بڑی آنکھوں والے تیرتے ڈراوے ’’لومنگ آئی بوائے‘‘
اسپیشل فیچر
آبی پرندوں کو بھگانے کیلئے سائنسدانوں کا انوکھا و دلچسپ تجربہ
سمندری ساحلوں پر سی گلز کی بڑی تعداد بعض اوقات شہریوں اور ماہی گیروں کیلئے پریشانی کا باعث بن جاتی ہے۔ خوراک کی تلاش میں یہ پرندے انسانوں کے قریب آ جاتے ہیں اور بعض مقامات پر کچرے اور خوراک کے مقامات کے گرد جمع ہو کر مسائل پیدا کرتے ہیں۔ انہیں دور رکھنے کیلئے سائنسدانوں نے اب ایک دلچسپ اور غیر معمولی طریقہ آزمایا ہے۔ برطانیہ کے کارن وال کے ساحل پر بڑے بڑے گوگلی آنکھوں والے ''تیرتے ڈراؤے‘‘ پانی میں چھوڑے گئے ہیں، جن کا مقصد سی گلز کو خوفزدہ کرکے مخصوص علاقوں سے دور رکھنا ہے۔
سائنس دانوں نے برطانیہ کے علاقے کارن وال کے ساحل کے قریب سمندر میں ایک ''تیرتا ڈراؤنا مجسمہ‘‘ نصب کیا ہے۔یہ تیرتا ہوا ڈراؤنا مجسمہ ''لومنگ آئی بوائے‘‘ (LEB) کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ اسے سمندری پرندوں کو ماہی گیری کے جالوں میں پھنسنے سے بچانے کیلئے تیار کیا گیا ہے۔فِش ٹیک میرین کے سینئر فشریز سائنس دان ٹام ہوپر کے مطابق ''لومنگ آئی بوائے بنیادی طور پر ایک گھومتا ہوا سر ہے جس پر ایک آنکھ بنی ہوئی ہے۔ اس سے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی متحرک یا ابھرتی ہوئی آنکھ پرندوں کو دیکھ رہی ہو، جس کے باعث پرندے ماہی گیری کے جالوں کے قریب جانے سے گریز کرتے ہیں‘‘۔ اگرچہ یہ طریقہ سننے میں قدرے مزاحیہ معلوم ہوتا ہے، تاہم ایک تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ یہ تکنیک انتہائی مؤثر ہے۔ اس تیرتے ڈراؤنے مجسمے کو نصب کرنے کے بعد گِلِموٹ اور ریزربِل نامی سمندری پرندوں کے ماہی گیری کے جالوں میں پھنسنے کے امکانات 59 فیصد تک کم ہوگئے۔ہر سال یورپ کے ساحلی علاقوں میں تقریباً 95 ہزار سمندری پرندے غیر ارادی طور پر ماہی گیری کے جالوں میں پھنس کر ڈوب جاتے ہیں۔ اس عمل کو ''بائی کیچ‘‘ (Bycatch) کہا جاتا ہے اور یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو کئی اقسام کے سمندری پرندوں کو متاثر کرتا ہے، جن میں گِلِموٹ اور ریزربِل بھی شامل ہیں۔
یونیورسٹی آف ایکسیٹر کے محققین نے اپنی نئی تحقیق میں پرندوں کو ماہی گیری کے جالوں سے دور رکھنے کیلئے دو طریقوں کا تجربہ کیا۔ ان میں ''لومنگ آئی بوائز‘‘ (LEBs) اور ''اسکیری برڈ‘‘ پتنگیں شامل تھیں۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے، ''اسکیری برڈ‘‘ پتنگیں شکاری پرندوں کی شکل میں تیار کی جاتی ہیں، تاکہ دوسرے پرندے انہیں دیکھ کر اس علاقے سے دور رہیں۔
دو سال تک جاری رہنے والے تجربے کے دوران کارن وال کے 10 ماہی گیروں کی کشتیوں پر کیمرے نصب کیے گئے، جن کے ذریعے یہ جائزہ لیا گیا کہ ان طریقوں سے جالوں میں سمندری پرندوں کے غیر ارادی طور پر پھنسنے کی شرح پر کیا اثر پڑتا ہے۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ دونوں طریقے انتہائی مؤثر ثابت ہوئے۔ ''لومنگ آئی بوائز‘‘ کے استعمال سے پرندوں کے جالوں میں پھنسنے کے امکانات 59 فیصد جبکہ شکاری پرندوں کی شکل والی پتنگوں کے ذریعے 71 فیصد کم ہوگئے۔
یونیورسٹی آف ایکسیٹر کے تحقیق کے مرکزی مصنف ٹام ہورٹن نے کہا کہ یہ مطالعہ اب تک کے مضبوط ترین شواہد میں سے ایک فراہم کرتا ہے کہ سادہ اور عملی حفاظتی طریقے گل نیٹ فشریز میں سمندری پرندوں کے غیر ارادی شکار کو نمایاں حد تک کم کرسکتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ تحقیق کے ذریعے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ کن اوقات اور مقامات پر پرندوں کے جالوں میں پھنسنے کا خطرہ سب سے زیادہ ہوتا ہے۔ اس معلومات کی مدد سے اب حفاظتی اقدامات کو ان مقامات اور اوقات پر مرکوز کیا جاسکتا ہے جہاں کمزور سمندری پرندوں کی آبادی کے تحفظ کیلئے ان کا سب سے زیادہ فائدہ ہو، جبکہ پائیدار ماہی گیری کے طریقوں کی بھی حوصلہ افزائی کی جاسکے۔مسٹر ہوپر نے مزید کہا کہ سمندر میں استعمال ہونے والی کوئی بھی ٹیکنالوجی سادہ اور مضبوط ہونی چاہیے۔ اسی لیے ماہی گیروں کے ساتھ کام کرتے ہوئے ہمیں یہ جاننے کا موقع ملا کہ یہ آلات عملی طور پر کس طرح استعمال کیے جاتے ہیں۔ اس تجربے سے ہمیں بہت کچھ سیکھنے کو ملا اور اب ہم ان آلات کو مزید بہتر اور مؤثر بنا سکتے ہیں تاکہ وہ ماہی گیروں کی عملی ضروریات کے مطابق ہوں‘‘۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ سائنس دانوں نے سمندری پرندوں کو دور رکھنے کیلئے بڑی بڑی ''گوگلی آنکھوں‘‘ کا سہارا لیا ہو۔رواں سال کے آغاز میں یونیورسٹی آف ایکسیٹر کے سائنسدانوں نے شرارتی سی گلز کو کھانے کی اشیا سے دور رکھنے کیلئے ٹیک اوے کھانے کے ڈبوں پر بڑی بڑی آنکھیں چسپاں کرنے کی تجویز بھی پیش کی تھی۔اس تحقیق کے دوران ماہرین نے ٹیک اوے کھانے کے ڈبوں پر گوگلی آنکھیں چسپاں کرکے یہ جانچنے کی کوشش کی کہ آیا ان کا بھوکے سی گلز کیلئے کھانے کی کشش پر کوئی اثر پڑتا ہے یا نہیں۔حیرت انگیز طور پر تحقیق میں معلوم ہوا کہ آنکھوں کی موجودگی سے سی گلز بدک جاتے ہیں۔ وہ ایسے ڈبوں کی طرف نسبتاً دیر سے بڑھتے اور ان پر چونچ مارنے سے بھی گریز کرتے ہیں۔
تحقیق کی مرکزی مصنف ڈاکٹر لورا کیلی نے ''دی کنورسیشن‘‘ کیلئے لکھے گئے ایک مضمون میں وضاحت کی کہ بہت سے جانور، خواہ جنگلی ہوں یا پالتو، آنکھوں کی موجودگی کے بارے میں خاصے حساس ہوتے ہیں۔ آنکھیں کسی شکاری کی موجودگی کی علامت ہوسکتی ہیں یا ارادے کے اظہار کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ براہِ راست آنکھوں میں دیکھنا اکثر جارحیت کا اظہار سمجھا جاتا ہے، جبکہ نظریں چرانا خطرہ نہ ہونے کی علامت ہوتا ہے۔ماہرین کے مطابق جانور عموماً اس وقت دفاعی ردعمل ظاہر کرتے ہیں جب انہیں محسوس ہو کہ کوئی آنکھیں گاڑ کر انہیں دیکھ رہا ہے۔
سی گلز کو دور رکھنے کے سائنسی طریقے
٭...سی گلز کو ڈانٹیں یا بلند آواز میں چلائیں۔
٭...زیبرا کی دھاریوں یا چیتے کی کھال جیسے نمایاں
اور متضاد ڈیزائن والے کپڑے پہنیں۔
٭...جو سی گلز بہت قریب آنے لگیں، ان سے آنکھوں
کا رابطہ برقرار رکھیں۔
٭...کھانا پیراسول، چھتری، چھت یا قریب قریب فاصلے
پر لگی جھنڈیوں کے نیچے بیٹھ کر کھائیں، یا دیوار سے پشت لگا کر کھائیں۔
٭...اپنا بیگ کبھی کھلا نہ چھوڑیں اور اس کی زِپ ضرور بند رکھیں۔
٭...محض تفریح کیلئے سی گلز کو کبھی کھانا نہ کھلائیں۔
٭...اپنے کھانے کے ڈبے یا پیکنگ پر گوگلی آنکھیں چسپاں کریں۔