزلہ چین کی تاریخ کے مہلک ترین زلزلوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ شام میں دھماکے25جولائی 2018ء کو شام کے جنوبی صوبے اس السویدا میں مربوط دہشت گرد حملوں کا سلسلہ پیش آیا، جس میں خودکش دھماکے، فائرنگ اور مختلف دیہات پر حملے شامل تھے۔ ان حملوں کے نتیجے میں 250 سے زائد افراد جاں بحق اور سیکڑوں زخمی ہوئے، جن میں بڑی تعداد عام شہریوں کی تھی۔ یہ حملے شام کی خانہ جنگی کے دوران ہونے والے مہلک ترین واقعات میں شمار کیے جاتے ہیں۔

ریکارڈ ساز فیفا ورلڈ کپ 2026

ریکارڈ ساز فیفا ورلڈ کپ 2026

عالمی فٹ بال کی تاریخ میں کئی نئے ریکارڈ قائمفیفا ورلڈ کپ 2026ء کا میلہ اپنے اختتام کو پہنچا،فائنل میں اسپین نے دفاعی چیمپئن ارجنٹائن کو شکست دے کر نہ صرف ایک بڑا اپ سیٹ کیا بلکہ عالمی فٹ بال کی تاریخ میں کئی نئے ریکارڈ بھی قائم کر دیے۔امریکا، کینیڈا اور میکسیکو میں مشترکہ طور پر منعقد ہونے والے اس ورلڈ کپ میں مجموعی طور پر 104 میچ کھیلے گئے، جو فیفا ورلڈ کپ کی تاریخ میں کسی بھی ٹورنامنٹ کے سب سے زیادہ مقابلے ہیں۔ اسی لیے اس ایونٹ میں بے شمار نئے ریکارڈ قائم ہوئے اور کئی پرانے ریکارڈ ٹوٹ گئے۔گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کے مطابق ورلڈ کپ کی تاریخ میں سب سے زیادہ گول کرنے کی دوڑ سے لے کر ریکارڈ ساز کلین شیٹ تک، 2026ء کے اس عالمی ٹورنامنٹ نے کئی ایسے تاریخی کارنامے دیکھے جنہوں نے فٹ بال کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کر دیا ہے۔میسی کے عالمی اعزازاگرچہ ارجنٹائن کی ٹیم فائنل میں شکست کے بعد رنر اپ رہی، تاہم اس کے اسٹار کپتان لیونل میسی نے اپنی انفرادی کارکردگی سے کئی یادگار ریکارڈ اپنے نام کئے۔ میسی نے مسلسل 9 فیفا ورلڈ کپ میچوں میں گول کرکے ایک نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا، یوں وہ ورلڈ کپ کی تاریخ میں لگاتار سب سے زیادہ میچوں میں گول کرنے والے کھلاڑی بن گئے۔ ان کا یہ شاندار سلسلہ 3 دسمبر 2022ء سے شروع ہوا اور 7 جولائی 2026ء تک جاری رہا۔ اس کے علاوہ لیونل میسی نے فیفا ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ 34 میچ کھیلنے کا اپنا ہی عالمی ریکارڈ مزید بہتر بنایا۔ انہوں نے ایک اور منفرد اعزاز بھی حاصل کیا جب 38 سال اور 357 دن کی عمر میں الجزائر کے خلاف ہیٹ ٹرک اسکور کرکے ورلڈ کپ کی تاریخ میں ہیٹ ٹرک کرنے والے معمر ترین کھلاڑی بن گئے۔گولز کی بارشلیونل میسی اور فرانس کے کائلیان ایمباپے کے درمیان ورلڈ کپ کے دوران ریکارڈز کی دلچسپ دوڑ جاری رہی، لیکن آخرکار اس میدان میں کامیابی ایمباپے کے حصے میں آئی۔ انہوں نے مجموعی طور پر 22 گول کر کے فیفا ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی کا عالمی ریکارڈ اپنے نام کیا۔ ایمباپے نے یہ گول 2018ء، 2022ء اور 2026ء کے ورلڈ کپ مقابلوں میں اسکور کیے، جس سے انہوں نے عالمی فٹ بال کی تاریخ میں ایک اور شاندار سنگ میل عبور کر لیا۔ فرانس کے مائیکل اولیسے نے بھی اس ٹورنامنٹ میں اپنی ٹیم کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے مجموعی طور پر 7 گول پاسز (اسسٹ) دے کر فیفا ورلڈ کپ کے ایک ہی ٹورنامنٹ میں کسی بھی کھلاڑی کی جانب سے سب سے زیادہ اسسٹ کرنے کا نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا۔ ان کی شاندار پاسنگ، بہترین کھیل اور ساتھی کھلاڑیوں کیلئے گول کے مواقع پیدا کرنے کی صلاحیت نے انہیں ورلڈ کپ 2026ء کے نمایاں ترین کھلاڑیوں میں شامل کر دیا۔''کلین شیٹ‘‘ گول کیپر سیمون کا تاریخی ریکارڈورلڈ کپ 2026ء میں اسپین کے گول کیپر اونائی سیمون نے بھی ایک منفرد عالمی ریکارڈ اپنے نام کیا۔ انہوں نے یکم دسمبر 2022ء سے 10 جولائی 2026ء تک فیفا ورلڈ کپ کے مقابلوں میں مسلسل سب سے طویل عرصے تک اپنے خلاف کوئی گول نہ ہونے (کلین شیٹ) کا ریکارڈ قائم کیا۔ اس شاندار کارکردگی کے دوران وہ حریف ٹیموں کو گول کرنے سے مسلسل روکے رکھنے میں کامیاب رہے، جس نے اسپین کی عالمی ٹائٹل جیتنے کی مہم میں انتہائی اہم کردار ادا کیا۔یہی مضبوط دفاع اسپین کی عالمی چیمپئن بننے کی سب سے بڑی وجوہات میں سے ایک ثابت ہوا۔عمر کامیابی میں رکاوٹ نہیںکیپ وردے کے گول کیپر ووزینیا، جن کا اصل نام جوسیمار ڈیاس ہے، نے فیفا ورلڈ کپ 2026ء میں ایک منفرد عالمی ریکارڈ اپنے نام کیا۔ وہ ورلڈ کپ میں اپنے پہلے ہی میچ میں کلین شیٹ رکھنے والے معمر ترین گول کیپر بن گئے۔ 15 جون کو اسپین کے خلاف مقابلے میں انہوں نے شاندار گول کیپنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے حریف ٹیم کو کوئی گول کرنے کا موقع نہ دیا۔ اس تاریخی کارکردگی کے وقت ان کی عمر 40 سال اور 12 دن تھی، جو ورلڈ کپ کی تاریخ میں ایک نیا سنگ میل ہے۔ کرسٹیانو رونالڈوکا اعزازپرتگال کے عالمی شہرت یافتہ فٹ بالر کرسٹیانو رونالڈو نے فیفا ورلڈ کپ 2026ء میں ایک تاریخی اعزاز اپنے نام کیا۔ انہوں نے ورلڈ کپ کے چھ مختلف ٹورنامنٹس میں گول کرنے والے پہلے کھلاڑی بن کر اپنا ہی عالمی ریکارڈ مزید مستحکم کیا۔ رونالڈو نے 2006ء، 2010ء، 2014ء، 2018ء، 2022ء اور 2026ء کے ورلڈ کپ مقابلوں میں گول اسکور کیے، جو ان کی غیرمعمولی مستقل مزاجی، بہترین فٹنس اور طویل عرصے تک اعلیٰ معیار کی کارکردگی کا واضح ثبوت ہے۔ یہ کارنامہ انہیں عالمی فٹ بال کی تاریخ کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں نمایاں مقام دلاتا ہے۔فیفا ورلڈ کپ 2030ء فیفا ورلڈ کپ 2030ء کی مشترکہ میزبانی مراکش، پرتگال اور اسپین کریں گے۔ یہ ٹورنامنٹ اپنی نوعیت کا ایک تاریخی ایونٹ ہوگا کیونکہ یہ 1930ء میں منعقد ہونے والے پہلے فیفا ورلڈ کپ کی سوویں سالگرہ کی مناسبت سے کھیلا جائے گا۔ پہلے ورلڈ کپ کی میزبانی یوراگوئے نے کی تھی اور وہی اس افتتاحی عالمی مقابلے کا چیمپئن بھی بنا تھا۔

زمین کے آبی ذخائر میں آکسیجن کی کمی

زمین کے آبی ذخائر میں آکسیجن کی کمی

بڑھتا ہوا عالمی ماحولیاتی بحراندنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلی، آلودگی اور حیاتیاتی تنوع میں کمی جیسے مسائل پر مسلسل بات کی جا رہی ہے لیکن ایک اور خطرہ خاموشی سے بڑھ رہا ہے جس پر اب سائنسدانوں نے توجہ دلائی ہے۔ یہ خطرہ دنیا کے سمندروں، جھیلوں، دریاؤں اور دیگر آبی ذخائر میں آکسیجن کی مقدار میں مسلسل کمی کا ہے۔ آکسیجن پانی میں موجود تمام جانداروں کی بقا کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر اس کی مقدار کم ہو جائے تو نہ صرف آبی حیات متاثر ہوتی ہے بلکہ پورا ماحولیاتی نظام عدم توازن کا شکار ہونے لگتا ہے۔ حالیہ سائنسی تحقیقات کے مطابق یہ مسئلہ اب ایک مقامی یا علاقائی نہیں بلکہ عالمی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے جس کے اثرات مستقبل میں انسانی زندگی، خوراک کی فراہمی اور عالمی آب و ہوا پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔آبی ذخائر میں آکسیجن کیوں کم ہو رہی ہے؟سائنسدانوں کے مطابق پانی میں آکسیجن کی کمی کے پیچھے کئی عوامل بیک وقت کام کر رہے ہیں۔ سب سے اہم وجہ عالمی درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ ہے۔ جب پانی کا درجہ حرارت بڑھتا ہے تو وہ کم آکسیجن جذب کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ گرم پانی میں آبی تہوں کی باہمی آمیزش بھی کم ہو جاتی ہے جس کے باعث گہرے پانی تک تازہ آکسیجن نہیں پہنچ پاتی۔دوسری بڑی وجہ زرعی زمینوں سے بہہ کر آنے والی کھادیں اور دیگر غذائی اجزاہیں۔ نائٹروجن اور فاسفورس کی زیادہ مقدار جھیلوں اور ساحلی علاقوں میں کائی (Algae) کی غیر معمولی افزائش کا باعث بنتی ہے۔ جب یہ کائی مر جاتی ہے تو اسے گلانے والے جراثیم بڑی مقدار میں آکسیجن استعمال کرتے ہیں جس سے پانی میں آکسیجن کی سطح خطرناک حد تک گر جاتی ہے۔ اس عمل کے نتیجے میں بعض علاقوں میں آبی جانوروں کے لیے زندہ رہنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سمندری پانیوں کی گردش میں آنے والی تبدیلیاں، آلودگی اور انسانی سرگرمیوں میں مسلسل اضافہ بھی اس مسئلے کو مزید سنگین بنا رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے مختلف حصوں میں آکسیجن کی کمی کے واقعات پہلے کی نسبت زیادہ تیزی سے سامنے آ رہے ہیں۔آبی حیات اور انسانوں پر اس کے اثراتپانی میں آکسیجن کی کمی کا سب سے پہلا اثر مچھلیوں، جھینگوں، کیکڑوں، شارک اور دیگر آبی جانداروں پر پڑتا ہے۔ جب آکسیجن مطلوبہ سطح سے نیچے آ جاتی ہے تو بہت سے جانور یا تو ان علاقوں سے ہجرت کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں یا پھر ہلاک ہو جاتے ہیں۔ بعض حساس انواع تو معمولی کمی بھی برداشت نہیں کر پاتیں جس کے نتیجے میں ان کی تعداد مسلسل کم ہونے لگتی ہے۔اس صورتحال کا اثر صرف آبی حیات تک محدود نہیں رہتا بلکہ پوری غذائی زنجیر متاثر ہوتی ہے۔ اگر چھوٹے جاندار ختم ہونے لگیں تو ان پر انحصار کرنے والی بڑی مچھلیاں اور دیگر شکاری جانور بھی متاثر ہوتے ہیں۔ بالآخر اس کا اثر ماہی گیری، ساحلی معیشت اور ان کروڑوں لوگوں پر پڑتا ہے جن کا روزگار سمندر اور دیگر آبی وسائل سے وابستہ ہے۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ آکسیجن کی کمی پانی کے اندر ہونے والے قدرتی حیاتیاتی اور کیمیائی عمل کو بھی بدل دیتی ہے۔ اس سے بعض نقصان دہ گیسوں کے اخراج میں اضافہ ہو سکتا ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے عمل کو مزید تیز کرنے کا سبب بنتی ہیں۔ اس طرح ایک ایسا چکر شروع ہو جاتا ہے جس میں موسمیاتی تبدیلی آکسیجن کو کم کرتی ہے اور آکسیجن کی کمی موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو مزید بڑھا دیتی ہے۔یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سان ڈیاگو کے سکریپس انسٹی ٹیوشن آف اوشینوگرافی کے ماہرین جنہوں نے یہ تحقیق کی ہے، کہتے ہیں کہ پانی میں آکسیجن کی کمی کو اب ایک الگ تھلگ مسئلہ سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ ان کے خیال میں یہ موسمیاتی تبدیلی، حیاتیاتی تنوع میں کمی، سمندری تیزابیت، آلودگی اور دیگر عالمی ماحولیاتی مسائل سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔ اسی لیے انہوں نے تجویز دی ہے کہ آبی ذخائر میں آکسیجن کی کمی کو بھیPlanetary Boundaries Framework میں شامل کیا جائے۔یہ فریم ورک ان ماحولیاتی حدود کی نشاندہی کرتا ہے جن کے اندر رہ کر زمین کا قدرتی نظام متوازن انداز میں کام کرتا ہے۔ اگر انسان ان حدود سے تجاوز کرے تو ایسے ناقابلِ تلافی نقصانات ہو سکتے ہیں جن کے اثرات کا ازالہ انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ آکسیجن کی مسلسل کمی اب اسی درجے کا ایک خطرہ بنتی جا رہی ہے اس لیے اس کی نگرانی اور تدارک کو عالمی ترجیح دی جانی چاہیے۔مسئلے کا حل اور مستقبل کی ذمہ داریاںماہرین کے مطابق اس بحران سے نمٹنے کے لیے صرف ایک اقدام کافی نہیں ہوگا بلکہ مختلف شعبوں میں بیک وقت عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ سب سے پہلے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی لا کر عالمی حدت کو محدود کرنا ضروری ہے تاکہ پانی کے درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ روکا جا سکے۔ اسی طرح زرعی شعبے میں کھادوں کے محتاط استعمال، صنعتی فضلے کی بہتر صفائی اور دریاؤں و جھیلوں میں آلودگی کے بہاؤ کو روکنے کے لیے مؤثر پالیسیاں بھی ناگزیر ہیں۔اس کے علاوہ مختلف ممالک کو اپنے سمندروں، جھیلوں اور دریاؤں میں آکسیجن کی مسلسل نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانا ہوگا تاکہ خطرناک تبدیلیوں کی بروقت نشاندہی ہو سکے۔ تحقیق اور بین الاقوامی تعاون میں اضافہ بھی اس مسئلے کے حل کا ایک اہم حصہ ہے کیونکہ یہ بحران کسی ایک ملک یا خطے تک محدود نہیں بلکہ پوری دنیا کو متاثر کر رہا ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

غلاموں کی آزادی کا مسودہ22 جولائی 1862ء کو امریکی صدر ابراہام لنکن نے اپنی کابینہ کے سامنے غلاموں کی آزادی کا ابتدائی مسودہ پیش کیا۔ اس وقت امریکہ خانہ جنگی کی لپیٹ میں تھا جہاں شمالی اور جنوبی ریاستیں ایک دوسرے کے خلاف برسرِ پیکار تھیں۔ جنوبی ریاستوں کی معیشت غلامی پر قائم تھی جبکہ شمالی ریاستیں غلامی کے خاتمے کی حامی تھیں۔لنکن نے اپنے وزراکو بتایا کہ وہ غلامی کے خاتمے کا اعلان کرنا چاہتے ہیں لیکن وزیر خارجہ ولیم سیورڈ کے مشورے پر فیصلہ کیا کہ اسے کسی بڑی فوجی کامیابی کے بعد جاری کیا جائے تاکہ اسے کمزوری کی علامت نہ سمجھا جائے۔ بعد ازاں ستمبر 1862ء میں اینٹیٹم کی جنگ کے بعد ابتدائی اعلان جاری ہوا اور یکم جنوری 1863ء کو باقاعدہ نافذ کیا گیا۔ پہلی کار ریس22 جولائی 1894ء کو فرانس میں پیرس سے روان تک دنیا کی پہلی باقاعدہ کار مقابلہ ریس منعقد ہوئی۔ اس مقابلے کا انعقاد فرانسیسی اخبار Le Petit Journalنے کیا تھا۔ اس ریس کا مقصد صرف رفتار کا مقابلہ نہیں بلکہ یہ ثابت کرنا تھا کہ موٹرگاڑیاں گھوڑا گاڑیوں کا قابلِ اعتماد متبادل بن سکتی ہیں۔تقریباً 126 کلومیٹر طویل اس راستے میں مختلف قسم کی گاڑیاں شریک ہوئیں جن میں بھاپ، تیل اور دیگر ذرائع سے چلنے والی گاڑیاں شامل تھیں۔ اگرچہ تیز ترین گاڑی نے پہلے منزل حاصل کی لیکن انعام اس گاڑی کو دیا گیا جو محفوظ، قابلِ اعتماد اور روزمرہ استعمال کے لیے زیادہ موزوں سمجھی گئی۔یہ مقابلہ جدید آٹوموبائل صنعت کی ترقی میں سنگِ میل ثابت ہوا۔ دنیا کا فضائی چکر 22 جولائی 1933ء کو امریکی ہوا بازWiley Post نے سات دن، 18 گھنٹے اور 49 منٹ میں تنہا دنیا کا فضائی چکر مکمل کر کے تاریخ رقم کی یوں دنیا کے پہلے شخص بن گئے جس نے اکیلے یہ کارنامہ انجام دیا۔اس سفر کے دوران انہوں نے جدید نیویگیشن آلات اور خودکار پائلٹ نظام کا استعمال کیا جو اُس دور میں ایک نئی ایجاد تھی۔ولی پوسٹ کی اس کامیابی نے عالمی ہوابازی میں انقلاب برپا کیا۔ بعد کے برسوں میں بین الاقوامی فضائی سفر، جدید نیویگیشن، اور مسافر بردار طیاروں کی ترقی کی راہ ہموار ہوئی۔ ان کی پرواز نے انجینئروں اور ہوا بازوں کو نئی تحقیق پر آمادہ کیا اور عالمی فضائی رابطوں کو فروغ ملا۔ مجدانیک نازی کیمپ 22 جولائی 1944ء کو دوسری جنگِ عظیم کے دوران سوویت فوجوں نے پولینڈ کے شہر لوبلن کے قریب واقع مجدانیک (Majdanek) نازی حراستی کیمپ کو آزاد کرایا۔ یہ پہلا بڑا نازی کیمپ تھا جو اتحادی افواج کے قبضے میں آیا اور جس کے ذریعے دنیا کو نازی جرائم کی ہولناک حقیقت کا براہِ راست ثبوت ملا۔کیمپ میں گیس چیمبرز، بھٹیاں، قیدیوں کا سامان اور دیگر شواہد تقریباً اصل حالت میں موجود تھے۔ یہاں ہزاروں افراد، خصوصاً یہودی، پولستانی، سوویت جنگی قیدی اور دیگر شہری قید رکھے گئے تھے اور بڑی تعداد میں قتل کیے گئے۔مجدانیک کی آزادی نے عالمی رائے عامہ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔

پلاسٹک کی سستی ری سائیکلنگ

پلاسٹک کی سستی ری سائیکلنگ

ماحول دوست مستقبل کی جانب پیش رفتدنیا بھر میں پلاسٹک کا بڑھتا ہوا استعمال ماحولیاتی آلودگی کے سب سے بڑے مسائل میں شمار ہوتا ہے۔ ہر سال کروڑوں ٹن پلاسٹک استعمال کے بعد کچرے کی شکل اختیار کر لیتا ہے جس کا بڑا حصہ سمندروں، دریاؤں، جنگلات اور زمین میں جمع ہو کر ماحول، جنگلی حیات اور انسانی صحت کے لیے سنگین خطرات پیدا کرتا ہے۔ لیکن پلاسٹک کی ری سائیکلنگ کے روایتی طریقے نہ صرف مہنگے ہیں بلکہ ان میں توانائی کا زیادہ استعمال اور مختلف کیمیائی مادوں کی ضرورت بھی پیش آتی ہے۔ مگرایک نئی تحقیق نے امید کی ایک نئی کرن پیدا کی ہے، جس میں صرف پانی، آکسیجن اور حرارت کی مدد سے پلاسٹک کو مفید کیمیائی مادوں میں تبدیل کرنے کا ایک سادہ، کم خرچ اور ماحول دوست طریقہ پیش کیا گیا ہے۔جدید تحقیق کیا بتاتی ہے؟ چین کی Zhejiang یونیورسٹی کے پروفیسر یونگ وانگ کی قیادت میں ماہرین کی ایک ٹیم نے ایسا طریقہ دریافت کیا ہے جس میں پلاسٹک کے فضلے کو پانی اور آکسیجن کی موجودگی میں مناسب درجہ حرارت پر مخصوص عمل سے گزار کر قیمتی نامیاتی مادوں میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اس طریقہ کار کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس میں مہنگے یا زہریلے کیمیائی مادے استعمال نہیں کیے جاتے جس سے اس عمل کی لاگت نمایاں طور پر کم ہو گی۔تحقیق کے دوران پولی ایتھائلین (PE)، پولی پروپلین (PP) اور استعمال شدہ ربڑ جیسے ایسے مواد کو بھی کامیابی سے ری سائیکل کیا گیا جن کی ری سائیکلنگ ماضی میں خاصی مشکل سمجھی جاتی تھی۔ یہ پیش رفت اس لیے بھی اہم ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے پلاسٹک کی بڑی مقدار انہی اقسام پر مشتمل ہوتی ہے۔ری سائیکلنگ کے اس نئے طریقہ کار سے حاصل ہونے والے نامیاتی مادے مختلف صنعتوں میں خام مال کے طور پر استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ ادویات سازی، خوراک میں استعمال ہونے والے اجزا، زرعی مصنوعات، صنعتی کیمیکلز اور ماحول دوست بائیوڈیگریڈیبل مواد کی تیاری میں بھی ان مرکبات کی خاص اہمیت ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اب پلاسٹک کو صرف فضلہ سمجھ کر تلف کرنے کے بجائے اسے دوبارہ کارآمد مصنوعات میں تبدیل کرنا ممکن اور نسبتاً آسان ہے۔ اگر یہ ٹیکنالوجی صنعتی پیمانے پر کامیاب ہو جاتی ہے تو پلاسٹک کا کچرا ایک قیمتی معاشی وسیلہ بن سکتا ہے۔ماہرین کے مطابق اس طریقے کا ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہے کہ یہ گندے یا مختلف اقسام کے ملے جلے پلاسٹک پر بھی مؤثر ثابت ہوا جبکہ روایتی ری سائیکلنگ میں پلاسٹک کی صفائی اور الگ الگ درجہ بندی پر کافی اخراجات آتے ہیں۔پلاسٹک آلودگی سے نمٹنے کی نئی امیداقوامِ متحدہ کے اندازوں کے مطابق ہر سال کروڑوں ٹن پلاسٹک ماحول میں شامل ہو جاتا ہے جس کا صرف ایک محدود حصہ ہی ری سائیکل ہو پاتا ہے۔ باقی کچرا لینڈ فل، دریاؤں اور سمندروں میں جمع ہو کر آبی حیات، پرندوں اور دیگر جانداروں کی زندگی کو خطرے میں ڈال دیتا ہے۔اگر پانی اور آکسیجن پر مبنی یہ نئی ٹیکنالوجی وسیع پیمانے پر اختیار کر لی جاتی ہے تو نہ صرف پلاسٹک کے ڈھیروں میں نمایاں کمی آ سکتی ہے بلکہ کاربن کے اخراج میں بھی کمی ممکن ہوگی۔ روایتی طریقوں کے مقابلے میں کم توانائی کا استعمال اس تحقیق کو موسمیاتی تبدیلی کے خلاف عالمی کوششوں میں بھی اہم بنا دیتا ہے۔یہ پیش رفت سرکلر اکانومی (Circular Economy) کے تصور کو بھی فروغ دے سکتی ہے جس کے تحت استعمال شدہ اشیا کو دوبارہ کارآمد مصنوعات میں تبدیل کر کے قدرتی وسائل پر دباؤ کم کیا جاتا ہے۔پاکستان کیلئے اہمیتہمارا ملک بھی پلاسٹک آلودگی کے شدید مسائل سے دوچار ہے۔ شہروں میں شاپنگ بیگز، پلاسٹک کی بوتلیں، پیکنگ میٹریل اور دیگر فضلہ نالوں کی بندش، شہری آلودگی اور سیلابی صورتحال کو مزید سنگین بنا دیتا ہے۔ اگرچہ بعض شہروں میں سنگل یوز پلاسٹک پر پابندی عائد کی جا چکی ہے لیکن اس پر مکمل عمل درآمد اب بھی ایک چیلنج ہے۔اگر مستقبل میں یہ نئی ری سائیکلنگ ٹیکنالوجی تجارتی سطح پر دستیاب ہو جائے تو پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے پلاسٹک کے فضلے کو معاشی وسائل میں تبدیل کرنے کے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس سے نہ صرف ماحول کو فائدہ ہوگا بلکہ ری سائیکلنگ کی صنعت میں سرمایہ کاری، روزگار کے مواقع اور مقامی معیشت کو بھی تقویت مل سکتی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ عوامی شعور بیدار کرنا بھی بے حد ضروری ہے۔ شہری اگر پلاسٹک کے استعمال میں احتیاط کریں، غیر ضروری پلاسٹک سے گریز کریں اور استعمال شدہ پلاسٹک کو مناسب طریقے سے جمع کریں تو ری سائیکلنگ کے عمل کو مزید مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔بہرکیف پانی اور آکسیجن کی مدد سے پلاسٹک کو مفید کیمیائی مادوں میں تبدیل کرنے کی یہ نئی تحقیق ماحولیات کے شعبے میں ایک اہم سائنسی پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔ اگرچہ اس ٹیکنالوجی کو صنعتی پیمانے پر مکمل طور پر نافذ ہونے میں ابھی وقت لگ سکتا ہے لیکن ابتدائی نتائج نہایت حوصلہ افزا ہیں۔ یہ دریافت اس بات کا ثبوت ہے کہ جدید سائنس پلاسٹک آلودگی جیسے عالمی مسئلے کے لیے پائیدار اور کم خرچ حل تلاش کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ مستقبل میں ایسی ٹیکنالوجیز نہ صرف زمین کو صاف رکھنے میں مدد دیں گی بلکہ فضلے کو قیمتی وسائل میں تبدیل کر کے ماحول اور معیشت دونوں کے لیے نئے امکانات پیدا کریں گی۔