پلاسٹک کی سستی ری سائیکلنگ
اسپیشل فیچر
ماحول دوست مستقبل کی جانب پیش رفت
دنیا بھر میں پلاسٹک کا بڑھتا ہوا استعمال ماحولیاتی آلودگی کے سب سے بڑے مسائل میں شمار ہوتا ہے۔ ہر سال کروڑوں ٹن پلاسٹک استعمال کے بعد کچرے کی شکل اختیار کر لیتا ہے جس کا بڑا حصہ سمندروں، دریاؤں، جنگلات اور زمین میں جمع ہو کر ماحول، جنگلی حیات اور انسانی صحت کے لیے سنگین خطرات پیدا کرتا ہے۔ لیکن پلاسٹک کی ری سائیکلنگ کے روایتی طریقے نہ صرف مہنگے ہیں بلکہ ان میں توانائی کا زیادہ استعمال اور مختلف کیمیائی مادوں کی ضرورت بھی پیش آتی ہے۔ مگرایک نئی تحقیق نے امید کی ایک نئی کرن پیدا کی ہے، جس میں صرف پانی، آکسیجن اور حرارت کی مدد سے پلاسٹک کو مفید کیمیائی مادوں میں تبدیل کرنے کا ایک سادہ، کم خرچ اور ماحول دوست طریقہ پیش کیا گیا ہے۔
جدید تحقیق کیا بتاتی ہے؟
چین کی Zhejiang یونیورسٹی کے پروفیسر یونگ وانگ کی قیادت میں ماہرین کی ایک ٹیم نے ایسا طریقہ دریافت کیا ہے جس میں پلاسٹک کے فضلے کو پانی اور آکسیجن کی موجودگی میں مناسب درجہ حرارت پر مخصوص عمل سے گزار کر قیمتی نامیاتی مادوں میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اس طریقہ کار کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس میں مہنگے یا زہریلے کیمیائی مادے استعمال نہیں کیے جاتے جس سے اس عمل کی لاگت نمایاں طور پر کم ہو گی۔تحقیق کے دوران پولی ایتھائلین (PE)، پولی پروپلین (PP) اور استعمال شدہ ربڑ جیسے ایسے مواد کو بھی کامیابی سے ری سائیکل کیا گیا جن کی ری سائیکلنگ ماضی میں خاصی مشکل سمجھی جاتی تھی۔ یہ پیش رفت اس لیے بھی اہم ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے پلاسٹک کی بڑی مقدار انہی اقسام پر مشتمل ہوتی ہے۔
ری سائیکلنگ کے اس نئے طریقہ کار سے حاصل ہونے والے نامیاتی مادے مختلف صنعتوں میں خام مال کے طور پر استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ ادویات سازی، خوراک میں استعمال ہونے والے اجزا، زرعی مصنوعات، صنعتی کیمیکلز اور ماحول دوست بائیوڈیگریڈیبل مواد کی تیاری میں بھی ان مرکبات کی خاص اہمیت ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اب پلاسٹک کو صرف فضلہ سمجھ کر تلف کرنے کے بجائے اسے دوبارہ کارآمد مصنوعات میں تبدیل کرنا ممکن اور نسبتاً آسان ہے۔ اگر یہ ٹیکنالوجی صنعتی پیمانے پر کامیاب ہو جاتی ہے تو پلاسٹک کا کچرا ایک قیمتی معاشی وسیلہ بن سکتا ہے۔ماہرین کے مطابق اس طریقے کا ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہے کہ یہ گندے یا مختلف اقسام کے ملے جلے پلاسٹک پر بھی مؤثر ثابت ہوا جبکہ روایتی ری سائیکلنگ میں پلاسٹک کی صفائی اور الگ الگ درجہ بندی پر کافی اخراجات آتے ہیں۔
پلاسٹک آلودگی سے نمٹنے کی نئی امید
اقوامِ متحدہ کے اندازوں کے مطابق ہر سال کروڑوں ٹن پلاسٹک ماحول میں شامل ہو جاتا ہے جس کا صرف ایک محدود حصہ ہی ری سائیکل ہو پاتا ہے۔ باقی کچرا لینڈ فل، دریاؤں اور سمندروں میں جمع ہو کر آبی حیات، پرندوں اور دیگر جانداروں کی زندگی کو خطرے میں ڈال دیتا ہے۔اگر پانی اور آکسیجن پر مبنی یہ نئی ٹیکنالوجی وسیع پیمانے پر اختیار کر لی جاتی ہے تو نہ صرف پلاسٹک کے ڈھیروں میں نمایاں کمی آ سکتی ہے بلکہ کاربن کے اخراج میں بھی کمی ممکن ہوگی۔ روایتی طریقوں کے مقابلے میں کم توانائی کا استعمال اس تحقیق کو موسمیاتی تبدیلی کے خلاف عالمی کوششوں میں بھی اہم بنا دیتا ہے۔یہ پیش رفت سرکلر اکانومی (Circular Economy) کے تصور کو بھی فروغ دے سکتی ہے جس کے تحت استعمال شدہ اشیا کو دوبارہ کارآمد مصنوعات میں تبدیل کر کے قدرتی وسائل پر دباؤ کم کیا جاتا ہے۔
پاکستان کیلئے اہمیت
ہمارا ملک بھی پلاسٹک آلودگی کے شدید مسائل سے دوچار ہے۔ شہروں میں شاپنگ بیگز، پلاسٹک کی بوتلیں، پیکنگ میٹریل اور دیگر فضلہ نالوں کی بندش، شہری آلودگی اور سیلابی صورتحال کو مزید سنگین بنا دیتا ہے۔ اگرچہ بعض شہروں میں سنگل یوز پلاسٹک پر پابندی عائد کی جا چکی ہے لیکن اس پر مکمل عمل درآمد اب بھی ایک چیلنج ہے۔اگر مستقبل میں یہ نئی ری سائیکلنگ ٹیکنالوجی تجارتی سطح پر دستیاب ہو جائے تو پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے پلاسٹک کے فضلے کو معاشی وسائل میں تبدیل کرنے کے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس سے نہ صرف ماحول کو فائدہ ہوگا بلکہ ری سائیکلنگ کی صنعت میں سرمایہ کاری، روزگار کے مواقع اور مقامی معیشت کو بھی تقویت مل سکتی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ عوامی شعور بیدار کرنا بھی بے حد ضروری ہے۔ شہری اگر پلاسٹک کے استعمال میں احتیاط کریں، غیر ضروری پلاسٹک سے گریز کریں اور استعمال شدہ پلاسٹک کو مناسب طریقے سے جمع کریں تو ری سائیکلنگ کے عمل کو مزید مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔بہرکیف پانی اور آکسیجن کی مدد سے پلاسٹک کو مفید کیمیائی مادوں میں تبدیل کرنے کی یہ نئی تحقیق ماحولیات کے شعبے میں ایک اہم سائنسی پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔ اگرچہ اس ٹیکنالوجی کو صنعتی پیمانے پر مکمل طور پر نافذ ہونے میں ابھی وقت لگ سکتا ہے لیکن ابتدائی نتائج نہایت حوصلہ افزا ہیں۔ یہ دریافت اس بات کا ثبوت ہے کہ جدید سائنس پلاسٹک آلودگی جیسے عالمی مسئلے کے لیے پائیدار اور کم خرچ حل تلاش کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ مستقبل میں ایسی ٹیکنالوجیز نہ صرف زمین کو صاف رکھنے میں مدد دیں گی بلکہ فضلے کو قیمتی وسائل میں تبدیل کر کے ماحول اور معیشت دونوں کے لیے نئے امکانات پیدا کریں گی۔