ورلڈ ہارٹ ڈے:اپنے دل کی سنیں!
اسپیشل فیچر
ہر سال 29 ستمبر کو ورلڈ ہارٹ ڈے منایا جاتا ہے تاکہ دنیا بھر میں لوگوں کو دل کی صحت، امراضِ قلب کے خطرات اور ان سے بچاؤ کے طریقوں کے بارے آگاہ کیا جا سکے۔ دل انسانی جسم کا وہ اہم ترین عضو ہے جو زندگی کے ہر لمحے خون کو پورے جسم تک پہنچانے کا کام انجام دیتا ہے لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ جدید طرزِ زندگی نے دل کو مختلف بیماریوں کے خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔دنیا بھر میں امراضِ قلب انسانی اموات کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق 2022ء میں دنیا بھر میں تقریباً 19.8 ملین افراد امراضِ قلب کے باعث وفات پاگئے، جو عالمی سطح پر ہونے والی مجموعی اموات کا تقریباً 32 فیصد بنتا ہے۔ ان میں ہارٹ اٹیک ایک نمایاں وجہ ہے۔پاکستان بھی اس صورتحال سے مستثنیٰ نہیں۔ ملک میں بلند ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، موٹاپا، تمباکو نوشی، غیر متوازن خوراک اور جسمانی سرگرمی کی کمی جیسے عوامل امراضِ قلب کے خطرے میں اضافہ کر رہے ہیں۔
امراضِ قلب کی صورتحال
پاکستان میں غیر متعدی امراض صحت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق 2021 ء میں پاکستان میں تقریباًآٹھ لاکھ71 ہزار اموات غیر متعدی بیماریوں کے باعث ہوئیں جو مجموعی اموات کا تقریباً 52 فیصد تھیں۔ عالمی ادارہ صحت کے پاکستان ہائپرٹینشن پروفائل کے مطابق 2019ء میں پاکستان میں تقریباً ساڑھے چار لاکھ اموات امراضِ قلب سے ہوئیں۔ اسی سال امراضِ قلب سے ہونے والی اموات میں تقریباً 58 فیصد کا تعلق ہائی بلڈ پریشر سے جوڑا گیا۔ 2019ء کے ڈبلیو ایچ او کے اندازوں کے مطابق پاکستان میں 30 سے 79 سال کی عمر کے بالغ افراد میں ہائپرٹینشن کی عمر کے لحاظ سے معیاری شرح تقریباً 43 فیصد تھی جبکہ ہائپرٹینشن کے شکار افراد میں سے صرف تقریباً 11 فیصد کا بلڈ پریشر کنٹرول میں تھا۔یہ اعداد واضح کرتے ہیں کہ پاکستان میں امراضِ قلب کے مسئلے کا تعلق صرف علاج کی سہولیات سے نہیں بلکہ بیماری کے بنیادی خطرے کے عوامل سے بھی ہے۔ اگر ہائی بلڈ پریشر، کولیسٹرول، ذیابیطس، موٹاپے اور تمباکو نوشی جیسے عوامل پر بروقت قابو پایا جائے تو دل کے بہت سے مسائل سے بچاؤ ممکن ہے۔
بدلتا طرزِ زندگی، بڑھتے خطرات
امراضِ قلب عموماً اچانک پیدا نہیں ہوتے۔ کئی برسوں تک جاری رہنے والی غیر صحت مند عادات دل اور خون کی شریانوں کو بتدریج متاثر کرتی ہیں۔ ہماری روزمرہ زندگی میں جسمانی سرگرمی کم اور بیٹھنے کا دورانیہ زیادہ ہو گیا ہے جبکہ فاسٹ فوڈ، تلی ہوئی اشیا، میٹھے مشروبات، زیادہ نمک اور غیر متوازن خوراک کا استعمال عام ہوتا جا رہا ہے۔پاکستان میں ڈبلیو ایچ او کے STEPS سروے میں بھی امراضِ قلب سے متعلق متعدد خطرے کے عوامل سامنے آئے۔ پنجاب اور سندھ میں کیے گئے اس سروے کے مطابق تقریباً 19.7 فیصد بالغ افراد تمباکو استعمال کرتے تھے، 46 فیصد میں جسمانی سرگرمی ناکافی تھی جبکہ 96.5 فیصد افراد روزانہ پھلوں اور سبزیوں کی مطلوبہ مقدار سے کم استعمال کر رہے تھے۔اسی سروے میں تقریباً 26 فیصد افراد زیادہ وزن اور 14.9 فیصد موٹاپے کا شکار پائے گئے۔اگرچہ یہ اعداد پرانے سروے سے متعلق ہیں اور انہیں موجودہ پاکستانی آبادی کی تازہ شرح نہیں سمجھنا چاہیے تاہم یہ ہمارے طرزِ زندگی میں موجود اہم خطرات کی نشاندہی ضرور کرتے ہیں۔ دل کو محفوظ رکھنے کیلئے کیا کیا جائے؟
امراضِ قلب سے بچاؤ کا آغاز گھر سے ہو سکتا ہے۔ سب سے پہلے بلڈ پریشر کو باقاعدگی سے چیک کرنا چاہیے۔ ہائی بلڈ پریشر اکثر بغیر کسی واضح علامت کے موجود رہتا ہے اس لیے صرف سر درد یا چکر آنے کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔ اگر بلڈ پریشر مسلسل زیادہ آ رہا ہو تو ڈاکٹر سے مشورہ ضروری ہے۔اسی طرح کولیسٹرول اور خون میں شوگر کی مناسب وقفوں سے جانچ بھی اہم ہے۔ خاص طور پر درمیانی عمر کے افراد کو اپنی مجموعی صحت، وزن، بلڈ پریشر، شوگر اور کولیسٹرول سے باخبر رہنا چاہیے۔تمباکو نوشی ترک کرنا دل کی حفاظت کے لیے انتہائی اہم قدم ہے۔ ورزش کو روزمرہ زندگی کا حصہ بنانا چاہیے۔ روزانہ تیز قدموں سے چہل قدمی، سائیکلنگ، تیراکی یا کوئی دوسری مناسب ورزش دل کی صحت کے لیے فائدہ مند ہے۔خوراک میں بھی بنیادی تبدیلیاں ضروری ہیں۔ نمک، تلی ہوئی اشیا، بیکری مصنوعات، میٹھے مشروبات اور انتہائی پراسیسڈ خوراک کا استعمال کم کیا جائے۔ اس کے مقابلے میں سبزیاں، پھل، دالیں، ثابت اناج اور مناسب مقدار میں صحت مند پروٹین کو خوراک کا حصہ بنایا جائے۔اسی طرح صحت مند وزن برقرار رکھنا بھی اہم ہے۔ اضافی وزن ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس اور خون میں چکنائی سمیت متعدد خطرے کے عوامل کو بڑھا سکتا ہے۔دل کے دورے کی علامات ہر شخص میں ایک جیسی نہیں ہوتیں۔ سینے میں دباؤ یا درد، درد کا بازو، کندھے، کمر یا جبڑے تک پھیلنا، سانس پھولنا، اچانک پسینہ آنا، متلی یا غیر معمولی کمزوری اہم علامات ہو سکتی ہیں۔ایسی علامات کو صرف گیس یا بدہضمی سمجھ کر نظرانداز کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ ہارٹ اٹیک کا شبہ ہو تو فوری طبی امداد حاصل کرنا چاہیے۔ بروقت علاج زندگی بچانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔