مصنوعی ذہانت
اسپیشل فیچر
سائنس کی نئی رفتار اور محفوظ مستقبل کا سوال
مصنوعی ذہانت (AI) اب محض سوالات کے جواب دینے، تصاویر بنانے یا کمپیوٹر کوڈ لکھنے تک محدود نہیں رہی۔ یہ سائنسی تحقیقات، ادویات کی دریافت، سیمی کنڈکٹر ڈیزائن اور خود AI کی ترقی کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔ جدید AI ماڈلز نہ صرف انسانوں کے ساتھ مل کر تحقیق کر رہے ہیں بلکہ ایسے مرحلے کی طرف بھی بڑھ رہے ہیں جہاں وہ تجربات، کوڈنگ، مسئلہ حل کرنے اور تحقیقی کام کے بعض مراحل کو نسبتاً خودمختاری سے انجام دے سکیں گے۔سائنسی جریدے Nature میں شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں OpenAI کے چیف ریسرچ آفیسر مارک چن نے AI کے مستقبل، سائنسی تحقیق میں اس کے استعمال، ماڈلز کی حفاظت اور خود کو بہتر بنانے والی مصنوعی ذہانت کے امکانات پر گفتگو کی۔ ان کے خیالات اس تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا کی ایک اہم جھلک پیش کرتے ہیں۔
تحقیق کے طویل عمل کو مختصر کرنے کی کوشش
سائنسی تحقیق ایک طویل اور محنت طلب عمل ہے۔ کسی نئی دوا کی تیاری میں سائنسی لٹریچر کا مطالعہ، ممکنہ اہداف کی شناخت، تجربات، ڈیٹا کا تجزیہ اور متعدد مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ بعض اوقات ابتدائی تحقیق ہی میں ہفتوں یا مہینوں کا وقت صرف ہو جاتا ہے۔مارک چن کے مطابق AI کا ایک اہم کردار اس عمل کو تیز کرنا ہو سکتا ہے۔ ان کے خیال میں AI ماڈلز لٹریچر ریویو، تحقیقی پراجیکٹس اور ممکنہ اہداف کی تلاش جیسے کاموں میں انسانی محققین کی مدد کر سکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ سائنسدان غیر ضروری ہو جائیں گے بلکہ یہ کہ انہیں معمول کے محنت طلب کاموں سے کچھ حد تک نجات مل سکتی ہے اور وہ زیادہ پیچیدہ سائنسی سوالات پر توجہ دے سکیں گے۔AIکے استعمال کا دائرہ ادویات تک محدود نہیں سیمی کنڈکٹرز کی ڈیزائننگ اور تیاری میں بھی مصنوعی ذہانت کو استعمال کیا جا رہا ہے۔ریاضی بھی AI کے لیے ایک اہم میدان بن چکی ہے۔
AI، افادیتکے ساتھ نگرانی بھی ضروری
مصنوعی ذہانت جتنی زیادہ طاقتور ہوتی جا رہی ہے اس کی حفاظت کا سوال بھی اتنا ہی اہم ہو رہا ہے۔ AI کے بارے میں ایک بنیادی خدشہmisalignment ہے، یعنی ایسی صورت حال جس میں AI نظام کے مقاصد یا رویے انسانی اقدار اور مقاصد سے مطابقت نہ رکھتے ہوں۔مارک چن کے مطابق AI کی حفاظت کے لیے متعدد طریقے اختیار کیے جا رہے ہیں لیکن ان کے نزدیک مستقبل کے لیے ایک اہم حل monitoring ہے۔ ان کے مطابق ایک AI ماڈل دوسرے AI ماڈل کے اندرونی عمل کی نگرانی کر کے یہ شناخت کرنے میں مدد دے سکتا ہے کہ وہ کسی کام کو کس انداز سے انجام دے رہا ہے۔ عام طور پر AI کسی سوال کا جواب دینے سے پہلے اندرونی طور پر متعدد مراحل سے گزرتا ہے۔ جوں جوں ماڈلز زیادہ طاقتور ہوتے جائیں گے ان کے کام کی پیچیدگی اور مطلوبہ کمپیوٹنگ بھی بڑھ سکتی ہے۔ اس صورت میں صرف آخری جواب کی نگرانی کافی نہیں ہوگی؛ محققین کو یہ جاننے کے نئے طریقے تلاش کرنا ہوں گے کہ ماڈل کے اندر کیا ہو رہا ہے۔یہ چیلنج AI کی ترقی کے ساتھ مزید اہم ہو سکتا ہے کیونکہ زیادہ خودمختار نظاموں میں غلطی، غیر متوقع رویے یا غلط سمت میں پیش رفت کی صورت میں بروقت نگرانی ضروری ہوگی۔
خود کو بہتر بنانے والا AI
AI کی ترقی کا ایک انتہائی اہم مرحلہ وہ ہو سکتا ہے جب AI ماڈلز مستقبل کے زیادہ طاقتور AI ماڈلز کی تیاری میں خود مدد کرنے لگیں۔OpenAIکی موجودہ کوششوں میں ایک تصورresearch intern کا ہے۔ اس تصور کے تحت AI ایجنٹ کو محدود اور واضح دائرہ کار میں تحقیقی کام دیا جا سکتا ہے مثلاً بنیادی تجربات کرنا، کوڈ میں خرابی تلاش کرنا یا کسی تحقیقی عمل کے مخصوص حصے کو جانچنا۔ یہ پیش رفت اس بات کی علامت ہے کہ AI مستقبل میں صرف تحقیق کا معاون نہیں بلکہ تحقیق کے عملی عمل کا ایک فعال حصہ بھی بن سکتا ہے۔اس سے ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ AI خود تحقیق کرنے لگے تو اسے یہ کیسے سکھایا جائے کہ کون سا سوال اہم ہے، کون سا تجربہ وقت اور وسائل کے قابل ہے اور کون سا خیال آگے بڑھانے کے قابل نہیں؟
مستقبل کے AI کے لیےنئی صلاحیت
AI تحقیق کے مستقبل کے حوالے سے مارک چن نےresearch taste کاتصور پیش کیا۔ اس سے مراد یہ سمجھنے کی صلاحیت ہے کہ کون سے خیالات قابلِ تحقیق ہیں، کون سا مسئلہ زیادہ اہم ہے اور محدود وسائل کو کس سمت میں استعمال کیا جانا چاہیے۔ سائنسدان برسوں کے تجربے، علم، مشاہدے اور ناکامیوں سے یہ صلاحیت حاصل کرتے ہیں۔ ایک تجربہ کار محقق اکثر کسی نئے خیال کو دیکھ کر اندازہ لگا سکتا ہے کہ اس میں حقیقی سائنسی امکانات موجود ہیں یا نہیں۔ AI کے لیے ایسی بصیرت پیدا کرنا ایک مشکل مگر اہم مرحلہ ہوگا۔اگر مستقبل کا AI صرف تجربات چلانے کے بجائے تحقیقی سوالات منتخب کرنے، مفروضے تشکیل دینے، نتائج کا جائزہ لینے اور نئے راستے تجویز کرنے کے قابل ہو گیا تو سائنسی تحقیق کی رفتار میں نمایاں تبدیلی آ سکتی ہے۔تاہم اس ترقی کے ساتھ انسانی نگرانی، شفافیت اور سائنسی اصولوں کی اہمیت کم نہیں بلکہ زیادہ ہوگی۔ AI کو سائنس کا متبادل بنانے کے بجائے ایک ایسا طاقتور آلہ بنانے کی ضرورت ہوگی جو انسانی محققین کی صلاحیتوں میں اضافہ کرے۔