حساب سے باہر
اسپیشل فیچر
ہم نے اپنے عہد میں ہر چیز کا حساب سیکھ لیا ہے؛ سوائے اس قیمت کے جو حساب رکھنے کی عادت ہم سے وصول کرتی ہے۔روپے کا مصرف پوچھا جاتا ہے، عمر کا نہیں۔ کاروبار میں ڈوبی ہوئی رقم مدتوں یاد رہتی ہے، کاروبار بچاتے ہوئے جو آدمی اپنے اندر ڈوب گیا، اس کا ذکر کسی گوشوارے میں نہیں آتا۔ بازار کی مندی پر ہمیں تشویش ہوتی ہے، اپنی طبیعت کی مندی کو ہم مصروفیت کہہ کر ٹال دیتے ہیں۔رفتہ رفتہ مصروفیت اتنی معتبر ہو جاتی ہے کہ اس کے سامنے ہر شکایت بے محل معلوم ہونے لگتی ہے۔
باپ کچھ کہنا چاہتا ہے، مگر بیٹے کی میٹنگ ہے۔ بچہ اپنی ڈرائنگ دکھانا چاہتا ہے، مگر باپ فون پر ہے۔ بیوی کئی دن سے ایک بات مناسب وقت کے انتظار میں رکھے ہوئے ہے۔ گھر میں سب کے پاس گھڑیاں ہیں مناسب وقت کسی کے پاس نہیں۔اور جس شخص کے پاس وقت نہیں، وہ یہ سب کچھ انہی لوگوں کیلئے کر رہا ہے۔''میں تمہارے لیے ہی تو کما رہا ہوں‘‘۔اس جملے کے بعد گھر میں بہت سی باتیں کہی نہیں جا سکتیں۔ روٹی کی ضرورت اپنی جگہ قائم رہتی ہے، مگر ساتھ بیٹھ کر کھانے کی خواہش شرمندہ ہو جاتی ہے۔
رزق کی مشقت کا انکار کون کرے؟ فیس کی آخری تاریخ فلسفہ نہیں سنتی۔ دوا فروش کو مریض سے محبت کا یقین دلا کر دوا نہیں لی جا سکتی۔ تنگ دستی میں آدمی کی نیند ہی نہیں، بعض اوقات اس کا لہجہ بھی گروی ہو جاتا ہے۔ اس لیے آسودہ کرسی پر بیٹھ کر تھکے ہوئے آدمی کو قناعت کا درس دینا آسان ہے، اس کے مہینے کے آخری چار دن گزارنا مشکل۔مگر کمائی کی اس ناگزیریت میں ایک سوال پھر بھی باقی رہتا ہے: ضرورت پوری ہونے کے بعد بھی ضرورت کا لہجہ کیوں باقی رہتا ہے؟
ہم میں سے بعض لوگ مدت ہوئی محتاجی سے نکل آئے، مگر محرومی سے نہیں نکلے۔ اب انہیں روٹی کی کمی نہیں ستاتی، یہ بات ستاتی ہے کہ دوسرے کی میز پر کیا رکھا ہے۔ وہ اپنے گھر میں رہتے ہیں، لیکن اپنی آسودگی کا پتہ پڑوسی سے پوچھتے ہیں۔
حساب کی ایک اور باریکی ہے۔ آدمی جب دینے لگتا ہے تو کبھی کبھی اس کے اندر ایک نادیدہ منشی بیٹھ جاتا ہے۔ وہ رقم ہی نہیں لکھتا، لہجے بھی درج کرتا ہے۔ کس نے کتنا شکریہ ادا کیا، کس نے کتنی بار فون کیا، کس نے محفل میں ہمارا ذکر کس انداز سے کیا۔محبت کے حساب میں اکثر خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ہم اپنی قربانی کو دوسرے کی اطاعت کی دلیل بنا لیتے ہیں۔ پھر محبوب کی الگ رائے بے وفائی معلوم ہوتی ہے اور اولاد کا اپنا راستہ ناشکری۔ ہم رشتے کو بچانے نکلتے ہیں، مگر راستے میں اس کی گنجائش چھین لیتے ہیں۔اپنا حساب دیکھنے کے لیے صرف یادداشت کافی نہیں؛ انصاف بھی چاہیے۔ ورنہ ہمیں اپنی دی ہوئی رقم تو یاد رہے گی، دوسرے کی بچائی ہوئی عزت نہیں۔ اپنا انتظار یاد رہے گا، کسی اور کی وہ خاموشی نہیں جس نے ہماری بات کا پردہ رکھا تھا۔