طنز و مزاح:کرسی
اسپیشل فیچر
کرسی اورانسان میں اس لیے چولی دامن کا ساتھ ہے کہ کرسی میں چار پائے ہوتے ہیں۔ انسان بھی چوپایہ ہے۔ اس مماثلت کی وجہ سے انسان کی بہت سی فضیلتیں کرسی میں بھی پائی جاتی ہیں۔ مثلاً آدمی تنگ دل سے سنگ دل تک ہو جاتا ہے، جبکہ کرسی کے سرے سے دل ہی نہیں ہوتا۔ انسان میں وفا کا بھی مادّہ ہے، لیکن کرسی اس کوچے سے آشنا تک نہیں۔
کرسیاں بھانت بھانت کی ہوتی ہیں۔ جن میں سب سے متاثر کن کرسی حجام کی ہوتی ہے۔ یہ بالکل لائبریرین کی کرسی کی طرح بلند و بالا ہوتی ہے جس تک پہنچنے کیلئے انتظار یہ کرسی پر بیٹھنا ہوتا ہے۔ حجام کی کرسی بڑی شاندار ہوتی ہے، بالکل کسی راجہ مہاراجہ کی کرسی کی پیروڈی معلوم ہوتی ہے، جس پر شان سے ٹیک لگا کر بیٹھتے ہی حجام کی ڈبل قینچی چلنے لگتی ہے۔ ایک اس کے ہاتھ کی، دوسری زبان کی۔ اس کرسی کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ حجامت کے ساتھ ساتھ آٹے دال کا بھائو بھی معلوم ہوتا رہتا ہے۔ زمانے نے آپ کے ساتھ جو بھی سلوک کیا ہو، یا اس وقت پر جو بھی گزر رہی ہو۔ اس پر آپ حجام کے آئینے میں مسکرا بھی سکتے ہیں۔
حجامت کے بعد رہی سہی کسر ڈاکٹر کے یہاں نکل جاتی ہے۔ سب سے اہم کرسی وہ ہوتی ہے جو ڈاکٹر کے سامنے رکھی ہوتی ہے۔ یہ فاصلہ مریضوں اور تیمار داروں کو درمیانی کرسیوں کی مدد سے کھسک کھسک کر طے کرنا ہوتا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ اگر ڈاکٹرکی کرسی کسی کو زندہ اٹھادے تو اسے وکیل کی کرسی کا سامنا کرنا ہوتا ہے۔ اس سے زیادہ دائوں پیچ کی کرسی ابھی تک دریافت نہیں ہو سکی ہے۔ اسی لیے اونٹ کی طرح اس کی کوئی کل سیدھی نہیں ہوتی۔ کسی بھی کچہری میں کسی درخت یا ٹین کے سائے میں یہ زمانے کا چھپر اٹھائے رہتی ہے۔ ایسی کرسی پر شاید یتیم خانے ہی میں نظرآئے۔ جس پر تعجب اس لیے نہ کرنا چاہیے کہ یتیم خانے اور یتیم، زیادہ تر وکیل ہی بناتے ہیں۔ اس کرسی پر زمانے کے ان جنّات کا ستایا ہوا موکل بھی بیٹھ سکتا ہے۔ مثل مشہور ہے کہ وکیل سے ہارے کو پھانسی کی کرسی پر ہی پناہ ملتی ہے۔
پھانسی کی کرسی آٹومیٹک ہوتی ہے۔ ایک ہی جھٹکے میں اپنے نشیں کو پار لگا دیتی ہے۔ یہ اتنی شان دار ہوتی ہے کہ پھر گورکن کو کسی کرسی کے استعمال کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ کرسی تو وہ اس پر بھی استعمال کرتا مگر ابھی ہمارے یہاں گورکن کی کرسی ایجاد نہیں ہوئی۔ یورپی گورکن مردے کو ٹھکانے لگانے تک میں کرسی کا استعمال کرلیتے ہیں، لیکن کرسی برآمد نہیں کرتے۔ غیر ملکی مبادلہ زر کی اگر کمی نہ ہوتی تو یہاں بھی بذریعہ کرسی تدفین کی صورت پیدا ہوچکی ہوتی۔
دنیامیں شورگورکن کا نہیں افسر کی کرسی کا ہے۔ افسری والی کرسی تک آدمی گھسٹ گھِسٹ کر پہنچتاہے لیکن اگر آدمی خاندانی ہے تو اس پر کود کر یا چھین کر بھی بیٹھ سکتا ہے۔ ایگزیکٹو چیئر افسر کے عہدے اور سائزکے مطابق ہوتی ہے۔ ہوم سکریٹری اور تھانیدار کی کرسی میں وہی فرق ہوتا ہے جو شیر اور بلی میں ہے۔ چوہوں کیلئے بلی بھی شیر ہے مگر شیرتو شیر کیلئے بھی شیر ہی ہوتا ہے۔
انتہائی غیر محفوظ کرسیاں وزیروں کی ہوتی ہیں۔ بالکل دندان ساز اور کھٹمل والی کرسی کی طرح۔ دندان سازکی کرسی پر بیٹھنے کا مطلب ہی بتیسی سے ہاتھ دھو لینا ہوتا ہے۔ یہ کارروائی قسطوں میں بھی ممکن ہے۔