ہیومنائیڈ روبوٹس کی فائٹ
اسپیشل فیچر
سر ''کٹ‘‘ گیا ،مگر مشینی فائٹر ہار ماننے کو تیار نہ تھا
کبھی یہ منظر صرف سائنس فکشن فلموں اور ناولوں کا حصہ سمجھا جاتا تھا کہ مشینی انسان ایک دوسرے کے آمنے سامنے پنجہ آزمائی کریں گے، مگر مصنوعی ذہانت (AI) اور روبوٹکس میں حیرت انگیز ترقی نے اس تصور کو حقیقت میں بدل دیا ہے۔ حال ہی میں منعقد ہونے والے ایک ہیومنائیڈ روبوٹ کیج فائٹ مقابلے نے دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب اس وقت مبذول کر لی جب ایک روبوٹ کا سر لڑائی کے دوران دھڑ سے الگ ہو گیا، لیکن اس کے باوجود وہ لڑتا رہا۔ اس غیرمعمولی منظر نے نہ صرف شائقین کو حیران کر دیا بلکہ یہ بھی ثابت کیا کہ جدید روبوٹکس اس مقام تک پہنچ چکی ہے جہاں مشینیں شدید نقصان کے باوجود اپنے پروگرام کے مطابق کارروائی جاری رکھ سکتی ہیں۔
کمپیوٹر پروگرامرز سے لے کر وکلا تک، مصنوعی ذہانت (AI) پہلے ہی کئی پیشوں کیلئے ایک سنجیدہ چیلنج بنتی جا رہی ہے۔ اب ایسا لگتا ہے کہ کیج فائٹرز بھی روبوٹس کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں سے محفوظ نہیں رہے۔ چین سے سامنے آنے والی حیران کن ویڈیو میں دو ہیومنائیڈ روبوٹس کو مکسڈ مارشل آرٹس (MMA) کے ایک سنسنی خیز مقابلے میں آمنے سامنے لڑتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ مقابلہ گزشتہ ہفتے شین ژین میں منعقد ہوا، جہاں سیکڑوں تماشائیوں کی موجودگی میں دونوں روبوٹس نے ایک پنجرہ نما رنگ میں ایک دوسرے کا مقابلہ کیا۔ مقابلے کے دوران ایک انتہائی حیران کن لمحہ اس وقت آیا جب ایک روبوٹ کا سر زور دار لات لگنے سے مکمل طور پر دھڑ سے الگ ہو گیا، مگر اس کے باوجود وہ اپنے پروگرام کے مطابق لڑائی جاری رکھے رہا۔
اس ویڈیو پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ریڈٹ پر صارفین نے دلچسپ تبصرے کیے۔ ایک صارف نے 2011ء کی مشہور فلم ''ریئل اسٹیل‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ''آخرکار حقیقی ریئل اسٹیل دیکھنے کو مل گئی‘‘۔ ایک اور صارف نے خبردار کرتے ہوئے لکھا''ہم زمین پر آنے والی اگلی ذہین مخلوق کو ہمیں شکست دینے کی تربیت دے رہے ہیں، کتنی معنی خیز بات ہے‘‘۔
دوسری جانب ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہ ایلون مسک بھی اس بحث میں شامل ہوئے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر اس مقابلے کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے مزاحیہ انداز میں لکھا، ''روبوٹس کی لڑائیاں واقعی دلچسپ ہوتی ہیں‘‘۔
یہ مقابلہ شین ژین کے نان شان کلچرل اسپورٹس سینٹر میں منعقد ہونے والے '' الٹی میٹ روبوٹ ناک آؤٹ لیجنڈ‘‘ (URKL) ایونٹ کے تحت منعقد کیا گیا۔ اس مقابلے کو ''یو ایف سی‘‘ (UFC) کا روبوٹ ورژن قرار دیا جا رہا ہے، جس میں 20 سے زائد ممالک سے تعلق رکھنے والی 32 ٹیموں نے حصہ لیا۔یہ 32 ٹیمیں ابتدائی مرحلے میں شریک 200 ٹیموں میں سے منتخب کی گئی ہیں، جن میں اسٹینفورڈ یونیورسٹی، یونیورسٹی آف ہانگ کانگ اور ژی جیانگ یونیورسٹی جیسے معروف تعلیمی اداروں کی ٹیمیں بھی شامل ہیں۔
مقابلے کے منتظم ادارے ''انجن اے آئی‘‘ (EngineAI )کے مطابق، ٹورنامنٹ کو کوالیفائنگ مرحلہ، گروپ مرحلہ اور ڈبل ایلی مینیشن فائنل پر مشتمل جامع نظام کے تحت ترتیب دیا گیا ہے۔منتظمین کا کہنا ہے کہ اس مقابلے کا مقصد ٹیموں کی سمولیشن الگورتھمز، عملی ہارڈویئر کی تنصیب اور خودمختار ہیومنائیڈ روبوٹس کی جنگی صلاحیتوں کا ہر پہلو سے جائزہ لینا ہے۔ تمام ٹیمیں انجن اے آئی کے تیار کردہ ''T800‘‘ نامی مکمل قد کے ہیومنائیڈ روبوٹ استعمال کر رہی ہیں، جس کی قیمت 85 ہزار امریکی ڈالر تک ہے۔
اب تک کئی دلچسپ مقابلے منعقد ہو چکے ہیں، تاہم سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ توجہ ٹیم بل فائٹر اور وائٹ ایگل کے درمیان ہونے والی سنسنی خیز فائٹ نے حاصل کی ہے۔خصوصی طور پر تیار کیے گئے چھ کونوں والے پنجرے میں داخل ہونے کے کچھ ہی لمحوں بعد وائٹ ایگل روبوٹ نے اپنے حریف کے سر پر زبردست لات ماری، جس سے بل فائٹر روبوٹ کا سر مکمل طور پر دھڑ سے الگ ہو گیا۔حیران کن طور پر بل فائٹر روبوٹ نے سر کے بغیر بھی لڑائی جاری رکھی اور بالآخر 3-2 سے کامیابی حاصل کر کے سب کو حیران کر دیا۔
روبوٹس کی اس غیرمعمولی کارکردگی نے شائقین کو بے حد متاثر کیا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ریڈٹ پر ایک صارف نے مزاحیہ انداز میں لکھا، ''میں وہ کوڈ ضرور دیکھنا چاہوں گا جو اس صورتحال سے نمٹتا ہے جب اچانک روبوٹ کا سر ہی غائب ہو جائے‘‘۔ ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، ''ذرا تصور کریں کہ مستقبل میں ایک بہت بڑا گنبد ہو، جہاں مختلف کمپنیوں کے تیار کردہ روبوٹس ایک عظیم ''بیٹل رائل‘‘ طرز کے میدان میں آمنے سامنے ہوں۔ ان روبوٹس کے پاس شعلے برسانے والے ہتھیار، مشین گنز اور دیگر جدید اسلحہ ہو۔ ایسا مقابلہ دیکھنے کیلئے میں ضرور ٹکٹ خریدوں گا‘‘۔ایک اور صارف نے مذاق کرتے ہوئے لکھا: ''مزے کی بات یہ ہے کہ روبوٹ سر الگ ہونے کے باوجود لڑتا رہا، جیسے وہ کہہ رہا ہو،یہ تو معمولی سی خراش ہے‘‘۔
تاہم اس حیرت انگیز مقابلے نے کچھ لوگوں کو تشویش میں بھی مبتلا کر دیا۔ ان کے مطابق لڑنے والے ایسے جدید روبوٹس مستقبل کی ایک ایسی جھلک ہو سکتے ہیں جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ایک صارف نے اپنی رائے دیتے ہوئے لکھا: ''میرے خیال میں یہ اچھا خیال نہیں، بہتر ہے کہ روبوٹس کو لڑنا سکھانے کے بجائے کپڑے تہہ کرنا اور برتن دھونا سکھایا جائے‘‘۔