ہوئے مر کے ہم جو رسوا!
اسپیشل فیچر
اب تو معمول سا بن گیا ہے کہ کہیں تعزیت یا تجہیزوتکفین میں شریک ہونا پڑے تو مرزا کو ضرورساتھ لیتا ہوں۔ ایسے موقعوں پرہرشخص اظہارِہمدردی کے طور پر کچھ نہ کچھ ضرور کہتا ہے۔ مگر مجھے نہ جانے کیوں چپ لگ جاتی ہے، جس سے بعض اوقات نہ صِرف پس ماندگان کوبلکہ خود مجھے بھی بڑا دکھ ہوتا ہے۔ لیکن مرزا نے چپ ہونا سیکھا ہی نہیں۔ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ صحیح بات کوغلط موقع پربے دغدغہ کہنے کی جو خداداد صلاحیت انہیں ودیعت ہوئی ہے وہ کچھ ایسی ہی تقریبوں میں گل کھلاتی ہے۔ وہ گھپ اندھیرے میں سررہگزر چراغ نہیں جلاتے، پھلجھڑی چھوڑتے ہیں، جس سے بس ان کا اپنا چہرہ رات کے سیاہ فریم میں جگ مگ جگ مگ کرنے لگتا ہے۔ اور پھلجھڑی کا لفظ تو یونہی مروّت میں قلم سے نکل گیا، ورنہ ہوتا یہ ہے کہ ''جس جگہ بیٹھ گئے آگ لگا کراٹھے‘‘۔
اس کے باوصف، وہ خدا کے ان حاضرو ناظر بندوں میں سے ہیں جو محلّے کی ہرچھوٹی بڑی تقریب میں، شادی ہو یا غمی، موجود ہوتے ہیں۔ بالخصوص دعوتوں میں سب سے پہلے پہنچتے اورسب کے بعد اٹھتے ہیں۔ اِس اندازِنشست و برخاست میں ایک کھلا فائدہ یہ ہے کہ وہ باری باری سب کی غیبت کرڈالتے ہیں۔ ان کی کوئی نہیں کرپاتا۔
چنانچہ اس سنیچر کی شام کو بھی میوہ شاہ قبرستان میں وہ میرے ساتھ تھے۔ سورج اس شہر خموشاں کو جسے ہزاروں بندگانِ خدا نے مرمر کے بسایا تھا۔ سامنے بیری کے درخت کے نیچے ایک ڈھانچہ قبربدرپڑا تھا۔ چاروں طرف موت کی عمل داری تھی اور ساراقبرستان ایسا اداس اوراجاڑ تھا جیسے کسی بڑے شہر کا بازار اتوار کو۔ سبھی رنجیدہ تھے۔ (بقول مرزا، دفن کے وقت میّت کے سوا سب رنجیدہ ہوتے ہیں) مگر مرزا سب سے الگ تھلگ ایک پرانے کتبے پر نظریں گاڑے مسکرا رہے تھے۔ چند لمحوں بعد میرے پاس آئے اور میری پسلیوں میں اپنی کْہنی سے آنکس لگاتے ہوئے اس کتبے تک لے گئے، جس پر منجملہ تاریخ پیدائش و پنشن، مولد و مسکن، ولدیّت و عہدہ (اعزازی مجسٹریٹ درجہ سوم) آسودہ لحد کی تمام ڈگریاں مع ڈویژن اور یونیورسٹی کے نام کے کندہ تھیں اورآخرمیں، نہایت جلی حروف میں، منہ پھیر کر جانے والے کو بذریعہ قطعہ بشارت دی گئی تھی کہ اللہ نے چاہا تو بہت جلد اس کا بھی یہی حشر ہونے والا ہے۔
میں نے مرزاسے کہا، ''یہ لوحِ مزار ہے یا ملازمت کی درخواست؟بھلا ڈگریاں، عہدہ اورولدیت وغیرہ لکھنے کا کیا تک تھا؟‘‘
انھوں نے حسب عادت بس ایک لفظ پکڑ لیا۔ کہنے لگے ''ٹھیک کہتے ہو۔ جس طرح آج کل کسی کی عمر یا تنخواہ دریافت کرنا بری بات سمجھی جاتی ہے، اِسی طرح، بالکل اِسی طرح بیس سال بعد کسی کی ولدیت پوچھنا بداخلاقی سمجھی جائے گی‘‘۔
اب مجھے مرزا کی چونچال طبیعت سے خطرہ محسوس ہونے لگا۔ لہٰذا انھیں ولدیت کے مستقبل پر مسکراتا چھوڑ کر میں آٹھ دس قبردور ایک ٹکڑی میں شامل ہوگیا، جہاں ایک صاحب جنت مکانی کے حالاتِ زندگی مزے لے لے کر بیان کررہے تھے۔ وہ کہہ رہے تھے کہ خداغریق رحمت کرے، مرحوم نے اِتنی لمبی عمر پائی کہ ان کے قریبی اعزّہ دس پندرہ سال سے ان کی اِنشورنس پالیسی کی امید میں جی رہے تھے۔ ان امیدواروں میں سے بیشتر کو مرحوم خود اپنے ہاتھ سے مٹی دے چکے تھے۔ بقیہ کو یقین ہو گیا تھا کہ مرحوم نے آبِ حیات نہ صرف چکھا ہے بلکہ ڈگڈگا کے پی چکے ہیں۔ راوی نے تو یہاں تک بیان کیا کہ ازبسکہ مرحوم شروع سے رکھ رکھاؤ کے حد درجہ قائل تھے، لہٰذا آخر تک اس صحت بخش عقیدے پر قائم رہے کہ چھوٹوں کو تعظیماً پہلے مرنا چاہیے۔ البتہ اِدھر چند برسوں سے ان کو فلکِ کج رفتار سے یہ شکایت ہوچلی تھی کہ افسوس اب کوئی دشمن ایسا باقی نہیں رہا، جسے وہ مرنے کی بددعا دے سکیں۔
ان سے کٹ کر میں ایک دوسری ٹولی میں جا ملا۔ یہاں مرحوم کے ایک شناسا اور میرے پڑوسی ان کے لڑکے کو صبرِجمیل کی تلقین اور گول مول الفاظ میں نعم البدل کی دعا دیتے ہوئے فرما رہے تھے کہ برخودار! یہ مرحوم کے مرنے کے دن نہیں تھے۔ حالانکہ پانچ منٹ پہلے یہی صاحب، جی ہاں، یہی صاحب مجھ سے کہہ رہے تھے کہ مرحوم نے پانچ سال قبل دونوں بیویوں کو اپنے تیسرے سہرے کی بہاریں دکھائی تھیں اور یہ ان کے مرنے کے نہیں، ڈوب مرنے کے دن تھے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ انہوں نے انگلیوں پرحساب لگا کر کانا پھوسی کے انداز میں یہ تک بتایا کہ تیسری بیوی کی عمرمرحوم کی پنشن کے برابر ہے۔ مگر ہے بالکل سیدھی اور بے زبان۔ اس اللہ کی بندی نے کبھی پلٹ کر نہیں پوچھا کہ تمہارے منہ میں کے دانت نہیں ہیں۔ مگر مرحوم اس خوش فہمی میں مبتلا تھے کہ انہوں نے محض اپنی دعاؤں کے زور سے موصوفہ کا چال چلن قابو میں کررکھا ہے۔ البتہ بیاہتا بیوی سے ان کی کبھی نہیں بنی۔ بھری جوانی میں بھی میاں بیوی 62 کے ہند سے کی طرح ایک دوسرے سے منہ پھیرے رہے اور جب تک جیے، ایک دوسرے کے اعصاب پر سوار رہے۔
میں نے گفتگو کا رخ موڑنے کی خاطر گنجان قبرستان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دیکھتے ہی چپّہ چپّہ آباد ہوگیا۔ مرزا حسب معمول پھر بیچ میں کود پڑے۔ کہنے لگے، دیکھ لینا، وہ دن زیادہ دور نہیں جب کراچی میں مردے کو کھڑا گاڑنا پڑے گا اور نائیلون کے ریڈی میڈ کفن میں اوپر زِپ لگے گی تاکہ منہ دیکھنے دکھانے میں آسانی رہے۔