ویپنگ
اسپیشل فیچر
نوجوان نسل کی صحت کیلئے بڑھتا ہوا خطرہ
جدید دور میں ویپنگ کو سگریٹ نوشی کے نسبتاً کم نقصان دہ متبادل کے طور پر پیش کیا گیا، مگر وقت گزرنے کے ساتھ اس کے مضر صحت اثرات سے متعلق تشویشناک حقائق سامنے آ رہے ہیں۔ ایک تحقیقی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ویپنگ پھیپھڑوں کے مسائل، ڈپریشن اور آنکھوں کی مختلف بیماریوں سے تعلق رکھتی ہے، جبکہ اس عادت میں مبتلا نوجوانوں کے مستقبل میں روایتی سگریٹ نوشی کی جانب مائل ہونے کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ یہ صورتحال بالخصوص نوجوان نسل کی صحت اور مستقبل کے حوالے سے ایک سنگین خطرے کی گھنٹی ہے۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپنگ کے آلات نوجوانوں کو تمباکو نوشی کی مہلک عادت سے دور رکھنے کے بجائے اس کی جانب لے جانے کیلئے ''گیٹ وے‘‘ کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ رنگ برنگی پیکنگ اور مٹھائی جیسے ذائقوں نے نوجوانوں کو اس عادت کی جانب راغب کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ رائل کالج آف پیڈیاٹرکس اینڈ چائلڈ ہیلتھ (RCPCH) کے محققین نے اپنے نتائج جریدے آرکائیوز آف ڈیزیز اِن چائلڈہڈ میں شائع کرتے ہوئے کہا کہ دستیاب شواہد ''تشویشناک‘‘ ہیں۔ ان کے مطابق اگرچہ ویپنگ سگریٹ نوشی کے مقابلے میں کم نقصان دہ ہے، تاہم اسے کسی صورت بے ضرر نہیں سمجھا جا سکتا۔ ویپنگ کا تعلق سانس کے مختلف مسائل، جن میں گھرگھراہٹ اور کھانسی شامل ہیں کے علاوہ بے چینی، ڈپریشن اور پینک ڈس آرڈر سے بھی پایا گیا۔
محققین نے ویپنگ اور نیند کی خرابی، آنکھوں کی بیماریوں اور منہ کی صحت کے مسائل کے درمیان بھی تعلق دریافت کیا، جن میں سوزش، منہ کے چھالے اور منہ کا خشک ہونا شامل ہیں۔مزید برآں، تحقیقی ٹیم نے ان بچوں کے حوالے سے بھی تشویشناک علامات کا مشاہدہ کیا جن کی ماؤں نے حمل کے دوران ویپنگ کی تھی۔ان بچوں میں غیر معمولی اضطراری حرکات (Reflexes) کی زیادہ تعداد اور حرکی نشوؤنما میں کمی دیکھی گئی۔ حرکی نشوؤنما سے مراد بچے کی جسمانی حرکات اور جسم کے ردعمل کی پختگی ہے۔ رحم مادر میں ویپنگ کے اثرات کا سامنا کرنے والے بچوں میں وزن بڑھنے کی رفتار بھی کم پائی گئی۔
تحقیق کے مصنفین نے لکھا کہ یہ جامع جائزہ بچوں اور نوجوانوں پر ویپنگ اور ای سگریٹ کے استعمال سے پیدا ہونے والے ابھرتے ہوئے خطرات کو نمایاں کرتا ہے۔تحقیق کے شریک مصنف پروفیسر ول کیرول نے کہاکہ ویپنگ کو جوانی یا بڑے ہونے کے عمل کا بے ضرر حصہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ تحقیق میں نوجوانوں کے ویپنگ کرنے اور بعد ازاں روایتی سگریٹ نوشی شروع کرنے کے درمیان ''واضح تعلق‘‘ سامنے آیا۔
اگرچہ سگریٹ اور زیادہ تر ویپس دونوں میں نکوٹین موجود ہوتی ہے، تاہم ان کا طریقہ کار ایک دوسرے سے خاصا مختلف ہے۔سگریٹ میں تمباکو کو جلایا جاتا ہے، جس سے ہزاروں کیمیکلز خارج ہوتے ہیں، جن میں تار اور کاربن مونو آکسائیڈ بھی شامل ہیں۔ ان میں سے بہت سے کیمیکلز سرطان کا باعث بننے کیلئے معروف ہیں۔ پھیپھڑوں کے سرطان کے 60 فیصد سے زیادہ کیسز سگریٹ نوشی سے منسلک ہیں، جبکہ یہ بیماری ہر سال تقریباً 33 ہزار افراد کی جان لے لیتی ہے۔اس کے برعکس ویپنگ میں بیٹری سے چلنے والے ایک آلے کے ذریعے ایک مائع کو، جس میں عموماً نکوٹین شامل ہوتی ہے، گرم کیا جاتا ہے۔ اس عمل سے بخارات نما مادہ پیدا ہوتا ہے، جسے صارف سانس کے ذریعے اندر کھینچتا ہے۔ ویپنگ کے ذریعے صارفین کو سگریٹ کے مقابلے میں نقصان دہ کیمیکلز کی نسبتاً کم مقدار کا سامنا کرنا پڑتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ویپنگ کو سگریٹ نوشی کے مقابلے میں خاصا کم نقصان دہ سمجھا جاتا ہے۔ تاہم ماہرین زور دیتے ہیں کہ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ویپنگ بے ضرر ہے۔
تمباکو نوشی اور صحت کے شعبے میں کام کرنے والی فلاحی تنظیم ایکشن آن اسموکنگ اینڈ ہیلتھ (ASH) کے مطابق برطانیہ میں 11 سے 17 سال کی عمر کے تقریباً 19 فیصد بچے اور نوجوان، یعنی لگ بھگ 10 لاکھ افراد ویپنگ آزما چکے ہیں۔ وزراء نے بچوں میں ویپنگ کی کشش کم کرنے کیلئے متعدد اقدامات کیے ہیں، جن میں اشتہارات، پیکنگ اور مختلف ذائقوں کی تشہیر سے متعلق پابندیاں شامل ہیں۔جولائی میں حکومت نے سادہ پیکنگ متعارف کرانے اور ویپ تیار کرنے والی کمپنیوں کو میٹھے پکوانوں اور الکحل سے متاثر دلکش ناموں کے بجائے سادہ نام استعمال کرنے کا اعلان کیا تھا۔پروفیسر کیرول نے حکومتی اقدامات کا خیرمقدم کیا، تاہم وزراء پر زور دیا کہ وہ مزید سخت اقدامات کرتے ہوئے صرف ذائقوں کے ناموں ہی نہیں بلکہ خود دستیاب ذائقوں کی اقسام کو بھی محدود کریں۔
ایکشن آن اسموکنگ اینڈ ہیلتھ کی چیف ایگزیکٹو ہیزل چیزمین نے کہا کہ ویپنگ اب بھی سگریٹ نوشی ترک کرنے کے خواہش مند بالغ افراد کیلئے ایک اہم مددگار ذریعہ ہے، تاہم نوجوانوں میں ویپنگ کے رجحان کو کم کرنے کیلئے اس کی مارکیٹنگ اور تشہیر پر سخت پابندیاں ضروری ہیں۔