نینسی گریس رومن
اسپیشل فیچر
کائنات کو دیکھنے والی ناسا کی نئی آنکھ
30 اگست کو انسان ایک بار پھر کائنات کی طرف ایک غیر معمولی نظر ڈالنے کی تیاری کر رہا ہے۔ ناسا کیNancy Grace Roman Space Telescope جسے مختصراً رومن سپیس ٹیلی سکوپ کہا جاتا ہے، شیڈول کے مطابق فلوریڈا کے کینیڈی سپیس سنٹر سے SpaceX کے Falcon Heavy راکٹ کے ذریعے خلا میں روانہ کی جائے گی۔اس دوربین کا مقصدصرف دور دراز کہکشاؤں کی خوبصورت تصاویر بنانا نہیں بلکہ یہ سمجھنا ہے کہ کائنات بنی کیسے، وقت کے ساتھ تبدیل کیسے ہوئی، اس کی توسیع تیز کیوں ہو رہی ہے اور ہماری کہکشاں میں کتنے ایسے سیارے موجود ہیں جو ہماری موجودہ تکنیکی نظروں سے چھپے ہوئے ہیں۔رومن کا سب سے بڑا کمال اس کی وسیع نظر ہے۔ اس کا بنیادی عدسہ2.4 میٹر کا ہے جو ہبل کے عدسے کے برابر ہے لیکن اس کا وائیڈ فیلڈ انسٹرومنت ایک ہی مشاہدے میں ہبل کے مقابلے میں کم از کم 100 گنا زیادہ آسمانی رقبہ دیکھ سکتا ہے۔ ناسا کے مطابق رومن ہبل کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی سے خلاؤں کا سروے کر سکے گی۔
کائنات کو وسیع پیمانے پر دیکھنے والی آنکھ
1990ء میں ہبل کی لانچ کے بعد انسان نے کائنات کو ایک نئی نظر سے دیکھنا شروع کیا۔ ہبل نے اربوں نوری سال دور کہکشاؤں، ستاروں کی پیدائش، نیبولا اور کہکشانی ارتقا کے بارے میں ہماری سوچ بدل دی۔ لیکن ہبل بنیادی طور پر انتہائی تفصیلی مگر نسبتاً محدود حصوں کا مشاہدہ کرتی ہے۔رومن قدرے مختلف ہے۔ یہ آسمان کے بہت بڑے حصے کو تیزی سے سکین کرے گی یوں سائنسدان صرف چند دلچسپ کہکشاؤں کا مطالعہ نہیں کریں گے بلکہ اربوں کہکشاؤں اور دیگر کائناتی اجسام کا وسیع ڈیٹا حاصل کر سکیں گے۔ ناسا کا کہنا ہے کہ رومن اپنی زندگی کے دوران تقریباً ایک ارب کہکشاؤں سے آنے والی روشنی کی پیمائش کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔یہ فرق ایسا ہی ہے جیسے ایک ماہرِ آثارِ قدیمہ صرف ایک تاریخی عمارت کا انتہائی باریک مطالعہ کرے جبکہ دوسرا پورے شہر کا نقشہ تیار کر کے ہزاروں عمارتوں کے باہمی تعلق کو سمجھنے کی کوشش کرے۔رومن کا مقصد یہی وسیع کائناتی نقشہ تیار کرنا ہے۔اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ سائنسدان کہکشاؤں کی تقسیم، ان کے جھرمٹ، ان کے ارتقا اور کائنات کے بڑے پیمانے پر ڈھانچے کو زیادہ بہتر انداز میں سمجھ سکیں گے۔ یوں رومن ہمیں صرف یہ نہیں بتائے گی کہ کائنات میں کیا موجود ہے بلکہ یہ بھی سمجھنے میں مدد دے گی کہ یہ سب ایک دوسرے سے کس طرح جڑا ہوا ہے۔
ڈارک انرجی اور ڈارک میٹر کا راز
رومن مشن کی سب سے بڑی سائنسی اہمیت شاید کائنات کے دو بڑے معموں، ڈارک انرجی اور ڈارک میٹر کو سمجھنے میں اس کا کردار ہے۔ہم جانتے ہیں کہ کائنات پھیل رہی ہے لیکن مشاہدات سے معلوم ہوا ہے کہ اس پھیلاؤ کی رفتار وقت کے ساتھ تیز ہو رہی ہے۔ اس تیز رفتار پھیلاؤ کو سمجھانے کے لیے سائنسدان ایک پراسرار عامل کو ''ڈارک انرجی‘‘ کہتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم ابھی تک نہیں جانتے کہ ڈارک انرجی حقیقت میں ہے کیا ۔رومن مختلف کائناتی مشاہدات کے ذریعے یہ جاننے کی کوشش کرے گی کہ کائنات کی توسیع تاریخ میں کس طرح تبدیل ہوئی۔ اس کے وسیع سروے سائنسدانوں کو ایسے بڑے ڈیٹا سیٹ فراہم کریں گے جن سے کائنات کے پھیلاؤ اور اس کے بڑے پیمانے پر ڈھانچے کے درمیان تعلق کا زیادہ درست مطالعہ ممکن ہوگا۔
نئے سیارے اور زندگی کی تلاش
رومن کا ایک اور دلچسپ مشن ہماری اپنی کہکشاں یعنی ملکی وے میں نئے سیاروں کی تلاش ہے۔ناسا کے مطابق رومن ہزاروں نئے exoplanets دریافت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور ہماری کہکشاں میں سیاروی نظاموں کا ایک وسیع شماریاتی جائزہ لے گی۔رومن کے پاس ایک کورنوگراف انسٹرومنٹ بھی ہوگا جو ستارے کی تیز روشنی کو روکنے کی ٹیکنالوجی کا مظاہرہ کرے گا تاکہ اس کے قریب موجود نسبتاً مدھم سیاروں کا براہِ راست مشاہدہ ممکن ہو سکے۔ یہ مستقبل کی ان دوربینوں کے لیے ایک اہم تکنیکی قدم ہوسکتا ہے جو ممکنہ طور پر زمین جیسے سیاروں کے ماحول کا مطالعہ کریں گی۔
ہبل کے بعد ایک نیا کائناتی باب
رومن کو ہبل کا متبادل سمجھنا درست نہیں؛ بلکہ دونوں کی صلاحیتیں ایک دوسرے کو مکمل کریں گی۔ ہبل انتہائی تفصیلی مشاہدات کے لیے اپنی اہمیت برقرار رکھے گا، جبکہ رومن وسیع کائناتی سروے کرنے میں ایک نئی سطح پیدا کرے گی۔رومن زمین کے گرد نہیں بلکہ سورج اور زمین کے نظام کے L2 مقام کے قریب کام کرے گی جو زمین سے تقریباً 1.5 ملین کلومیٹر دور ہے۔اس مشن کی اصل طاقت صرف اس کے لینز یا کیمروں میں نہیں بلکہ اس کے جمع کیے جانے والے ڈیٹا میں ہے۔ اتنی بڑی مقدار میں کائناتی معلومات مستقبل کے سائنسدانوں کے لیے بھی خزانہ ثابت ہوسکتی ہے۔ ممکن ہے رومن جس چیز کی تلاش کے لیے بنائی گئی ہے اس سے کہیں زیادہ اہم کوئی ایسی دریافت کر دے جس کا آج ہمیں اندازہ بھی نہ ہو۔